معاشرے میں مذہب اور خوف کا تعلق


 \"\"موضوع ایسا ہے کہ لکھنے کا خیال کوئی تین ماہ قبل آیا۔ چند اک یار دوستوں سے اس خیال کو مزید نکھارنے کی خاطر گفت و شنید کی تو ہر اک نے کہا کہ مت لکھو، کیوں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہیں، بلکہ اپنا چہرہ مارتے ہو؟ ان کے ایسے کہنے نے بھی مزید سوچنے پر مجبور کیا کہ مذہبی معاملات میں ہمارے سماج میں تشدد کا خوف کیونکر اور کب سے ہے، اور کیا یہ خوف اسلام کے اولین دنوں میں بھی معاشرے میں رائج تھا؟ سوچ کا اک زاویہ یہ بھی وا ہوا کہ ایسا کیوں ہے کہ دنیا کے ہر مذہب یا دین کے ساتھ سماجی حوالہ جات میں سوال کرنے پر عمومی تشدد کا ہی خوف جڑا ہوا ہے۔ درست ہے کہ دنیا کے چند اک معاشروں نے خود کو مذہب کے ساتھ جڑے سماجی تشدد کے خوف سے آزاد کر لیا ہے، مگر خوف سے اس آزادی کی وجہ خود مذہب نہیں، بلکہ ان معاشروں میں ذرائع پیداوار کی بنیاد پر بننے والی اک معیشت، اور پھر اس معیشت کی بنیاد پر بننے والے اک سیاسی نظام کی تقویت اس آزادی کی وجوہات بنے۔ عام الفاظ میں اس معیشت کو فری مارکیٹ اکانومی اور اس سیاسی نظام کو جمہوریت کہتے ہیں!

 یہ بھی مگر درست ہے کہ دنیا کے ان آزاد معاشروں میں کہ جہاں مسیحیت (عیسائیت غلط العام ہے) مروج ہے، وہاں مسیحیت کا ماضی بھی اتنا شاندار نہ رہا۔ مسیحیت کے علاوہ اگر آپ اک آزاد اور طائرانہ جائزہ لیں تو دنیا کے تقریبا تمام مذاہب کے ماننے والوں نے اپنی اپنی تاریخ میں تشدد کا سہارا لیا اور اسکا عکس تاریخ پر اک بہت بنیادی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی دیکھ سکتا ہے۔

 مزید سوچا تو اک بہت لطف آمیز حقیقت کھل کر سامنے آئی، جو آج آپ سب کے سامنے رکھتا ہوں کہ شاید اس سے سوچ کا کوئی دروازہ کھلتا ہو۔ حقیقت میرے دوستو یہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب، چاہے وہ آسمانی تھے، یا انسانی تخلیق تھے (ویسے جن مذاہب کو ہم انسانی تخلیقات کہتے ہیں، ان کے ماننے والے انہیں آسمانی ہی کہتے ہیں)، اپنی ابتدا میں نہ صرف بالکل متشدد نہ تھے، بلکہ تشدد کے مخالف بھی تھے۔ تمام مذاہب کی اصل یہی ہے، دوستو۔ مذاہب بھلے Biblical تھے، یا Non-biblical ان کی ابتدا میں ان کے پیغمبران کے ساتھ سوال، جواب، اور ان پیغمبران کے ساتھ سماج میں آس پاس کے لوگوں کے چبھتے ہوئے رویوں کے حوالے سے اک لمبی تاریخ ملتی ہے کہ جس میں گو کہ کچھ عقیدت کی محبت کی دروغ گوئی بھی بھلے شامل ہو، مگر تمام مذاہب کے لانے والوں سے نہ صرف ان کے ماننے و چاہنے والوں، بلکہ ان کے مخالفین کو بھی کبھی کوئی خوف محسوس ہوا نہ ہی نقصان کا اندیشہ رہا۔

 اب ذرا دل پرہاتھ رکھ کر تو سوچیئے اور بتائیے کہ حال کی گھڑی میں معاملہ کیا ہے؟

 مذہب کی تقدیس سے جڑے سماجی خوف نے سوچ کے بھنور میں ڈالے رکھا تو اک بہت لطف دینے والی حقیقت آشکار ہوئی، جو آپ سب کی نذر کیے دیتا ہوں۔ یہ حقیقت میری سوچ پر مبنی ہے اور اس سے اختلاف آپ کا بنیادی اور بھرپور حق ہے۔

 تو صاحبو، کہنا یہ ہے کہ جن بڑے مذاہب کو ہم جانتے ہیں جیسا کہ قرانِ مبارکہ میں یہودیت، مسیحیت، اسلام ہیں، اور دیگر گفتگو میں ہندوازم اور بدھ ازم وغیرہ، ان کے پیغمبروں سے ان کے زمان و مکاں میں رہنے والے لوگوں کے کیا معاملات تھے؟ کیا لوگ ان بڑے مذاہب کے پیغمبران سے خوفزدہ تھے؟ کیا ان کے ماننے والے ان کی تقدیس میں ان کے سامنے مسلسل جھکے رہتے تھے؟ کیا ان کے مخالفین اپنے درمیان ان کے موجودگی سے مسلسل خوفزدہ تھے؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیؑ، اور حضرت محمدﷺ سے ان کے ماننے والوں نے ان سے سوال جواب نہ کیے، ان سے معاملات میں اونچ نیچ نہ کی، ان سے دنیاوی امور میں اختلاف نہ کیا؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ ان عظیم پیغمبران کی موجودگی سے سماج و معاشرے میں خوف اور تشدد کی فضا قائم رہی؟ اور کیا کبھی ایسا ہوا کہ ان عظیم پیغمبران نے، نعوذ باللہ، ذاتی پسند، ناپسند اور مذہبی و سماجی اختلافات کی بنیاد پر اپنے مخالفین کو گردن زدنی جانا؟

 مجھے تو ان سوالات کا جواب معلوم ہے، آپ بھی اپنی طرف کچھ سوچئیے۔

 بات اختتام کی جانب لے کر جاتا ہوں۔ معاملات میرے دوستو، وہاں سے خراب ہونا شروع ہوتے ہیں جب ان عظیم پیغمبران کے دنیا سے پردہ کر جانے کے بعد، ان کے ماننے والوں کے مابین اپنے زمان و مکاں میں سیاسی و معاشی طاقت کے حصول کے اختلافی معاملات نے سر اٹھایا۔ ہر اک کہ جو کسی بھی حوالے سے کچھ سماجی، قبائلی،سیاسی، معاشرتی و معاشی طاقت کا حامل تھا، اس نے اپنی طاقت کے مدار کے دوام کے خواب کی تلاش میں مذہب کی تقدیس کے پرچارکوں کے ساتھ مل کر مذاہب و ادیان کے ارد گرد تقدس کا اک ایسا ہالہ بُنا کہ جس نے اپنی اصل میں اس تقدیس کی \”مارکیٹنگ\” کرنے والوں کی سیاسی و معاشی طاقتوں کا مستقل تحفظ کیا۔ مذاہب و ادیان میں سے جب سوالات اٹھانے اور جوابات کھوجنے کی روایات نکلتی چلی گئیں تو سینیگاگ اور سینیٹ کے مفادات اک ہو گئے، کلیسا اور ریاست کے مفادات اک ہو گئے، مسجد اور محل کے مفادات اک ہو گئے اور ان مفادات کا تحفظ مذہب و دین کے تقدس کے نام پر کیا جانے لگا، اور یہ پرانا سلسلہ تاہم جاری ہے، اور کم از کم میری زندگی کے باقی ماندہ سارے عرصے میں اسکے جاری رہنے کے ہی امکانات نظر آتے ہیں۔

 آج تمام مذاہب اور ان مذاہب کے نمائندوں کی سیاسی و معاشی حقیقتیں ہیں۔ ان حقیقتوں کے تحفظ کی خاطر اک تقدیسی خوف ہے کہ جس میں معاشرے میں بسنے والے عام انسان مناسب ترین پیرائے میں بھی سوال اٹھانے سے خوفزدہ ہیں۔ چونکہ پاکستان اک اکثریتی اسلامی ملک ہے تو آخری سوال چھوڑے جاتا ہوں: کیا میرے آقا محمد مصطفےٰﷺ کے دور میں ان کے لائے ہوئے دین کے معاملہ سوال جواب پر ایسے ہی تشدد اور اختلاف پر ایسی ہی مار دھاڑ کا خوف تھا؟

 کیا خوف اپنی اصلیت میں کبھی تھا بھی؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔