سنو! مجھے مرنے سے اب ڈر نہیں لگتا


\"\"میں اب مرنے کے لئے تیار ہوں۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ بھی تو نہیں اس بار یہ بات دل نے کہی اور ذہن نے خاموشی سے بنا کوئی بحث کئے قبول کر لی۔ موت سے کس کو خوف نہیں آتا لیکن اس سے زیادہ خوفناک حقیقت اور کیا ہوگی کہ آپ خود کو موت کے لئے تیار کرلیں۔ بہت پہلے جب شہر میں کوئی دھماکہ ہوتا تھا یا مساجد کی صفیں خون آلود کردی جاتی تھیں تو نماز جمعہ ہو یا عید گھر کی خواتین اپنے باپ ، بیٹوں اور شوہر کا تب تک انتظار کرتی تھیں جب تک وہ زندہ سلامت گھر نہ لوٹ آئیں۔ گھر لوٹ آنے پر عورتیں ایک نماز جمعہ کی ادا کرتیں اور بعد میں شکرانے کے نوافل، پھر نتیجہ نکال لیا گیا اور روتی دھوتی فریاد کرتی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے سامنے ہار مانتے ہوئے گھر کے کفیلوں اور سربراہوں نے نماز گھر میں ہی ادا کرنی شروع کردی اور مساجد خالی ہونے لگیں۔ یہ وقت آج کیوں یاد آیا؟

 کل شام سہون دھماکے کے ہولناک مناظر، چیخ و پکار، بھگڈر، خون سے بھری لاشیں جب ہر چینل کی بریکنگ بنی ہوئی تھیں تو میری امی کو کراچی کا وہ دور یاد آیا جب ہر ایک روز چھوڑ کر ہمارا اسکول بند ہوجاتا تھا۔ ابو کی واپسی کا انتظار امی صحن میں ٹہل ٹہل کر کرتی تھیں جہاں وقت چھ بجے سے اوپر ہوتا توجان سولی پر چڑھ جاتی تھی۔ میری چھوٹی بہن جب پیدا ہوئی اس وقت اسپتال کے باہر فائرنگ ہو رہی تھی ابو، نانی کے گھر ان کو لینے گئے کہ ان کی بیٹی کو ان کی اب ضرورت پڑ چکی ہے تو اسپتال فوری چلیں۔ لیکن شہر میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ کے سبب وہ دونوں اسپتال نہ پہنچ سکے، ضروری کاغذوں پر میری ماں نے خود دستخط کئے اور آپریشن تھیٹر کا راستہ لیا جس ڈاکٹر نے انھیں انیتھسیا دینا تھا اس کی گاڑی پتھراؤ کی زد میں آئی اور وہ زخمی حالت میں اسپتال دوڑتا آیا، اس کے بعد امی کو کچھ یاد نہیں۔ کبھی کبھی ہم بہن بھائی ایک ساتھ بیٹھیں تو مزاق میں کہتے ہیں کہ ہم جب پیدا ہوئے تو یہ شہر کبھی شیعہ سنی کے فسادات کی زد پر تھا تو کبھی کراچی آپریشن کی لپیٹ میں تو کبھی یہاں مہاجر پٹھان فسادات پھوٹ پڑتے تھے، اگلے روز اخبار کے فرنٹ پیج پر لاشوں کی خبر اور تصویر آجاتی تھی اور پتہ چلتا تھا کہ کون سے علاقے حساس ہیں اور کہاں نہیں جانا ہے لیکن وہ وقت گزر گیا۔ اب ہر تو ہر مقام ہر علاقہ، ہر شہر ہی ایسا ہوگیا جہاں کوئی محفوظ نہیں۔

لاہور میں ادویات کی ترسیل کرنے والے ایک بل کی مخالفت میں احتجاج کرتے ہوئے دھماکے میں مارے گئے، کراچی میں جند ہزار کمانے والا ڈی ایس این جی کا اسسٹنٹ کیمرا مین تیمور فائرنگ میں جان کی بازی ہار گیا۔ کوئٹہ شہر کو متعدد دھماکوں سے بچانے والا بی ڈی ایس کا اہلکار بم ناکارہ بناتے ہوئے شہید ہوگیا، تو مہمند اور پشاور بھی اس دہشت گردی سے محفوظ نہ رہ پایا۔ یہ زخم ابھی تازہ تھے کہ لعل شہباز قلندر کا مزار خون آلود ہو گیا۔ مزاروں پر کون لوگ جاتے ہیں؟ دکھوں کے مارے، اپنی روح کی بے چینی کو سکون کے کچھ پل دینے والے، کوئی در پر مانگنے جاتا ہے کوئی دکھوں سے گھبرا کر وہاں آنسو بہانے جاتا ہے۔ اس بار بھی کئی بے اولاد، گود ہری ہونے کی دعا کرنے گئے ہوں گے تو کئی ایسے جو منت و مرادوں سے پانے والی اولاد کی منت اتارنے مزار حاضری دینے گیا ہوگا۔ کوئی قلب و روح کی راحت کے سامان کو گیا ہوگا تو کئی دھمال کے وجد پر دنیا کے دکھوں سے بے خبر ہونے۔ لیکن وہ دشمن جس کو عادت ہے گھروں کے چراغوں کو بجھانے کی، کئی زندگیوں کو کھانے کی وہاں بھی پہنچ گیا۔ یہ نسل آنے والے وقتوں میں کیا بتائے گی؟ کہ میرا بھائی ایک اندھی گولی کا نشانہ بن گیا تھا وہ ہم بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا گھر کا کفیل تھا، میرا باپ اپنے حق کے لئے کرنے والے احتجاج میں مارا گیا کیونکہ وہ روز ٹی وی پر سیاستدانوں کو یہ کہتا ہوا سنتا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے یہ جمہوریت کا حسن ہے لیکن کوئی تو ابا کو سمجھاتا کہ احتجاج جب کوئی سیاسی جماعت کرتی ہے یا شخصیت تو اسے تحفظ حاصل ہوتا ہے نہ صرف ریاست کا بلکہ قانون نافذ کرنے والوں کا بھی عام آدمی کے احتجاج پر تو تحفظ تو دور کسی حکومت کو فرق بھی نہیں پڑتا۔ کسی کا بیٹا مزار کے احاطے میں مارا گیا کیونکہ اسے یہ لگتا تھا کہ ہر جگہ غیر محفوظ ہوسکتی ہے یہ جگہ نہیں، اسے یہ گمان تھا کہ یہ تو اللہ کے قریبی پسندیدہ بزرگوں کی آماجگاہ ہے جہاں سے امن و آشتی، سکون، دین، محبت کا پیغام پھیلا ہے یہاں کیا ہونا ہے لیکن وہ اسی گمان میں دھماکے میں جان کی بازی ہار گیا۔ ایک اماں بھی گئیں تھیں جن کی بیٹی کی عمر گزرتی جا رہی تھی بالوں میں چاندنی اترنے لگی تھی اس کا رشتہ نہ ہونے پر دنیا طعنے دیتی تھی اماں بیٹی کو لے کر اس آس پر آئیں کہ آج بڑا دن ہے جو دعا مانگوں گی پوری ہوجائے گی بزرگوں کی دعاوں سے گھر میں شادیانے بج ہی جائیں گے لیکن شادیانے کیا بجتے وہاں تو صف ماتم بچ گئی۔ ایک بہو بھی اپنی ساس سے ضد کر کے گئی تھی کہ اولا د نرینہ کی منت اتارنی ہے میں اپنے لعل کو حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کی حاضری تو کروا دوں تاکہ اسے یاد رہے کہ یہ ان ہی کی منت سے میری گود میں آیا ہے لیکن لعل کے مزار پر اس کا لعل ہی بچھڑ گیا۔

 بھلا ڈی آئی جی مبین سے کوئی پوچھے کہ جس منصب پر تم تھے کیا پڑی تھی کہ سڑکو ں پر آؤ اور لوگوں کو احتجاج ختم کرنے کی منت سماجت کرو، لاہور کی ٹریفک کھلواؤ، لیکن نہیں وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر تبصرے کرنے والوں، ٹھنڈے دفتر میں ماتحتوں کو ذلیل کرنے والوں اور حاکموں کو خوش کرنے والوں میں سے نہیں تھا وہ زرا الگ مزاج رکھتا تھا، اس بات کا قائل تھا شاید کہ آج کے دن اس نے کیا اچھا کیا؟ اس کی اچھائی اور بھلائی اس کو لے ڈوبی۔ اس سے قبل کہ احتجاج کرنے والے اس کی بات سنتے اور منتشر ہو جاتے دہشت گرد نے اس کی بات سن لی کہ راستہ صاف کردیں کہیں کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ وہ جس نے کوئٹہ میں بم کو ناکارہ بنانتے ہوئے جان کی بازی ہار دی، اس کے گھر والے کیسے اس بات کو ہضم کریں جب حکومتی نمائندے اور قانون نافذ کرنے والے آکر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ہم نے دشمن کی کمر توڑ دی ہے۔ ان سب کو کیسے صبر آئے جن کے گھروں سے جوان جنازے اٹھے، کسی ماں کا لعل، کسی کا سہاگ، کسی کا کفیل ان سے چھین لیا گیا اور چینل کے کسی ٹاک شو میں وزیر اب بھی کہہ رہا ہے کہ ہمارے دور حکومت میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے۔ اس بہن کے آنسو کیسے تھمیں جب دوسرے کمرے میں اسے ٹی وی پر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک بارعب اسے آواز سنائی دے جو کہہ رہا ہو کہ آپریشن ضرب عضب اپنے اختتام پر ہے۔ نوے فیصد علاقے دہشت گردوں سے پاک کرا لئے گئے ہیں۔

 سنو بیٹا! تم فیلڈ پر کام کرتی ہو جب تک گھر نہ آجاؤ ہماری جان پر بنی ہوتی ہے تھوڑا احتیاط سے کام لو ان دنوں حالات ٹھیک نہیں، دیکھ رہی ہو ہر جگہ ہی کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔ اماں کی آواز میں خوف اور پریشانی واضح تھی میں نے ان کی طرف دیکھے بغیر خبروں میں زبردستی کی شہادتوں کی تعداد بڑھنے کے ٹکرز کو پڑھتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔ میں اب مرنے کے لئے تیار ہوں، میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ بھی تو نہیں کیونکہ میرے لئے کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ امی جس طرح میں نے خود کو تیار کیا ہے اسی طرح آپ بھی خود کو مضبوط کریں بے مقصد شہادت باسعادت کے لئے۔


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *