دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں: ترجمان پاک فوج


gen asimپاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ کراچی میں ٹی ٹی پی،القاعدہ،لشکرجھنگوی مل کرکارروائیاں کرتے تھے، تینوں دہشت گرد گروپ پکڑے گئے ہیں۔کراچی میں امن قائم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا۔
کراچی میںڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ضرب عضب کی کامیابیوں کو جانتی ہے اور اس آپریشن کو عالمی سطح پرسراہا جا رہا ہے۔
آپریشن ضرب عضب15جون 2014سے شروع ہوا۔13ہزار212انٹیلی جنس آپریشنز پورے ملک میں ہوئے ،آرمی چیف نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کا حکم دیا،ہمیں معلوم تھاکہ ضرب عضب کاردعمل پورے ملک میں آئےگا ،دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے سے ملک میں دہشت گردی میں کمی ہوئی جہاں جہاں ان کی پناہ گاہیں تھیں ، ان کو صاف کردیا گیا ہے۔
کراچی میںستمبر2013میں رینجرز کا آپریشن شروع ہوا، آپریشن سے قبل کراچی میں حالات بہتر نہیں تھے۔ جرائم عروج پر تھا۔اغوابرائے تاوان،قتل ،بھتہ خوری کی کارروائیاںہورہی تھیں۔ آپریشن کے دوران سوا 4لاکھ گولیاں برآمد ہوئیں ،9ہزار سے زائد ہتھیار آپریشن کے دوران پکڑے گئے ،کراچی میں رینجرز نے 6 ہزار لوگوں کوپکڑکرپولیس کے حوالے کیا۔ٹارگٹ کلنگ میں70فی صد کمی ہوئے،85فیصد بھتہ خوری میں کمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کراچی میں پوری طرح امن بحال ہوگا۔جب تک امن نہیں ہوتا ،کراچی میں آپریشن جاری رہے گا۔کراچی کے ساتھ فوج کا عزم ہے۔آرمی چیف کئی بار کراچی میں آچکے ہیں۔ کراچی میں کام جاری ہے اور ہم کام کو پورا کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب تک سہولت کارختم نہیں ہوں گے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی،کراچی ایئرپورٹ حملے میں10دہشت گرد مارے گئے ،کراچی ایئرپورٹ حملے کی تمام تیاری اورمنصوبہ بندی میران شاہ میں ہوئی۔
عاصم باجوہ نے مزید کہا کہ کراچی میں ٹی ٹی پی،القاعدہ،لشکرجھنگوی مل کرکارروائیاں کرتے تھے،کراچی میں جیل توڑنے کی سازش میں بھی یہی گروپ شامل تھا ،نعیم بخاری کراچی ایئرپورٹ اٹیک کا ماسٹر مائنڈ تھا،یہ سارے دہشت گرد ریاست کو مطلوب تھے۔
یہی گروہ کامرہ ایئربیس اورآئی ایس آئی سکھرپرحملے میں شامل تھا،پکڑے گئے گروپ ایئرپورٹ اورچوہدری اسلم پرحملے میں ملوث تھے ،شہر سے دہشت گردوں کے 3بڑے گروپ پکڑے۔دوران آپریشن97دہشت گردپکڑے،26 کے سرکی قیمت مقررتھی،القاعدہ برصغیر کے 12سہولت کار پکڑے۔


Comments

FB Login Required - comments