سانحہ شاہ نورانی سے سانحہ سہون تک


\"\"کہا جاتا ہے کہ سانحات روح کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ یہ تحریر درگاہ شاہ نورانی میں میلے کے دوران جاری دھمال کے شور میں ہونے والے ایک دھماکے کی کڑی ہے۔ ٹھیک تین ماہ قبل درگاہ کے صحن میں مٹھی بھر دہشت گرد کے چٹکی بھر ساتھیوں نے خواتین اور بچوں سمیت پچاس زائرین کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔ تاریخ دہرائی،دن اور مقام تبدیل ہوا۔سہون میں واقع درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں ایک خودکش حملہ آور داخل ہوا۔ پچھلے واقعے سے زیادہ، یعنی ستر سے زائد افراد کو ہدف بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ گویا دشمن کی کمر تو ٹوٹ چکی تھی لیکن اس کا باقی جسم تو قومی امن کو تباہ کرنے کے لیے سلامت تھا۔
اس سال کو پاکستان کے لیے دہشت گردوں سے نمٹنے کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کراچی ،کوئٹہ، لاہور، مہمند اور اب اندرون سندھ قلندر کی نگری بھی غیر محفوظ ثابت ہو گئی۔ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا، پولیس اور فوج کے اہل کار نشانہ بن رہے ہیں۔ پانچ دن کے اندر ملک کے ہر صوبے میں چند عناصر کی دہشت گرد کارروائیوں میں صرف سو سے زائد افراد زندگی سے محروم نہیں ہوئے بلکہ ان کے بچے کھچے خاندان،بقیہ سانسوں تک زندہ لاش بن گئے۔ آٹھ سو سال قدیم معروف بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کی شام ہزاروں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔ کیا درگاہ شاہ نورانی واقعے کے بعد، مزاروں کے عقیدت مندوں کی سکیورٹی کے لیے کوئی انتظام کیا گیا تھا ؟ کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے ڈھٹائی سے ذمہ داری قبول کرنے والے پیغامات کی روایت کیا اس جانب اشارہ نہیں کررہی کہ وہ ہماری سرزمین پر ہی پنپ رہے ہیں؟ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ واقعی قابل رشک ہوتے ، اگر وہ اب تک کسی بھی طرح کے فوجی آپریشن کا آغاز کر چکے ہوتے۔
درجنوں شہدا کے خون سے لعل شہباز قلندرکی درگاہ سرخی میں رنگ گئی۔ اس خون کا بدلہ لیں یا نہ لیں، زندوں کی بچی ہوئی زندگی کو محفوظ بنانے میں مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔ کیا اس وقت یہ کہنا غلط ہوگا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کا شکریہ ادا کرنے کا صحیح وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ قوم کو ان کی مضبوط قیادت پر پورا بھروسہ تھا۔ توقع ہے کہ موجودہ عسکری قیادت اور حکمراں جماعت بر وقت درست فیصلے لے۔ قوم نیشنل ایکشن پلان کی اصطلاح سے صرف اس لیے واقف ہے کیونکہ امن کی جانب واحد حل اسی پلان میں پوشیدہ ہے۔ تاہم دسمبر 2014ء سے 14 فروری 2017 ء تک 76 ہزار آپریشنز میں صرف 198 دہشت گرد گرفتار ہو سکے۔ کیا مجرمان تک پہنچنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی میں نادیدہ رکاوٹیں کھڑی ہیں؟ ملک میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ تعطل کاشکار کیوں ہے ؟
ماسکو کانفرنس میں شریک پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں میں پیش پیش ہے جبکہ خود لہو لہو ہے۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال ہو رہی ہے بھارت اور افغانستان کی بڑھتی ہوئی قربتیں بھی قابل نظر انداز ہرگز نہیں۔ خطے میں امن کے خواہش مند ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ناکام کیوں نظر آرہی ہے؟ حالیہ دہشت گردی کے پیش نظر ملک کے تمام مزاروں کو بند کرکے وہاں سکیورٹی بڑھادی گئی جبکہ پاک افغان سرحد کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کو چھوٹ ملتی رہی اور 11 برسوں کے دوران کراچی لاہور اور پشاور کے مزاروں پر حملے ہوتے رہے،جن میں عبداللہ شاہ غازی اور بی بی پاک دامن کے مزار بھی شامل ہیں۔
ملک کے عوام مسلسل دہشت گردوں کے آسان اہداف ہیں۔ دسمبر 2014ء سے اب تک تعلیمی ادارے، ہسپتال، تفریح گاہیں اور مذہبی اجتماعات کو بخشا نہیں جا رہا۔ انتہا پسندی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں تو حکومت اور اعلیٰ عسکری قیادت اکھٹی کیوں نہیں؟ آج ملک سوگ کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ کیفیت حکمرانوں کے محض تعزیتی بیانات، تفتیش اور تحقیقاتی کمیٹی سے نہیں بدلے گی۔ ملک کو اگر تا دیر امن کا گہوارا بنانا ہے تو انتہا پسندی کے خلاف آپریشن کے اثرات کو زائل ہونے سے بچانا ہوگا۔ مٹھی بھر عناصر سے ’آہنی‘ ضرب عضب کے ذریعے نمٹنا ہوگا۔ سانحہ سہون نے اگر ہماری ذمہ دار اور با اختیار قیادت کی روحوں کو نہ جھنجھوڑا تو ، ایسی سرکار کی بے حسی پرافسوس نہیں بلکہ شرم کا مقام ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *