مبین مرزا: مسلسل ایک اندیشہ ہے دنیا


\"\" پینتیس سال میں نظم اور غزل کی صورت میں جو کچھ کہا وہ مبین مرزا نے کم و بیش ”تابانی“ میں یکجا کر دیا ہے۔ کم و بیش اس لیے لکھنا پڑا کہ یہ مجموعہ ان کی شاعری کا انتخاب ہے۔ سحر انصاری اور تحسین فراقی نے یہ انتخاب کیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ انھوں نے کام کی کوئی غزل یا نظم چھوڑی نہیں ہوگی۔ البتہ ”وقت کے چاک پر“ کے عنوان سے تمہید خود مبین مرزا کے قلم سے ہے۔ اس میں ایک بات انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر کہی ہے: ”آج حق اور حق، خیر اور خیر، سفید اور سفید کے مابین اشتباہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آج ایک طرف حق ہے اور اس کے مقابل دوسری طرف بھی حق۔ دونوں کے درمیان کشاکش سفید یا سیاہ کی نہیں بلکہ تیزی سے بڑھتے اور پھیلتے سرمئی علاقے (gray area) کی ہے۔ دونوں کے مابین بعض حیران کن مماثلتیں دیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے فرق و امتیاز کو دشوار سے دشوار تر کیے دیتی ہیں۔ آج ہمیں جھوٹ ہی سچ کے لہجے میں بولتا سنائی نہیں دے رہا بلکہ سچ کا بیانیہ بھی جھوٹ کا گہرا پرتو لیے ہوے ہے۔“

حقیقت بھی یہی ہے کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں بھانت بھانت کی آوازیں ، جدید ایجادات کی بدولت، جس طرح گردش کرتی سنائی دیتی ہیں اور ان سے جو شور بپا ہے اس کی وجہ سے سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ معلوم ہونے لگتا ہے۔ بہت سے امتیازات ختم ہو گئے ہیں۔ ایسی مشکل پہلے نہ تھی۔ رابطوں میں جتنی آسانی پیدا ہوتی جا رہی ہے بیگانگی اور علیحدگی میں اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ خدشہ پیدا ہو چلا ہے کہ بیس پچیس برس بعد انسان، مشینوں کے تابع ہو کر، اپنے گردوپیش سے بالکل کٹ جائیں گے۔ یہ ادب اور فنون لطیفہ ہی کا خاتمہ نہ ہوگا بلکہ زبان بھی میکانکی اور روکھی پھیکی نظر آنے لگے گی۔ ایک عظیم ورثے کی تلچھٹ۔

مبین مرزا کی غزلیں اور نظمیں محبت کے زوال کا ماتم یا استقبال ہیں۔ یہ استقبال رسمی سی کارروائی ہے جس میں صبرِ جمیل کی تلقین کی
\"\"
ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ حریم ذات سے ہجومِ آفات تک کہیں یکسر شور شرابا ہے، کہیں دل دہلا نے والا سناٹا۔ اگر کلام افسردگی یا محرومی میں ڈوبا نظر آتا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ رنگ تو ہر زبان کی شاعری میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ حساس دلوں نے شدت سے محسوس کیا ہے کہ ہر شے رفتنی ہے، تغیر اور فنا کو ثبات ہے۔ خوشی کے لمحے مختصر ہیں۔ تاہم شاعری یہ ضرور دہراتی رہی ہے کہ جب تک الفاظ اور زبان کے پارکھ موجود ہیں، ایک نسل سے دوسری نسل تک، ہمارے سارے دکھ سکھ، تمام حزن اور شادمانی کے ساتھ، منتقل ہوتے رہیں گے اور یہ فریضہ ادب جس سلیقے سے انجام دے سکتا ہے وہ کسی اور صنف کے بس کی بات نہیں۔ دین ادب اور فنون سے ماورا سہی لیکن زبان کے بغیر دین بھی نہیں۔

سو ان غزلوں اور نظموں میں زوال کی دُھن تو ہے، اضمحلال کی لے نہیںہے۔ خاص طور پر غزلیں یہ کہتی معلوم ہوتی ہیں کہ اب ہار کا سامنا تو ہے لیکن مقابلہ آخری دم تک جاری رہے گا۔ ”حقیقت ہے کہ اک دھوکا ہے دنیا/جو ہے بس حسنِ اندازہ ہے دنیا“ یا ”ایک نقش بگڑنے سے، اک حد کے گزرنے سے/کیا کیا نہیں مرجاتا ایک خواب کے مرنے سے“ یا ”کوئی دھیرے سے یہ کہتا ہے محبت سے نکل/ڈھل گئی عمر اب اس کارِ اذیت سے نکل“۔ یہ سب کیفیتیں زوال سے قدم ملا کر چلنے کی حکایتیں ہیں۔ غزلوں میں کلاسیکی رچاﺅ ہے لیکن ماجرے سب حال کے ہیں۔ غزل کے مزاج کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہ کوشش کہیں کام یاب ہے، کہیں کم بار آور اور کہیں ناکام۔ لیکن اس کی تہ میں خود کو اور دنیا کو سمجھنے کی شدید خواہش کارفرما ہے۔

اسی بارے میں: ۔  اویس اقبال کا مکالمہ اور صحافت اسلامیہ کے سلطانِ اول

نظمیں وہی پُر اثر ہیں جن میں کسی نہ کسی طرح ہئیت کی پابندی کی گئی ہے۔ اس کی عمدہ مثال ”رسید“ ہے۔ اسی طرح ”معجزہ“ اور ”جواز“ کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک چھوٹی سی نظم میں شکوہ بھی ہے کہ جو کارِ تمنا سیکھا تھا دنیا کے نئے بازار میں اس کی مانگ نہیں۔ اب چاہے بازار ہو یا خار زار، شعر کہنے سے تو شاعر باز نہیں آئیں گے کہ شعر خود زندگی ہے اور اجتماعی بلکہ انفرادی زندگی لامختتم ہے۔ بڑے شاعروں نے یہ کہا ہے تو ہم ان کی بات پر یقین کیوں نہ کریں۔

اتنی سی بات یہاں کہنی ضروری ہے کہ غزل کی حد تک تو مبین مرزا کی لفظیات موزوں ہے لیکن نظم کے لیے جو غزل سے ہٹا ہوا لب و لہجہ درکار ہے اس کے لیے انھوں نے بطورِ خاص جستجو نہیں کی۔ نظم اور غزل میں کچھ نہ کچھ اجنبیت ہونی چاہیے۔ چناں چہ ان کی غزلوں میں جو پُرکاری اور ہم آہنگی نظر آتی ہے اس کی جھلک نظموں میں بس کہیں کہیں موجود ہے۔

”زمینیں اور زمانے“ مبین مرزا کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ بیشتر افسانے حقیقت پسندانہ نوعیت کے ہیں۔ دو کی وضع قطع قدرے الگ ہے۔ ”پرچی اور داستان“ میں دکھایا گیا ہے کہ کسی بھی آمرانہ حکومت میں ہر کہانی ایسے سیاسی معانی کی حامل نظر آ سکتی ہے جو اقتدار پر فائز افراد کو ہضم نہیں ہوتے۔ ”مانوس“ میں دہشت، ابہام اور بیگانہ وشی آپس میں جذب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ”واٹس ایپ“ میں ایک شخص اپنی سابقہ محبوبہ سے ملنے میں ہچکچاتا ہے۔ ڈرتا ہے کہ وہ اسے بلیک میل کرنا چاہے گی۔ لیکن آخر میں اس کی چالاکی اور خدشے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔\"\"

”بھولی بسری عورت“ اور ”امانت“ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں افسانوں میں راوی طویل مدت کے بعد اپنے آبائی شہر لوٹا ہے جو یکسر بدل چکا ہے۔ ”امانت“ میں دل چسپی برقرار رہتی ہے لیکن جوں ہی راوی اس کام کو انجام دے چکتا ہے جو اسے سونپا گیا تھا، افسانے سے تناﺅ یکا یک غائب ہو جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اختتام جچتا نہیں۔ افسانے کو کسی اور طرح ختم ہونا چاہیے تھا۔ ”بھولی بسری عورت“ میں راوی اس لڑکی (لالی) سے ملنے جاتا ہے جس سے نوجوانی میں شادی کرنے کا خواہاں تھا مگر حسب نسب اور نام نہاد خاندانی شرافت رکاوٹ بن گئے۔ جب وہ اس لڑکی سے ملتا ہے تو اس کی سرخ و سفید رنگت مفقود ہو چکی ہوتی ہے۔ اسے اپنے سامنے ایک زرد رو، چمرخ، ادھیڑ عورت نظر آتی ہے۔ مکان اور مکینوں کی حالت سے عیاں ہے کہ وہ متوسط طبقے کی زیریں صف میں خطِ افلاس سے ذرا ہی اوپر ہیں۔ راوی سوچتا ہے کہ شہر نے کینچلی بدل لی ہے، ہر طرف نئے دور کا ہمہمہ ہے اور لالی، لالی کی ماں اور لالی کی بیٹیوں کے حالات اور مسائل ویسے کے ویسے ہیں۔ وقت اوروں کے لیے گزرتا جا رہا تھا۔ ان کے لیے بہت پہلے کہیں رک کر رہ گیا تھا۔ راوی کے دل میں طیش کی لہر اٹھتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جن کے لبوں پر کوئی گلہ نہیں، جنھیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا خیال تک نہیں آتا۔ ایک کلّی طور پر انفعالی زندگی۔ اصل میں لالی اور اس کے اہل خانہ زیادہ حقیقت آشنا ہیں۔ انھیں بخوبی علم ہے کہ ایک غیر منصفانہ معاشرے میں احتجاج بے سود ہے۔ کوئی شنوائی نہ ہوگی۔برصغیر پاک وہند میں، بالخصوص دیہی علاقوں میں، نہ جانے کتنے خاندان ہوں گے جو ہزار سال سے، نسل در نسل، غربت میں مبتلا چلے آتے ہیں۔ انھیں ڈھنگ کا ٹھکانا نصیب ہوا نہ اچھا کھانے پینے اور پہننے کو ملا۔ پہلے ملوکیت تھی، پھر غلامی اور اب آزادی ہے اور جمہوریت ہے اور جو پسے اور کچلے ہوے تھے ان کے لیے کچھ بھی نہیں بدلا۔ یہ افسانہ بہت پُر اثر ہو سکتا تھا اگر اس میں کہیں کہیں خطیبانہ جوش در نہ آیا ہوتا۔

اسی بارے میں: ۔  چکوال کے پروفیسر غنی کا پرانا خوف۔۔۔!

”یخ رات کا ایک ٹکڑا“ مجموعے کا سب سے اچھا افسانہ ہے۔ موضوع ناول کا تقاضا کرتا تھا۔ مبین مرزا نے تیس بتیس صفحوں میں نمٹا دیا۔ کیا کہا جائے! یہ معاشرے کے ان پہلوﺅں کا احاطہ کرتا ہے جو ناخوشگوار اور تشدد آمیز ہیں اور جن کا سامنا کرنے سے مجرمانہ حد تک پہلو تہی کی جاتی ہے۔ ایک طرف معصومیت اور خوش دلی ہے تو دوسری طرف شر اور تنگ دلی۔ افسانہ اول تاآخر خواندنی اور نفسیاتی الجھنوں کو بیان کرنے پر قادر ہے۔

شاعر ہونے کے ناتے زبان و بیان پر جتنی توجہ ہونی چاہیے تھی اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ”ذہن کا میجک بورڈ“ یا ”ہوا کود کر کمرے میں داخل ہورہی تھی“ جیسی باتیں، جن سے جا بجا واسطہ پڑتا ہے، اچھا تاثر نہیں چھوڑتیں۔ اس کے علاوہ خطابت پردازی کے پیوند بھی افسانوی فضا کو مجروح کرتے ہیں۔ افسانوں میں اس طرح کی جوشیلی در اندازی شائستہ معلوم نہیں ہوتی۔ لکھنے والے کو حتی الامکان غیر جانب دار رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 تابانی۔ صفحات 248 ؛ چار سو روپیے

زمینیں اور زمانے۔ صفحات 208؛ چار سو روپیے

ناشر: اکادمی بازیافت، کراچی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔