دیوتا مصنف اور سپنے سہانے لڑکپن کے


phpThumb_generated_thumbnailلیجئے محی الدین نواب بھی گزر گئے۔ ان کی ایک کہانی ابھی بھی چل رہی ہے سسپنس میں ’ماروی‘ کے نام سے۔
میرے ایک کزن علی رضا بھائی کو محی الدین نواب صاحب کی دیوتا پڑھ پڑھ کے ٹیلی پیتھی کا شوق چرایا۔ موصوف دن رات موم بتی جلا کے نظریں گاڑے بیٹھے رہتے اور خالہ سے جوتے کھا کے بھی باز نہ آتے۔
ایک دن ان کی اور ایک دوسرے کزن سعد بھائی کی شرط لگ گئی کہ پہلے کون کامیابی حاصل کرتا ہے۔ چند ہی دن گزرے تھے کہ ہم تایا جی کے گھر گئے تو کئی ٹوٹے ہوئے برتن بھانڈے اور ایک عدد لنگڑی میز دکھائی دی۔
ہم نے ہوچھا یہ سب کیسے ہوا؟ فرمانے لگے اپنی آنکھوں کے زور پر توڑا ہے۔ ہم سخت متاثر ہوئے۔
لیکن ’اصل کامیابی‘ علی رضا بھائی کو ہی نصیب ہوئی۔ کہ ایک دن موم بتی کو گھور گھور کے بالائی منزل سے نیچے اترے۔ کچن میں بہن دوری ڈنڈے (ہاون دستے) میں کچھ کوٹ رہی تھی۔ ایک نظر دیکھا تو دوری ٹوٹ گئی۔ چلا چلا کے گھر سر پہ اٹھا لیا کہ میں کامیاب ہو گیا۔ خوشی کے مارے سب چھوٹے بہن بھائیوں اور کزنز کو دو دو چپیڑیں (چانٹے) رسید کیں۔
اشتیاق احمد ایک اور مقبول مصنف تھے جنہیں گزرے تھوڑے ہی دن ہوئے۔ پنڈ (گاؤں) میں جس لڑکے لڑکی کو عینک لگ جاتی سمجھا جاتا کہ اشتیاق احمد کو پڑھ پڑھ کے اندھے ہوئے ہیں۔
اپنا یہ حال تھا کہ سڑک سے گزرتے ہوئے اگر کوئی گاڑی ایک سے دوسری دفعہ دکھائی دے جاتی تو ہم اس میں جاسوسی پہلو ڈھونڈنے لگتے۔ کبھی ایک چھت سے دوسری چھت پر چھلانگنے کی کوشش کرتے۔ کبھی منڈیر پر آنکڑہ ڈالا جاتا۔ کبھی دیوار چڑھنے کی کوشش۔
ہم سب کزنز نے ایک دوسرے کے نام بھی کرداروں کے ناموں پر رکھ چھوڑے تھے۔ محمود، فاروق، فرزانہ، آفتاب سلاٹر، لی کاف، سی مون وغیرہ۔
ایک گرمیوں کی چاندنی رات کا ذکر ہے خالہ کے گھر چور گھس آئے۔ ساری فیملی گرل کے اندر برآمدے میں سو رہی تھی۔ خالہ کی بیٹی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ چپکے سے اٹھیں۔ کمرے سے ریوالور اٹھایا اور سیدھا چوروں کے سر پہ پہنچ گئیں۔ چوروں کو مور پڑے تو سر پر پاؤں رکھ کے بھاگ کھڑے ہوئے۔
بعد میں وہ فخریہ بتانے لگیں کہ یہ ایڈونچر کرتے ہوئے میں نے خود کو فرزانہ تصور کیا تھا۔
آہ۔۔۔۔ بچپن اور لڑکپن کی کمینی یادیں۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “دیوتا مصنف اور سپنے سہانے لڑکپن کے

  • 13-02-2016 at 12:20 am
    Permalink

    Hahaha bahut aala

  • 13-02-2016 at 1:18 pm
    Permalink

    دیوتا کے علاوہ سسپنس ڈائجسٹ کے آخری صفحات بھی اکثر محی الدین نواب کے ہی مرہونِ منت رہے- ان صفحات پر احمد اقبال اور علیم الحق حقی کے علاوہ ڈاکٹر ساجد امجد کی تحاریر بھی ملتی تھیں- لیکن جو لطف علیم الحق حقی اور نواب صاب کو پڑھ کر ملتا تھا اس کا جواب نہیں- اللہ دونوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرماۓ-
    ایک دلچسپ پیراۓ میں لکھی تحریر پر مبارک باد قبول کیجئے –

  • 13-02-2016 at 1:30 pm
    Permalink

    Nostalgia! Nostalgia! Lovely piece.

  • 13-02-2016 at 4:00 pm
    Permalink

    بہترین
    یقین مانییں مجھے بھی چشمہ اشتیاق صاحب کو پڑھ کر لگا ہے۔

Comments are closed.