خورشید ندیم صاحب کی تحریر کے جواب میں – حصہ دوم


\"\"

گزشتہ حصے میں خورشید ندیم صاحب کی تحریر میں نفسیات و مذہب کی مشترکہ مابعدالطبیعی اساس کا جائزہ لیا گیا اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ جدید علم نفسیات اپنے موضوع اور منہاج کے اعتبار سے عملی اور سائنسی شعبہ ہے اور اس حوالے سے اٹھاوریں صدی کی عقلی و مابعد الطبیعی نفسیات سے بالکل مختلف ہے۔ اس حصے میں ان کی تحریر کے بقیہ دو نکات یعنی مذہبی تجربہ اور فرد کی عقلی، فکری و تہذیبی میں مذہب کے بطور معاون ہونے کا جائزہ شامل ہے۔

گزشتہ تحریر میں اس امر کی وضاحت کی گئی کہ عصری دینیاتی فکر میں مذہبی تجربے کی طرف اتنی شدومد سے دھیان دینے کی رسم کیوں جاری ہوئی تاہم فی الوقت ہم مذہبی تجربے کے حوالے سے موجود اہم آرا کو سامنے رکھتے ہوئے، اس بحث کی چند لازمی منطقی حدود کا تعین کر نے کی کوشش کریں گے۔

مذہبی تجربہ محض کیفیت نہیں ہے بل کہ اس کے ساتھ ساتھ اس تجربے میں کسی نہ کسی صورت میں اس کیفیت کے خارجی ماخذ کو حقیقی طور پر موجود سمجھنے کا احساس بھی شامل ہے۔ خالص مذہبی تجربے میں یہ ماخذ مذہبی شان کا حامل ہوتا ہے، جب کہ روحانی یا متصوفانہ تجربے میں یہ ماخذ محض مذہبی نہیں ہوتا بل کہ کوئی کلی اصول یا کیفیت بھی ہو سکتی ہے۔ شاعر یا ادیب کا تجربہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے، جب اسے اپنا خیال اتنی شدت سے محسوس ہوتا ہے، کہ وہ اسے حقیقی انداز میں خارجی سطح پر محسوس کرتا ہے۔ عربوں میں روایت تھی کہ وہ شعرا کو کسی جن کے ماتحت سمجھتے تھے، جس کے زیراثر شاعر سے کلام سرزد ہوتا تھا۔ مذہبی، روحانی اور ادبی تجربہ کیفیتی اعتبار سے مماثل ہیں اور یہ امر لازمی طور ان تمام تجربات کی تعریف میں شامل ہے، کہ تجربے سے گذرنے والے فرد کے باطن میں، اپنے تجربے کے ماخذ کو خارجی اور حقیقی انداز میں موجود سمجھنے کا احساس پیدا ہو۔ یہاں ”تجربے“ کی اصطلاح ہی اسی لیے استعمال کی جاتی ہے کہ ذہن یا نفس کا، کسی خارجی ماخذ کے ساتھ اتصال یا interaction پایا جائے اور اس کی شدت ایسی ہو کہ وہ ماخذ ذہن کو حقیقی محسوس ہو۔ خورشد ندیم صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ بجا طور اس طرف اشارہ بھی کیا ہے، جہاں انھوں نے فنون لطیفہ کی ذیل میں فرمایا، ”یہ وجد غیر مرئی ہے لیکن اس کے وجود سے انکار محال ہے۔ احساس کی یہی قوت جب لطیف تر ہوتی ہے تو انسان خدا کو محسوس کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔ “ اس غیرمرئی وجد کو محسوس کرتے ہوئے اس کے انکار کا محال ہونا ہی ایسے تجربے کی شرط ہے۔

تاہم اس تجربے کی تحلیل سے صورت احوال مزید پے چیدہ ہوجاتی ہے۔ روحانی و متصوفانہ اور ادبی وتخلیقی تجربے، اگرچہ نفسی کیفیت کی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کے ماخذ کی نوعیت مذہبی تجربے کے ماخذ سے بالکل جدا ہے۔ ہمارے یہاں عموما یہ رواج ہے کہ ان متنوع تجربات کو ایک ہی سانس میں گنوا کر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گویا کسی ایک پر بھی سوال کرنا ان تمام تجربات کو مشکوک جاننے کے برابر ہے۔ اقبال نے اپنے خطبات میں ہر چند مذہبی تجربے کو ادبی اور صوفیانہ تجربے سے الگ کیا ہے، تاہم وہ بھی صرف اس تجربے کی ہمہ گیر عظمت کے اعتبار سے۔ اس کے سوا انھوں نے بھی ان متنوع تجربات کی امتیازی مشکلات کا جائزہ نہیں لیا۔ یہ سارے تجربات انفرادی ہوتے ہیں اور جس پر گذر رہے ہوں، اس کے سوا انھیں کوئی جان نہیں سکتا۔ لہذا ان کے اولین مشکل ان کا ابلاغ ہے۔ بلاشبہ یہ تجربات حسِ لطیف کے آئنہ دار ہیں، تاہم بقول غالب لطافت بھی بے کثافت جلوہ پیدا نہیں کر سکتی۔

اقبال نے اسی مشکل کے پیش نظر وہ مذہبی تجربہ جس پر اسلام کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، اسے ان تہذیبی رجحانات میں تلاش کرنے کی تلقین کی جو اسلامی معاشرے کو تخصیصی طور پر تشکیل دیتے ہیں۔ اقبال کے خیال میں مذہبی تجربے کی لطافت اور اس کی نفسی و باطنی شدت ہی دین کی بنیاد ہے۔ تاہم پیغمبروں کے مذہبی تجربے کی قدر و قیمت ان اداروں اور رجحانات کے ذریعے ڈھونڈی جائے، جو ان کی وحی کی بنیاد پر قائم معاشرے کو استوار کرتے ہیں۔ یہاں خورشید ندیم صاحب کا یہ نکتہ کہ مذہب کو ہرصورت پیغمبروں کے حوالے سے جانا جائے، اس گفت گو سے متعلق ہو جاتا ہے اور عصری مسلم دینیاتی فکر کا یہ تضاد نمایاں ہوجاتا ہے، کہ وہ ایک ہی وقت میں انفرادی اور لطیف موضوعی تجربے کو بنیاد بنا کر تاریخی و تہذیبی سطح پر اجتماعی طور پر استوار شدہ منظم مذہبی اداروں کی طرف نکل جاتی ہے۔

میرے موقف میں یہ وہی مابعد الطبیعی رجحان ہے، جہاں خیال کو اول قیاس کیا جاتا ہے اور پھر اس سے معروضی حقیقت تک پہنچا جاتا ہے۔ تاہم یہ تضاد اس فکر کی منطقی مجبوری ہے کیوں کہ انفرادی موضوعی مذہبی تجربہ نہ تو ابلاغ کیا جا سکتا ہے، نا ہی وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اسی قدر معروضی ہوتا ہے۔ تاہم اس کی بنیاد پر جو دعوی کیا جاتا ہے وہ کلی اور معروضی نوعیت کا ہوتا ہے، جس کی سچائی سب کے لیے یک ساں قرار پاتی ہے۔ خورشید صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ مذہب کے ضمن میں اگر کوئی غیر تخلیقی رد انسانی رجحان سامنے آتا ہے تو اس کی ذمہ داری مذہب کی نہیں بل کہ تفہیم مذہب پر ہے۔ ان کے خیال میں مذہبی فکر میں بہتری کے لیے ہمیشہ ماخذات سےروشنی لی جائے گی۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا پیغمبروں کے باطنی مذہبی تجربے سے ہمارا واسطہ براہ راست نہیں ہو سکتا اور ہمارے لیے اس تجربے کی معنویت درجہ بدرجہ کئی واسطوں اور اداروں سے ہو کر ہم تک پہنچتی ہے۔

یہی تاریخی تسلسل ہی ہمارے انفرادی مذہبی تجربات کا پیرایہ تشکیل دیتا ہے۔ ہمیں جو مذہب ملتا ہے وہ اس ”اصل“ مذہب کی کوئی نہ کوئی تفہیم ہی ہوتا ہے، جو پیغمبروں کے باطنی تجربے کو عمومی لسانی بنت کاری کے ساتھ اور موجود شعوری سطح پر پیش کرتا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ان تفہیمات کے مجموعے کے علاوہ اور کوئی ”اصلی“ مذہب کہیں وجود نہیں رکھتا۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کیا کسی ”شے“ کی تمام ممکنہ تفہیمات، ساری کی ساری ایک ہی وقت میں غلط ہو سکتی ہیں؟ یقینا ہمیں کسی ایک تفہیم کو درست ماننا ہوگا اور وہی تفہیم ہمیں اس مخصوص وقت میں اس ”شے“ کا حقیقی عکس معلوم ہوگی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خورشید صاحب کے مجموعی استدلال کی مشکل سامنے آتی ہے۔ مذہبی تجربہ اہم ہے لیکن اسے پیغمبروں کے حوالے سے جانا جائے۔ تاہم پیغمبر کے حوالے سے جاننے میں جو تاریخی و تہذیبی مراحل درپیش، تفہیم سازی کی روایت ان میں سے ہی ایک ہے۔ ان سے نہ صرف اس ذاتی تجربے کی لطافت پر زک پڑتی ہے، وہیں تمام خرابیاں بھی انھیں کے سر لادی جاتی ہیں۔ مذہب کو ماخذات کی روشنی میں جانا جائے تو اس لطیف موضوعی تجربے کا کیا جائے تو انفرادی سطح پر سب کے لیے مختلف ہے اور جس کے عنوان سے ساری بحث شروع کی گئی۔

انھوں نے ایک دل چسپ سوال یہ اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے اعلیٰ ترین اذہان نے تصوف میں پناہ ڈھونڈی اور فقہ و تصوف میں عدم توازن پیدا ہوا؟ دور وسطی کے تصوف بالعموم اور مسلم تصوف بالخصوص کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ مصری و یونانی فکر سے متاثر ہوا ہے۔ اس کی گواہی صوفیا کے متصوفانہ افکار کے ڈھانچے سے ملتی ہے، جو اس زمانے میں موجود یونانی فلسفے کی ماورائی و روحانی تشریحات سے از حد قریب ہے۔ اہل تصوف کا تنزلات کا تصور اس کی ایک مثال ہے۔ تصوف کے ایک عالمی تحریک ہونے کی وجہ سے، اس میں ذاتی کاوش اور انفرادی تجربات کی گنجائش زیادہ رہی ہے اور گونا گوں رجحانات اس میں باہم موجود ہیں۔ اس کے برعکس فقہ سمیت دیگر خالص اسلامی علوم میں یہ گنجائش زیادہ موجود نہیں اور ان میں ماخذات کو بنیاد بنانے کا وہی رویہ موجود ہے، جس کی نصیحت خورشید صاحب نے بھی کی۔ دیکھا جانا چائیے کہ مسلم تہذیب میں ماخذات پر اصرار اور فکری طور پر ذاتی کد و کاوش اور انفرادی تخیل کے درمیان معکوس رشتہ کیوں رہا ہے؟

ہم نے مذہبی تجربے کو بطور دلیل استعمال کرنے میں حائل علمی مشکلات کا نہایت اختصاری جائزہ لیا۔ میری تحریروں کا مقصد موضوع کو فکری انداز سے دیکھنا تھا لہذا میں نے بطور نمونہ کسی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ نہیں کیا، تاہم میری نیت یہ ہے کہ ان مباحث کو علمی و فکری سطح پر طے کرتے ہوئے اس پورے پس منظر سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ معاصر علمی رویہ ممکنہ حد تک تحلیل پر زور دیتا ہے اور یہی کچھ ہم نے کرنے کی کوشش کی۔

میرا موقف یہ ہے کہ ان تمام اجزا کو ملحوظِ نظر رکھنے سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کہ فرد انسانی معاشرے کے اندر سانس لیتی ایک اکائی ہے۔ اس کی انفرادی شخصیت اور نفس و باطن تاریخی و تہذیبی محرکات کے تالاب کے اندر ایک مچھلی کی طرح پھلتا پھولتا ہے۔ ہمیں کسی بھی ماورائی اور ناقابل تعین باطنی و نفسیاتی احساس یا کیفیت کی معنویت جاننے کے لیے، اس کو اسی وسیع تر ڈھانچے کے اندر اندر ہی دیکھنا ہوگا۔ اس لحاظ سے مذہب کسی بھی دوسری آئیڈیولوجی کے مماثل ہے اور اس میں مثبت و منفی دونوں قسم کے رجحانات موجود ہیں۔ اس کی اساس اور تفہیم کے حوالے سے پائی جانے والی کنفیوژن جو انفرادی اور جماعتی دونوں سطح پر موجود ہے ہمیں بتاتی ہے کہ اس حوالے سے قطعیت کے ساتھ کوئی بھی بات کہنے سے پہلے سے ہمیں کئی ہزار بار دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔

اس عرض گزاری کے بعد میں یہ اعتراف کرنا چاہوں گا، کہ کم از کم مجھے سمجھ نہیں آیا، اپنے مذہبی تصورات پر نظر ثانی اور اسے معاصر علوم کی روشنی میں سمجھنے کی نیت سے لکھی گئی تحریر میں ان سب نکات کے بعد یہ نیتجہ کیسے برآمد کیا گیا کہ مذہب فرد کی عقلی، فکری و تہذیبی زندگی میں معاون اور رہ نما ہے۔ ہم نے مذہبی تجربے کے حوالے سے موضوع کو دیکھا تو جانا کہ اس صورت میں منظم ادارہ جاتی مذہب کی گنجائش کس قدر ہے۔ پیغمبروں کے حوالے سے مذہب کے جاننے کو دیکھنا چاہا، تو معلوم ہوا تفہیم و تاویل کا وہ سارا سلسلہ لازمی طور پر موجود ہے، جس پر دور حاضر میں تمام الزام دھر دیا جاتا ہے۔ ایک گورکھ دھندا سا محسوس ہوا کہ صورت احوال کی کوئی شکل کیسے بنائی جائے۔ اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ شاید مذہبی تجربے کی اسی الجھن کی وجہ سے جو جماعت اسے جس جانب چاہے موڑ سکتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔