کاش طالبان کے دفتر کھولنے کی عمران خان کی تجویز مان لی جاتی


\"\"دسمبر 2014 میں ہونے والے آرمی پبلک سکول کے سانحے سے پہلے فروری 2014 میں کالعدم تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کے مابین مذاکرات کی بات ہو رہی تھی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کے لئے اپنی طرف سے تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جناب مفتی کفایت اللہ، جمعیت علمائے اسلامی (س) کے مولانا سمیع الحق، لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اور جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم کو نامزد کیا کہ طالبان کو ان پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات میں ان کی بہترین نمائندگی کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے جناب عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام نے مذاکرات میں طالبان کی نمائندگی کرنے سے انکار کر دیا۔

اس پر تحریک طالبان کے ترجمان جناب شاہد اللہ شاہد نے عمران خان صاحب اور مولانا فضل الرحمان صاحب کے فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’صحافیوں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کے ناموں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان کے ناموں پر پہلے بھی غور کیا گیا تھا مگر اس لئے ان کو نامزد نہیں کیا گیا کہ ہم طالبان کی نمائندگی کرنے والوں کی ایک لمبی لسٹ نہیں دینا چاہتے تھے‘۔ جناب اوریا مقبول جان اور انصار عباسی صاحب کے ازراہ کسر نفسی یا دیگر کسی زیادہ قابل یقین وجہ سے انکار کے بعد طالبان کی باقی ماندہ تین رکنی کمیٹی نے حکومتی کمیٹی سے امن مذاکرات کیے۔

طالبان کے عمران خان صاحب کو اپنی نمائندگی کے لئے منتخب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہو گی کہ خان صاحب نے ستمبر 2013 میں پشاور میں چرچ پر حملے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ حملہ کرنے والی کالعدم تحریک طالبان کو پاکستان میں باضابطہ دفتر کھولنے کی سہولت دے۔ اس حملے میں 81 افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوئے تھے۔

بدقسمتی سے نواز حکومت نے خان صاحب کی اس بہترین اور دور اندیشانہ تجویز کو اہمیت نہ دی اور کالعدم تحریک طالبان کو پاکستان میں دفاتر کھولنے کی اجازت نہ دی۔ اگر آج وہ دفاتر پاکستان میں موجود ہوتے تو اہل پاکستان اس وقت امن و امان کے گمبھیر مسائل سے دوچار نہ ہوتے۔

اسی بارے میں: ۔  لاہور کا دھماکہ؛ کچھ ڈزنی لینڈ والوں سے سبق سیکھو

\"\"

جیسے ہی پشاور میں دہشت گردی ہوتی تو پولیس ادھر ادھر دہشت گردوں کی تلاش میں ماری ماری نہ پھرتی بلکہ وہ سیدھی طالبان کے دفتر میں جا کر وہاں سستاتے ہوئے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیتی۔ لاہور پولیس اپنے مخبر طالبان کے مقامی دفتر میں بھرتی کروا دیتی اور اسے پتہ ہوتا کہ کون کون لاہور میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے اور اسے پکڑ لیتی۔ سندھ پولیس کو سیہون شریف پر حملے سے قبل ہی علم ہو جاتا کہ طالبان دفتر میں بیٹھے حملے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر کے ٹیلیفون مانیٹر کرنے کی بجائے ان چار چھے دفاتر کے اہلکاروں کے فون سنتے رہتے اور ان کی حکمت عملی اور منصوبوں سے آگاہ رہتے۔ اب سو مشکل اٹھا کر جو یہ ہوائی سی اطلاع ملتی ہے کہ سات دہشت گرد لاہور میں داخل ہو گئے ہیں اور پانچ اسلام آباد میں تو اس کی بجائے پکی اطلاع ملا کرتی کہ آج کالعدم تحریک پاکستان طالبان کے لاہور کے دفتر میں یہ سات افراد داخل ہوئے ہیں جن کی تصویر یہ ہے اور یہ فلاں جگہ مقیم ہیں اور فلاں تندور سے اتنی روٹیاں خرید کر کھا رہے ہیں۔

بخدا یہ ویسا ہی بظاہر سادہ مگر درحقیقت ایک پرکار اور استادی والا منصوبہ ہے جیسا اس دانشمند نے بنایا تھا جس سے کسی نے بگلا پکڑنے کے لئے صلاح مانگی تھی۔ استاد محترم فرمانے لگے کہ رات ہونے کا انتظار کرو۔ جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے تو موم بتی جلاؤ اور جب بگلا پانی میں کھڑا ہو تو دبے پاؤں اس کے پیچھے جاؤ۔ خبردار ہلکی سی بھی آواز مت نکلے کہ بگلے کو تمہاری آمد کا پتہ نہ چلے۔ پھر چپکے سے اس کے سر پر جلتی ہوئی موم بتی رکھ دو اور کچھ دیر انتظار کرو۔ جب موم بتی کا موم پگھل پگھل کر بگلے کی آنکھوں پر گرے گا تو بگلے کو دکھائی دینا بند ہو جائے گا۔ اس وقت تم بہ اطمینان اس کے سامنے جاؤ اور اس کی گردن دبوچ لو۔ صلاح مانگنے والے نے پوچھا کہ استادِ زماں، میں جب دبے قدموں اس کے پیچھے جاؤں تو اسی وقت موم بتی سر پر رکھنے کی بجائے اس کی گردن کیوں نہ پکڑ لوں؟ استاد محترم نے اسے استہزائیہ نظروں سے دیکھا اور فرمایا ’یہ کوئی استادی تو نہ ہوئی‘۔

اسی بارے میں: ۔  بس ایک سوال پوچھنا ہے۔۔۔

لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس وقت عمران خان صاحب جیسے دانشمند شخص کی بجائے نواز شریف صاحب جیسا کوتاہ اندیش شخص ہمارا حکمران ہے جو بگلا یا طالبان پکڑنے کا کوئی استادانہ منصوبہ بنانے کا اہل نہیں ہے اور طالبان کے دفتر کھولنے کی بجائے ان سے لڑنے پر مصر ہے۔ امید ہے کہ پاناما کیس میں نواز حکومت مجرم قرار پا کر برطرف کر دی جائے گی تو ملک کو ایک مدبر اور ذی شعور قیادت میسر آ سکے گی جو اپنی دانشمندی سے ہمیں امن کی طرف لے جائے گی اور ہم دہشت گرد پکڑنے کی خاطر تندوری روٹیاں گننے کی مشقت سے نجات پا لیں گے۔

اگر اس مدبر اور ذی شعور قیادت کو ووٹ نہ بھی ملے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے اراکین بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ فوجی ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت کی لعنت کے مکمل خلاف ہیں۔ اس صورت میں کسی باشعور شخص کو حکمران بننے کے لئے ووٹوں کی وہ محتاجی بھی برداشت نہیں کرنی پڑے گی جو کہ اس وقت اس کو اس کا حق پانے سے روک رہی ہے بلکہ طالبان کے مقامی دفاتر لوگوں کو ان کی بیعت کرنے پر قائل کر دیں گے جیسا کہ ہم پہلے سوات میں بیعت اور حکمرانی کا طریقہ کار ملاحظہ کر چکے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 735 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar