پھولوں کے رنگ کالے


zeffer2

ہمارے یہاں سیل فون سروس پروائڈر، اور الیکٹرونک میڈیا کی رونمائی ہوئی، تو روایتی طریقوں کے علاوہ، کمائی کے نِت نئے طریقے ایجاد ہونے لگے۔ مدر ڈے، فادر ڈے، وومن ڈے۔ یہ دِن، وہ دِن۔ یہ موقع، وہ موقع۔ ہر ’ڈے ’ اسپانسرڈ ہوتا ہے، جو اسپانسر نہ ہو، وہ ’ڈے ’ نہیں منایا جاتا۔ (بے چارہ ’مین ’ جس کا کوئی ڈے نہیں۔ مے ڈے کی پکار ہے) کمائی کے انھی تہواروں میں ایک ویلنٹائن ڈے بھی ہے۔

دس بارہ برس پہلے یہاں کوئی ویلنٹائن کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ کیا ایسا تو نہیں ہوا، کمائی کو اہمیت دینے کے لیے، ویلنٹئن کو دانستہ متنازِع بنایا گیا۔ جیسے چالاک فلم پروڈیوسر اپنی ہی فلم کے خلاف مشہور کرتا ہے، کہ یہ فحش فلم ہے، تا کہ عام لوگوں میں زیادہ سے زیادہ زِیر بحث آئے، لوگوں کا تجسس بڑھے، تسکیں کو رونے والے سینما ہال کا رخ کریں۔ ’ویلنٹائن ڈے‘۔ بہ ہر حال ٹیلے ویژن چینل، اور سیل فون سروس پرووائڈرز کی دیہاڑی خوب لگتی ہے۔

ایک گروہ کہتا ہے، یہ غیر اسلامی تہوار ہے۔ حرام ہے۔ دوسرا طبقہ کہتا ہے، پیار پہ کاہے کہ پابندی! دونوں اپنی اپنی اچھی، بری، بھونڈی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر اخلاق باختہ جملے کسے جاتے ہیں۔ اس کا بھی دِن گزر جاتا ہے، اس کا بھی دن گزر جاتا ہے۔ کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ حتا کہ ہمارے اخلاق کا بھی نہیں۔ اس لیے کہ ہمارا اخلاق پہلے سے بگڑا ہوا ہے۔ میرے ایک دوست نے گِلہ کِیا کہ تم جمہوریت کے بڑے علم بردار بنتے ہو، یہ تمھاری کیسی جمہوری حکومت ہے، جس نے گلاب پر پابندی عائد کر دی؟ عرض کیا، کہ آپ ہی نے فتوا دیا تھا، کہ فساد کا خطرہ ہو، تو نماز کے لیے مسجد نہیں جانا چاہیے، تو یہی سمجھیے کہ حکومت نے فسادِ خلق سے بچنے کے لیے گلاب کو بین کر دیا ہے۔ اگر آپ کا جواز نماز کے لیے درست مانا جائے، تو گلاب پر پابندی کے لیے کیسے نا درست ہوا؟ کیا آپ نے بھی آج ہی کے دِن محبت کرنی ہے؟

مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ خطہ پاکستان کے باشندوں کی انتہا پسندی ہے۔ اِس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم غیر مطمئن پاکستانی، خواہ نام نہاد مذہبی ہوں، یا نام نہاد لبرل، ہم انتہا پسند ہیں۔ ہم وہ کرنا چاہتے ہیں، جو ہمارا من کرتا ہے۔ کوئی روکے تو روکے کیوں؟ اسلامی تہواروں کا مذاق اڑانے والے، ویلنٹائن کے حامی دکھائی دیں گے۔ صرف اور صرف اسلامی تہواروں کے منادی کرنے والے، علاقائی تہواروں، مثلا ’بسنت‘ کے مخالف نظر آئیں گے۔ بس ایک دوسرے کے موقف کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔

میں اتنا نہیں سمجھ پا رہا، کہ ہماری نا تمام خواہشیں ہیں، جو ہم انتہا پسند ہیں، یا ہم انتہا پسند ہیں، اس لیے ناشاد ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “پھولوں کے رنگ کالے

  • 13-02-2016 at 1:37 pm
    Permalink

    True, We talk in absolutes, We believe in having monopoly our “whole truth” We doubt the honesty and credentials of any other who dare having different opinions. We need training in public debates.

Comments are closed.