دھماکوں کے بعد کرنے والے دس کام


\"\"1۔ کوشش کیجیے کہ آپ سکیورٹی ایکسپرٹ نہ بنیں۔ کیونکہ آپ اور میں سکیورٹی ایکسپرٹ نہیں ہیں۔
2۔ جھٹکے والا ردعمل دینے والوں اور ان کے خیالات کو اپنے خیالات پر حاوی نہ ہونے دیں۔ آپکی کھوپڑی میں انکا مغز نہیں، تو ان کی سوچ کیوں ہو؟
3۔ دہشت گرد آپ کو مایوس، پریشان اور غصیلا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ سہون، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے حملوں سے نہ ان کی خلافت آنی ہے اور نہ ہی پاکستان نے بکھرجانا ہے۔ آپ مایوسی، پریشانی اور غصے سے انکاری ہوا کیجیے۔
4۔ ایسے ہر حملے کے بعد اپنے اپنے کرنے والے کام مزید لگن اور شاندار طریقے سے سرانجام دینے کی کوشش کریں۔ پاکستان اور پاکستانی معاشرے کا مستقبل بہتر ہے۔ اس پر یقین کیجیے۔ اس یقین کا حصہ بنیں۔ یہ ممکن ہے۔
5۔ پاکستانی ریاست، اس کے ریاستی اداروں اور اہلکاروں پر لعن طعن، طنز و تشنیع اور کوڑا انڈیلنے سے پرہیز کیا کیجئے۔ آپ جب ایسے ہر واقعے کے بعد کی۔بورڈ کی جانب بھاگتے ہیں، ریاست اور اس کے اہلکار وقوعہ کی جانب دوڑتے ہیں۔ ان کی کارکردگی پر تنقید، ان کی کارکردگی بہتر بنانے کی غرض سے کیا کیجیے۔ لعن طعن، طنز و تشنیع اور کوڑا انڈیلی بنیادی طور پر آپ کی ذہنیت کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔ لعنت بھیجنے اور تنقید کرنے میں بہت فرق ہے اور اگر آپ کو یہ فرق معلوم نہیں، تو میرا پرسہ قبول کیجیے۔
6 ۔ مایوسی کے ماحول میں، مایوسی میں بہہ جانا، بہے جانا مایوسی پھیلانے والوں کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ آپ ان سے بہتر انسان ہیں۔ اپنی بہتری پر اصرار کیا کیجیے۔
7 ۔ نیوزمیڈیا اور اس پر ہونے والے ’ماہرانہ تبصروں‘ سے بچا کریں۔ اینکرمافیا کو سکیورٹی کے معاملات کا اتنا ہی علم ہے جتنا مجھے ریاضی اور آپ کو کائنات میں آٹھ سو سال نوری سال پر موجود اک سیارے میں نارنجی پہاڑی کا۔
8 ۔ایسی مایوس کردینے والی اور اندوہ ناک خبروں کو صرف ایک مرتبہ ہی سن اور جان لینا کافی ہوتا ہے۔ نیوزمیڈیا کے ساتھ اگر آپ جڑ کر بیٹھے رہنے پر مصر ہیں تو صاحب، اپنی دماغی خرابی و ہیجان کے آپ خود ہی ذمہ دار ہیں۔
9 ۔ پاکستان میں بسنے والی کسی بھی قوم، ملت، مذہب، مسلک اور معاشرت سے آس پاس کی سنی سنائی اور نفرین والی باتوں پر کان مت دھریں۔ دہشت گرد بنیادی طور پر افرتفری کے پیامبر ہیں۔ آپ ان کی افراتفری کا پرزہ مت بنیں۔ اپنے، اپنے معاشرے، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے مستقبل پر ایک نہ ہلنے والا یقین رکھیں۔ آج مورخہ 17 فروری 2017  کو پاکستان میں موجود سیاسی، معاشی، معاشرتی، علاقائی اور بین الاقوامی، تقریباً اکثریتی اشاریے، ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ پاکستان اپنے بدترین دنوں میں سے گزر چکا ہے۔ یہ دن بھی گزر جائیں گے۔ آپ محنت، لگن، ہمت اور سب سے بڑھ کر فوکس کے ساتھ اپنے اپنے کاموں پر بھرپور توجہ دیں اور محنت کریں۔
10۔ سیاسی، معاشرتی، مذہبی اور مسلکی، تمام نفرتوں کی سیاست اور معیشت کو شعوری طور پر جانیں اور یہ بھی سمجھیں کہ ایسے واقعات خلا میں نہیں ہوتے۔ ان کی کڑیاں ہوتی ہیں اور چونکہ نقطہ نمبر ایک کے مطابق آپ اور میں سکیورٹی ایکسپرٹ نہیں، تو لہٰذا ہمیں ان کڑیوں کا صرف خیال اور اندازہ ہے، علم نہیں۔ علم کی بنیاد کے بغیر کسی قسم کا کوئی بھی دعویٰ اک کھوکھلے پن کی دلیل ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں آپ کے اور میرے خیالات، آپ کے اور میرے خیالات تو ہو سکتے ہیں، معلومات اور علم نہیں۔
مجھے بہتری کا گمان نہیں، یقین ہے۔ بہتری کا یقین رکھیں گے تو بہتری ہوگی۔ بہتری ہو کر رہے گی!
پاکستان، زندہ باد!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔