خرد کا نام جنوں رکھ دیا۔۔۔



\"\"کچھ عرصہ ہوا ایک رشتہ دار خاتون نے آتے ہی گلے لگ کر دھواں دار رونا شروع کر دیا اور روتے روتے انکشاف کیا کہ ان کے نانا جی قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ افسوس کیا، ہمدردی کے سکہ رائج الوقت جملے نچھاور کئے لیکن محترمہ چپ ہو کر نہیں دے رہی تھیں۔ نانا کا گھر میلوں دور تھا اور جانے میں ابھی وقت اور انتظامات درکار تھے۔ برا ہو ہماری عقل پسندی اور منطق کا کہ ہم نے کہہ ڈالا، صبر کرو جانتی نہیں اتنی عمر گزار کر سورگ سدھارنے والوں کی وفات پر حلوہ بانٹا جاتا ہے میٹھے چاول کھائے جاتے ہیں۔ ایک طرح سے خوشی منائی جاتی ہے۔ انھوں نے غصے سے ہمیں دیکھا اور چلی گئیں۔ بعد میں محترمہ نے جا کر من وعن تمام واقعہ میت کے سرہانے ہر خاص و عام کے گوش گزار کیا اور یوں سب نے ہماری با حفظ مراتب خاطر خواہ تواضع کی۔

کوئٹہ دھماکے راہداری پر حملہ ہیں اور لاہور کے کرکٹ پر۔ اللہ جانے پشاور میں کونسی چیز ہے جو را کو نظر آ گئی ہے جبکہ تمام محبان وطن دیکھنے سے قاصر ہیں۔ یعنی حد ہے، مجال ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کسی سطح پر کوئی دوش ہو۔ چلئے مان لیا دھماکے را نے کروائے ہیں تو وہ تو ہمارے علانیہ دشمن ہیں، ویلنٹائن کے پھول تو نہیں بھیجیں گے کہ ہم نے تو اپنوں کو بھی روک دیا۔ اور بھیا دنیا کی نمبر ون ایجنسی نے انڈیا میں جاسوسی کے لئے مٔوکل چھوڑ رکھے ہیں یا یہ کام کرنے کے لئے بھی استخارہ کے واسطے ملاوں کی خفیہ جماعت ہے جو کہ علانیہ کام کرتی ہے؟

حال ہی میں آزاد ہونے والے سرکاری مہمانوں نے کہ جن پر غداری وطن کا الزام بھی ہے اور توہین مذہب کا دشنام بھی، نے کل جب رہائی کے بعد اپنے اور اپنے اہل واعیال پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل سوشل میڈیا پر عام کی تو کسی من چلے نے انسان دوستی کے تابوت میں گویا آخری کیل ٹھونک دی۔ کہا مجھے تو دھماکوں میں مرنے والوں پر اب ترس بھی نہیں آتا کہ ہم ان کے لئے لکھتے ہیں، اپنی جان جلاتے ہیں، زندگیاں دأو پر لگاتے ہیں اور جب ہمیں اٹھایا جاتا ہے تو یہی لوگ ہمیں غدار بھی کہتے ہیں اور ہم پر سب سے پہلے پتھر بھی اٹھاتے ہیں ، ہماری بلا سے اب مرو۔ اس کے بعد مجھ سے کچھ نہیں پڑھا گیا۔


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *