ملائیت، ویلنٹائن ڈے اور بم دھماکے


\"\"    حکمران طبقے کے مختلف گروہ اقتدار کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے مسلسل برسر پیکار رہتے ہیں۔ ہر گروہ کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کرے اور جب اقتدار مل جا تا ہے تو اگلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کو مزید بڑھایا جائے۔ طاقت، دولت ، شہرت اور اختیارات کا زیادہ سے زیادہ ارتکاز کیا جائے۔ دنیا کی ہر ریاست اور تاریخ کے ہر دور میں یہی ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں سیاست دان، جنرل اور مولانا حضرات اقتدار کی کشمکش میں مصروف رہتے ہیں۔ سول بیوروکریسی جو برسر اقتدار ہو اس کی جونیئر پارٹنر بن جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی اس صف میں شامل ہو چکا ہے۔سیاستدان جمہوریت کا راگ الاپتا ہے، جنرل قومی سلامتی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور جن مذہبی رہنماﺅں کو اقتدار کا شوق چرائے وہ ملائیت کا پرچار کرتے ہیں لیکن دراصل تینوں گروہوں کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے یعنی اقتدار۔ یہ تینوں گروہ تو اقتدار سے مستفید ہونے والے ہیں لیکن عوام جس کے اوپر ان کا اقتدار مسلط ہوتا ہے، کی بھلائی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سیاستدان اور جمہوریت بازی لے جاتے ہیں۔ آمریتوں نے ملک و قوم کو کس طرح رگیدا، لوگوں کو کافی حد تک سمجھ آ چکا ہے۔ لیکن ملائیت تو آمریت سے بھی دو ہاتھ آگے کی چیز ہے۔ ضیا دور میں آمریت میں ملائیت کا صرف تڑکا لگایا گیا تھا ، اسی سے جو کچھ عوام پر بیتی وہ برداشت سے باہر تھی تو سوچیں ملائیت کا پورا پیکج کیسا ہو گا؟ اگر اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں، ساری عمر کیلئے ذہن نشین ہو جائے گا کہ ملائیت کس قسم کا طرزحکومت ہے۔ اسی لئے قائد اعظم بطور خاص کہتے رہے کہ پاکستانی ریاست ملائیت پر مبنی نہیں ہو گی۔
ابتدا سے ہی ہمارے ہاں ملائیت کو نافذ کرنے کی سوچ موجود رہی ہے، اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں کہ یہ سوچ صرف سرکاری کالجوںاور یونیورسٹیوں کی حد تک ہی اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ جہاں ایک طرف اس کا پرچار کرنے والے کالجوں اور یونیورسٹی کی حدود کے اندراقتدار کا مزہ لوٹتے ہیں وہیں وہ خود کو طلبا و طالبات کی ایک غالب اکثریت کے سامنے ایکسپوز بھی کرتے ہیں جو بقیہ کی زندگی ان کی سوچ اور’طرزِ حکومت ‘ کے خلاف ڈھال بن جاتے ہیں۔ آمریت کی طرح ملائیت بھی جمہوریت کی عین ضد ہے۔ جمہوریت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی، شہری آزادیوں کے تحفظ، برسر اقتدار لوگوں کی جواب دہی اور حق حکمرانی کو محکوم طبقے کے مینڈیٹ سے مشروط کرنے جیسے کلیدی اصولوں سے عبارت ہے ۔ جبکہ ملائیت حکمران مذہبی طبقات کو ان تمام ’تکلفات‘ سے مبرا گردانتی ہے۔ ملائیت کے پرچارک صرف ایک دلیل پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست اور معاشرے (دوسرے لفظوں میں عوام ) کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا، ان سب کو ایک لگام میں باندھ دینا چاہئے اور پھر وہ لگام ملاﺅں کے ہاتھ میں دے دینی چاہئے ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مذہبی لوگ ہیں ، اس وجہ سے وہ عوام سے برتر ہیں اور چونکہ وہ عوام سے برتر ہیں اس لئے وہ ریاست ، معاشرے اور عوام کی لگام تھامنے کے حق دار ہیں۔
اگر اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ملائیت کے نفاذ کی تحریک نظر تو آتی ہے لیکن کبھی بھی زیادہ کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔ جس سوچ کو ہم ملائیت کہتے ہیں ، عیسائیت کی تاریخ میں اسے پاپائیت کہتے ہیںجو کئی صدیوں تک مسلسل یورپی ریاستوں کے اقتدار کی مالک رہی ۔ لیکن اس دور کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا۔ مغربی ادب اور تاریخ دانوں میں اس دور کیلئے Dark Ages کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔اسی دور سے باہر آنے کیلئے یورپ میں ریاست اور مذہب کی علیحدگی یعنی سیکولرازم کا فروغ ہواجس نے یورپ کو سائنس ، ٹیکنالوجی اور ترقی کا انجن بنا دیا۔
مغرب نے پاپائیت سے پیچھا چھڑا لیا لیکن ہمارے ملائیت کے پرچارک یورپ کے پاپائیت کے دور کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پاپائیت سے بغاوت کرنے والی مغربی مفکروں کی فکر سے جمہوریت نے جنم لیا جو کسی مذہبی گروہ کے آسمانی حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتی۔ جو کہتی ہے جس نے حکمرانی کرنی ہے ، صرف چار پانچ سال لئے کرے گا۔ لیکن اسے پہلے عوام کا ووٹ لینا ہوگا اور بعد میں اپنے اعمال کا عوام اور جمہوری اداروں کو حساب دینا ہو گا۔ کسی نام نہاد’ آسمانی حق‘ کے تحت عوام کے بنیادی حقوق اور انسانی آزادیوں پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی کسی خود ساختہ ’نیک پارسا‘ گروہ کو عوام کے حقوق اور آزادیوں کو کچلنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ جب میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو ایک ’نامعلوم‘ طلبا تنظیم نیو ائیر نائٹ پر، ویلنٹائن ڈے پر اپنے ڈنڈا بردار جتھوں کو اکٹھا کرتی، ویگنوں سے زبردستی سواریاں اتار کر ان میں ڈنڈا بردار جتھوں کو بھر کر لبرٹی مارکیٹ اور دیگر بازاروں میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر ڈنڈے برساتی۔ وہ یہ سب کچھ کیوں کرتی؟ کس اختیار کے تحت کرتی؟ کس قانون کے تحت کرتی؟ کس کی آشیر باد سے کرتی؟ وہ اپنے آپ کو کسی آسمانی اقتدار کا حامل تصور کرتی جو اسے دوسرے شہریوں کو ڈنڈے سے ’سیدھا ‘ کرنے کا اختیار دیتا۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان سارے کاموں کیلئے مذہب کے نام کا استعمال کرتی۔ وہ تنظیم اب بھی متشدد حرکتوں کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے باہر آ کر یہ سوچ اداروں کا رُخ کرتی ہے تو یہ کام قلم، کیمرے اور فیصلوں کی صورت میں جاری رہتا ہے۔ حال ہی میں ویلنٹائن ڈے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ سامنے آیا۔ فیصلے پر تنقید کا حق ہر شہری کو حاصل ہے لیکن اس کو چیلنج کرنے کا اختیار صرف مسول علیہان کو حاصل ہوتا ہے۔ میری دانست میں یہ فیصلہ آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں اورقانون کے سراسر خلاف تھا۔ حکومت کو اس فیصلے کو فوری چیلنج کرنا چاہئے تھا لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔
جہاں ایک طرف ’ بے حیائی “ کی آڑ میں محبت کے اظہار کو جرم گردانا جا رہا تھا وہیں لاہور لہو لہان تھا اور حکومت اور دیگر ادارے بے بس۔ اگر ریاست لبرٹی مارکیٹ میں ڈنڈے مارنے والوں کا ہاتھ روکتی تو ہمارا ہر شہراس طرح خون میں نہ نہاتا۔ پچاس ساٹھ ہزار شہری ان بم دھماکوں کی نذر ہو چکے ۔ کون نہیں جانتا کہ ان بم دھماکوں اور نہ ختم ہونے والی ہلاکتوں کے پیچھے کون سی سوچ کارفرما ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے لیکن عوام کے جمہوری شعور اور فوجی آمروں کی ہوس اقتدار نے اسے اقتدار سے دور رکھا۔ اقتدار کے حصول کیلئے یہی سوچ ہے جو بندوق کے راستے پر چل نکلی، پہلے امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ہاتھوں کھلونا بنی، پھر بندوق کا ہدف پاکستانی شہریوں اور اداروں کو بنا دیا اور اب افغانستان میں امریکہ ، بھارت اور افغان انٹیلی جنس کے اداروں میں کھیل رہی ہے۔ امریکہ اور چین کی کشمکش، امریکہ کی افغانستان میں شکست، کشمیر کا پاکستان سے بدلہ لینے کی بھارتی انتقامی سوچ، سی پیک کے خلاف سازشوں کا ایندھن پاکستانی معصوم جانوں کو بنانے والی یہی سوچ ہے جس کیلئے محبت اور اس کا اظہار جرم اور نفرت اور اس کا اظہار عبادت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔