درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش حملہ، 80 افراد شہید، 200 سے زائد زخمی


\"\"

دھماکا شام 7 بجے اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا اور اس کے احاطے میں سیکڑوں لوگ موجود تھے، دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے فوری بعد درگاہ میں مکمل طور پر دھواں پھیل گیا، دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے جب کہ مزار کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ درگاہ لعل شہباز میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سول اسپتال سیہون، جامشورو اور حیدرآباد سمیت دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے خودکش حملے میں 80 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے اور 200 سے زائد افراد زخمی ہیں جس میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ ایدھی حکام کے مطابق زخمیوں کو دیگر شہروں کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان نے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور گولڈن گیٹ سے درگاہ میں داخل ہوا اور مزار میں دھمال کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کا کہنا ہےکہ جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے مزار میں زائرین کا رش تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں کو فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیراعلیٰ نے کمشنر حیدرآباد اور آئی جی سندھ کو بھی ٹیلی فون کرکے دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں، وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے فوج اور رینجرز کے دستے پہنچ گئے ہیں جو امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایمبولینس بھی جائے وقوعہ پر بھیج دیئے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سی ایم ایچ حیدرآباد میں بھی زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف ایڈمرل ذکااللہ کی ہدایت پر کراچی میں نیوی کے تمام اسپتالوں میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، نیوی کے اسپتالوں میں ہیلی کاپٹر سے زخمیوں کو پہنچایا جائے گا اور رات میں اڑنے والے پاک نیوی کے ہیلی کاپٹر زخمیوں کو اسپتال منتقل کریں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔