لال شہباز کا سرخ دھاگہ اور علامتی کفن


\"\"کل شام گھر پہنچا تو تھکاوٹ بہت تھی ۔ آنکھیں تھیں کہ کھلنے سے انکاری تھیں ۔ ارادہ جلد سونے کا تھا ۔پھر لال شہباز کی درگاہ پر حملہ کی خبر آگئی ۔ نیند یوں رخصت ہوئی کہ ساری رات کروٹوں میں گذری ۔ کچھ پل بند آنکھوں کے نصیب ہوئے اور ان میں وہی معمول کا گھپ اندھیرا تھا ۔ عرصے سے کوئی خواب نہیں دیکھا۔ شاید خوابوں نےاس دھرتی کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ صبح اٹھا تو آدھے گھنٹے تک فون کی اسکرین میں الجھا رہا۔ ڈھونڈھے جا رہا تھا کہ دھماکے میں کتنے لوگ قتل ہوئے؟ اس سے ذہن سانحہ کے چھوٹے یا بڑے ہونے کا تعین کرنا چاہتا ہو گا۔ تعداد معلوم ہوئی۔ اسی افراد۔ جس میں نو عورتوں کے ساتھ بیس بچے شامل ہیں۔ بچے۔ میری دل پر ضرب لگی۔ ذہن پر لال شہباز قلندر کی مزار کا منظر رقص کرنے لگا بلکہ دھمال کرنے لگا۔ نئے اور دھلے دھلائے کپڑوں میں ملبوس ایک بچہ۔ جس کو ماں نے عید کے بعد جستی پیٹی میں سنبھال کر رکھے کپڑے نکال کر قلندر کی درگاہ پر جاتے وقت نہلا کر تیار کیا ہوگا۔ مجھے یقین ہے ماں کاکے (بچے) کی آنکھوں میں سرمے کی سلائی پھیرنے کے بعد نظر بد سے بچانے کے لئے اس کی پیشانی پر کالا ٹیکہ بنانا نہ بھولی ہو گی۔ اب بچہ مزار کے احاطے میں نئے کپڑوں اور قلندر کی مزار پر آمد کی خوشی میں اچھل کود سے باز نہ آ رہا ہو گا۔ اوڑھنی سر پر رکھے ماں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہی ہوگی کہ کاکے کو آفات اور بلاؤں سے بچانے کے لئے قلندر کی مزار سے سرخ دھاگہ لے کر کلائی میں بندھوا لوں۔ کاکا بیمار بھی تو بہت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سے روز روز دوائی لینے کے پیسے اس کے باپ کے پاس کہاں۔ اس بیچارے نے تو اس عید پر نیل دیے کپڑے پہنے تھے کہ کاکے اور چھوٹی کاکی کے نئے کپڑے آ جائیں۔ اگر کپڑے سلانا پڑتے تو پھر خرید ہی نہ پاتا۔ شکر ہے ان کی ماں پڑوس سے ادھار مشین لے کر سی لیتی ہے۔ ارے ہاں کاکی کون ہے ؟اس کا ذکر تو رہ گیا۔ بھئی کاکی ڈیڑھ سالہ بیٹی ہے جو ماں نے پہلو پر اٹھا رکھی ہے۔ اس وجہ سے تو کاکے کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے پھر رہی ہے۔ دوڑنے سے قاصر جو ہو گئی۔ اور ماں بچے کو دھاگہ باندھ لے تو دھمال جا کر دیکھے۔ جس کے بارے وہ اپنی سکھیوں سے سنتی آئی ہے۔ بڑے بڑے ڈھول جب باجیں گے تو قلندر سرکار کے آگے وہ ہاتھ جوڑ کر بنتی کرے گی اس سال اس کی گندم کی فصل اتنی اچھی ہوکہ وہ زمیندار کا آدھا قرض اتار نے کے بعد کچھ گندم سال بھر کھانے کے لئے بچا سکیں۔ باقی مولا کا کرم ہے گھر اپنا ہے۔ کیا ہوا اگر چاردیواری کی جگہ کانٹے دار جھاڑیوں کی باڑھ ہے اور گھاس پھوس کی چھت ہے۔

منظر یہیں آکر رک جاتا ہے۔آگے سوچ سفر کے قابل نہیں رہتی۔حالانکہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ماں نے کاکے کی کلائی میں لال کا سرخ دھاگہ باندھ لیا تھا یا نہیں؟ مجھے لگتا ہے ماں نے کاکے کے ننھی سی کلائی میں دھاگہ پہنا کر ہی دم دیا ہو گا۔ ماں جو ہوئی۔ اب مجھے اس دھاگے کو ڈھونڈ کر اپنی کلائی میں پہننا ہے۔ کیوں کہ کاکے کی ننھی کلائی کہاں باقی رہی ہو گی۔اب وہ سرخ دھاگہ زائرین کے پاؤں میں رل رہا ہوگا۔ میں وہ پہن لوں گا تو شاید ماں کے روح کو کچھ سکون مل جائے کہ کسی کا بیٹا تو محفوظ ہے۔ صرف ایک مسئلہ ہے۔آپ مشورہ دیں کہ جاتے وقت کالے رنگ کے ماتمی کپڑے پہنوں یا مردہ قوم کے ایک فرد ہونے کی حیثیت میں سفید رنگت کے کپڑے علامتی کفن کے طور پر پہن کر جاؤں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “لال شہباز کا سرخ دھاگہ اور علامتی کفن

  • 17-02-2017 at 4:46 pm
    Permalink

    جس مللک کے اعوانوں میں بھیڑے بس جاے ۔۔۔۔۔وہاں کے لوگ یونہی خون سے مٹی سیراب کرتے ہیں۔۔۔۔

Comments are closed.