بودلو۔۔۔۔ ایک کہانی سہون کے مرشد کی


اس آواز کا سننا تھا کہ میرا انگ انگ تڑپ اٹھا۔

انگ انگ جو مَیں بن کر رہ گیا تھا۔

انگ اور تڑپ۔

اس کے علاوہ میں تھا ہی کیا۔

نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ہونے نہ ہونے کی حد سے اتنا دور نکل کر جاچکا تھا کہ اس کیفیت کا کوئی امکان بھی نہیں رہا تھا۔ میں پہلے جو کچھ بھی تھا، اب بکھر چکا تھا۔

ایسے میں اُس نے پکارا۔ جس کا نام ہر ہر سانس میں سینکڑوں بار لے کر میں حال سے بے حال ہوا، آج اس نے میرا نام لیا۔ اور میں تھا ہی کہاں کہ جواب دیتا۔ اس نے دریا کے رُخ پر پکارا۔ اس نے شہر کی سمت آواز دی۔ ٹیکری سے، کوٹ کے پتھریلے در ودیوار سے، شہر کی خاک بھری گلیوں سے اور دریا کے چوڑے پاٹ تک گونجتی ہوئی، بے آواز بے نام خالی منظر سے ٹکراتی ہوئی آواز وہاں تک آئی جہاں جہاں میں تھا۔ مجھے سوگند ہے سائیں کی، یہ آواز میں نے سنی۔ حالانکہ سننا میرے لیے اب ممکن نہیں رہا تھا۔ سنتا بھی کیسے۔ جن کانوں سے سن سکتا تھا، جن ہونٹوں سے اس پکار کا جواب دے سکتا تھا وہ اب کہیں اِدھر اُدھر ہوگئے۔ لیکن پھر بھی میں نے سُنا اور میرے عضو عضو نے جانا کہ یہ اس کی آواز ہے جس کی دید کا انتظار مجھے اپنی زندگی کے اس آخری پل تک رہا جب میری بوٹی بوٹی کاٹی جا رہی تھی اور جس لمحے کی لہولہان اذیّت میری بے آسرا آنکھوں میں ہمیشہ کی نیند سو گئی۔ راجہ کا بھیجا ہوا قصائی ہاتھوں میں تلوار تولتا ہوا میری جانب بڑھا اور اس نے اڈّی پر میری گردن اس طرح رکھ دی جیسے میں انسان نہیں، ذبیحے کا جانور ہوں جس کا گوشت وہ سیہوستان کے بازاروں میں روز بیچتا ہے۔ اس نے میرے بازو کاٹے، ٹانگوں سے گوشت کے پارچے اتارے اور سینے کو چیر کر رکھ دیا۔ اس کی دھار دار تلوار میرا بدن کاٹتی رہی اور میں کوشش کرکے سوچتا رہا، لال رنگ میرے سائیں پر کیسا سجتا ہے۔ میں زخم کھاتا رہا اور اُف تک نہ کی۔ اٹھتی، گرتی تلوار سے بچنے کے لیے میرے ہاتھوں نے چہرے کی پناہ کی نہ بدن نے مزاحمت۔

جب تک میرے چہرے پر آنکھیں زندہ تھیں اور بدن سے خون ٹپک رہا تھا، میں آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کو سوچتا گیا کہ لاکھوں میں ایک ہے اور زندگی بھر کی دید سے بڑھ کر۔ اپنے آ پ پر افسوس کرتا رہا کہ یہ زندگی بھی یوں ہی زائل ہوگئی، اس کے دیدار سے دل سیر نہیں ہوا آنکھیں جس کی گواہی دینے کے لیے دنیا کے منحوس چہرے دیکھے گئیں اورجس کی طلب نے سینے میں ایسی آگ بھڑکا دی، اس آ گ میں جل کر میں ایسا تہس نہس ہوا کہ یہ قصّاب بھی کیا کرتے جو میرے بدن کا قیمہ کررہے تھے۔ رُکتے، اٹکتے سانسوں سے اس کے نام کا ورد کیے گیا یہاں تک کہ کافر قصائی نے میرے سینے کے بڑھتے ہوئے شگاف میں ہاتھ اندر ڈال کر گوشت کا وہ ٹکڑا بھی کھینچ کر نکال لیا جو میرا دل تھا اور اس نام کے سوا دھڑکنا بھول چکا تھا۔

اپنے ہونے اور اس کے نہ ملنے کی مایوسی کو سزا میں بدل کر اپنے بدن کو کٹتا پھٹتا دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ آنکھیں بجھ گئیں، دیکھنا ختم ہوا اور باقی یہ سیہوستان کی ٹیڑھی تنگ گلیوں میں رُلتی پھرتی حسرت رہ گئی کہ اس کا سرخ و روشن چہرہ ہائے مجھ سے دور ہوا، اب وہ اور دیس ، میں اور دیس… مجھے پھر شہر کے گوشت خوروں میں بانٹ دیا گیا۔

میرے آخری دم تک وہ مست رہا۔ پھر دید رہی نہ یاد۔ میرے بکھرے بدن کو تب سے اس آواز نے سمیٹ لیا۔ شہر کے لوگوں کی آنکھوں، ناخنوں، دانتوں سے، جہاں جہاں مجھے چڑھایا گیا تھا، گھروں کی پتیلیوں، دیگچیوں، ہانڈیوں سے، جہاں جہاں مجھے پکایا گیا تھا، مچل مچل کر اور اُڑ اُڑ کر میرا گوشت، میری خاک اکٹھا ہونے لگی۔ طلب کی آگ میری ٹھنڈی راکھ سے بھڑک کر شعلہ بن گئی اور میں جو مٹ گیا تھا پھر سے جل اٹھا۔ اس کا سرخ چہرہ پھر نظروں میں زندہ ہوا، دید کی ہوس میں آنکھیں جاگ اٹھیں، ہونٹ جواب دینے لگے، میرے لعل شہزادے میں آیا، میرے قلندر سائیں میں آیا اور سیہون کی گلیوں میں دوڑتا ہوا، لعلوں لعل جھولے لعل پر رقص کرتا ہوا اس جانب کھنچا چلا گیا جہاں سے میرے نام کی آواز آئی تھی۔

گوشت میں تیز دھار کے ہتھیار کے چبھوئے جانے کے احساس کے ساتھ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ایک لمحے کے لیے ذہن جیسے بالکل سُن ہو کر رہ گیا میں کہاں ہوں، اس وقت کیا ہورہا ہے، یہ کون سی جگہ ہے، اب کیا ہونے والا ہے … اندھیرے کمرے کی ہر نامانوس شے جیسے ان جانے اور مہیب خطرات سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے ٹٹول کر بستر کے ساتھ نائٹ لیمپ کا کھٹکا دبا دیا۔ بلب کی دھیمی روشنی کا اُجالا یک دم سے لپکا تو دفعتاً مجھے احساس ہوا کہ رات کے اس پہر، میں کہاں ہوں۔ بستر کے دوسرے حصے پر میرا دوست، جس کے ساتھ میں اس شہر کے سفر پر آیا تھا، کروٹ لیے گہری نیند میں گم تھا۔ میں بھی کچھ دیر یوں ہی بستر پر ساکت پڑا رہا، پھر اٹھ گیا۔ پیروں میں سلیپر ڈالتے ہوئے میں باہر آگیا ۔ آسمان کے ایک حصّے میں چاند روشن تھا اور ہوا میں ہلکی سی خنکی جیسے اس ادھورے، پگھلے سے چاند سے برس رہی تھی، برآمدے کے سفید فرش سے اُتر کر ٹھنڈی زمین پر چلتا ہوا سامنے تک آ گیا جہاں ٹیکری کی حد تھی اور اس کے آگے کوئی روک نہیں تھی۔ سامنے شہر پر جیسے گرد و غبار کا دھندلکا ابھی تک چھایا ہوا تھا اور اسی میں سے مکانوں کی بتیّاں جلتی نظر آرہی تھیں۔ میں نے ٹیکری کے کنارے پر سے جھانک کر دیکھا۔ راستہ نیچے جاتا ہوا نظر آرہا تھا اور اس کے ساتھ مکان جو نیچے ہونے کی وجہ سے اور بھی چھوٹے چھوٹے لگ رہے تھے۔ ان مکانوں کا سلسلہ، جو پورے کا پورا شہر تھا، گھروندوں کا ڈھیر معلوم ہوتا تھا۔ خاک آلود، خاکستری۔ اس میں کوئی چیز نمایاں تھی تو مزار کا گنبد جس کا سنہری رنگ رات کے نیم اندھیرے میں لپٹا ہوا تھا لیکن ادھورے چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس کے اوپر ان لکڑیوں، بانسوں اور لوہے کے پائپ کا سایہ بڑھ رہا تھا جو درگاہ کے نئے حصّے کی تعمیر کے لیے لگائے گئے تھے اور جن کے ادھورے ہیولے اندھیرے میں ہیبت ناک معلوم ہوتے تھے۔ مشرق کی طرف آسمان کی طرف رُخ کرتا ہوا وہ عَلم تھا جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ قلندر کے طلب گاروں میں سے ایک کی درگاہ ہے جس پر روزانہ ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ہم سب: ایک ملین کی تحسین

میں جیسے مسحور ہوکر اس عَلم اور اس عَلم کے پیچھے بڑے عَلم کی طرف دیکھے گیا۔ شام ڈھلے مزار پر دھمال ڈالنے والوں کا آہنگ اس وقت سکوت میں گم تھا اور سناٹا اتنا گہرا تھا جیسے وقت کا ہر احساس ختم ہوچکا ہو۔

یہاں وقت کا احساس مندمل ہوچکا ہے لیکن وقت اپنی جگہ اسی رفتار کے ساتھ گزر رہا ہوگا، اور اپنے وقت سے کھوجانے، بچھڑ کر پیچھے رہ جانے کے احساس نے ایک نا محسوس سا Panic پیدا کردیا۔ کمرے کے اندر جاکر اپنے دوست کو جگائوں کہ مجھے یقین دلائے یا ٹیکری کی مٹّی پر دوزانو ہوکر بیٹھ جائوں، میری سمجھ میں نہیں آیا۔

یہ ٹیکری دراصل پرانے راجہ کا قلعہ ہے، میرے دوست نے مجھے دن میں اس وقت بتایا تھا جب ہم چڑھائی پر آرہے تھے۔ راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی اور سرکاری نوٹس کی تنبیہ نمایاں تھی کہ یہ آثا ر قدیمہ ہیں جن کی کھدائی کا کام جاری ہے۔ مجھے غور کرنے پر بھی آثار نظر آئے تھے نہ کُھدائی۔ ٹیکری کے سامنے کے حصّے میں پتھر اور چٹانیں اور ایسے بڑے بڑے بل تھے جیسے سانپوں نے اپنے رہنے کے لیے بنالیے ہوں۔ اور اسی مّٹی میں دبی ہوئی، آدھی آدھی نکلی اینٹیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ یہ دیوار رہی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مزار تھا جس پر عَلم لگا ہوا تھا اور دن میں ڈھول کی آواز آتی رہی تھی۔

ہاں واقعی، وقت موجود تھا۔ مجھے تسلّی ہوئی۔ مزار کے صحن میں پانی سے بھرے ہوئے دیگچے کے اندر سوراخ کیا ہوا کٹورہ آہستہ آہستہ پانی سے بھرگیا ہوگا اور جب کٹورہ بھرگیا ہوگا تو وہاں بیٹھے ہوئے گھڑیالچی نے گھنٹہ بجایا ہوگا کہ ایک گھڑی بیت گئی ہے۔ صبح کا وقت ہوگا تو نوبت بجائی جائے گی۔ وقت گزر رہا ہے، وقت گزر رہا ہے، یہ احساس ہوگا…

وقت جو ہر بساط اُلٹ دیتا ہے۔ ’’قلندر نے راجہ سے ناراض ہوکر اس قلعے کو الٹ دیا تھا۔ یہ ٹیکری جس پر تم کھڑے ہو راجہ کے اسی قلعے کا کھنڈر ہے‘‘ میرے دوست نے مجھے دن کے وقت بتایا تھا۔

’’راجہ ؟ کون سا راجہ ؟‘‘ میں نے کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’پرانی کتابوں میں اس کا نام چوپٹ راجہ لکھا ہوا ہے‘‘۔ میرے دوست نے کہا تو میں حیرت کے ساتھ اس کا منہ تکنے لگا۔ پھر مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ چوپٹ راج کی ٹیکری پر حکومت نے یہ سرکٹ ہائوس بنوایا ہے جس میں سرکاری افسر آکر ٹھہرتے ہیں۔

مجھے بھی آج رات یہیں گزارنی ہوگی۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے دن کے وقت یہ سوچا تھا، رات ہونے سے بہت پہلے ۔

دودھ کے لبالب بھرے کٹورے پر گلاب کا پھول رکھ کر کٹورہ واپس کرنے سے اپنی جگہ کا احساس دلانے کے کچھ ہی دن بعد انہوں نے اس شہر کی زمین پر عالم وجد میں رقص کرنا شروع کیا اور رقص کرتے کرتے ایک دن زمین میں پائوں مار کر اس میں اُتر گئے۔ اور دوسری طرف سے نکلے تو پر پرواز پیدا کرکے اتنی دور تک اُڑتے چلے گئے کہ لاہوت لامکاں سے آگے اس بلاد میں جا پہنچے جہاں جمال شاہ مجرّد کا کڑھائو روشن تھا، جو گلے میں چکّی بطور گلوبند ڈالے رہتے تھے اور مرید ہونے کے لیے آنے والوں سے کڑھائو میں دہکتی آگ کی طرف اشارہ کرکے کہتے تھے، اس میں گزر کر آئو۔

 لیکن جلتے ہوئے کڑھائو میں سے نکل آنے سے پہلے ان کا بدن دمکتا تھا اور چہرے سے سرخ لو اٹھتی دکھائی دیتی جیسے شیشے کے مکان میں چراغ جل رہا ہو۔ اور اس عالم میں ایک صاحب ثروت عورت نے دیکھا تو ایسی گرفتار ہوئی کہ برملا التفات کی خواہش کا اظہار کردیا، اور شہر میں زار زار روتی، بین کرتی، بکتی جھکتی پھری جب ادھر سے جواب ملا کہ ہم تو خود اپنے محبوب کے نام پر فنا ہوچکے ہیں۔ اس عورت کا بکھیڑا سن کر ایک بدخو امیر نے نام دھرا اور افسانہ بنانے لگا۔ جب اس نے افسانہ بنایا (کہ یہ کام باطل ہے) تو انہوں نے اپنا عصا اس طرف اچھال دیا اور وہ بدخو امیر جو سنی سنائی گھڑی گھڑائی باتوں کے افسانے بنایا کرتا تھا، گھر میں بیٹھے بیٹھے سانپ کے کاٹے سے پھڑک کر مرگیا (اور افسانہ بنانے والوں کا اکثر ایسا ہی انجام ہوا کرتا ہے۔ ) اس کے مرنے پر اس کے حمایتیوں اور شہر میں فتنہ و فساد کا شوق رکھنے والوں نے واویلا کیا اور چوپٹ راجہ کے حضور جاکر فریاد کی، سو وہ تو پہلے ہی سے بھرا بیٹھا تھا اور مدّت سے کسی بہانے کی تلاش میں تھا، لائو لشکر لے کر گرفتاری کی نیت سے ادھر چلا جہاں کنویں کا پانی یا علیؑ کہنے پر جوش میں آکر سطح تک آ جاتا ہے اور کنڈی کا ٹیڑھا میڑھا درخت ہے جو جیسے مولا علیؑ کے بستر پر چھائوں کیے رہتا ہے۔ چوپٹ راجہ کے لشکر کو دیکھ کر انہوں نے دھمال روک دیا اور اس سے کہا، ایک کتّا تھا جس کو میں نے مار دیا اور مار کر زمین میں گاڑ دیا، اس واسطے کہ کاٹ کھانے کے لیے دوڑنے والے پاگل کتّے کے ساتھ اور کیا سلوک کیا جائے؟ امیر کے حمایتیوں نے شور و غوغا سے آسمان سر پر ا ٹھا لیاکہ وہ تو زمینوں کا مالک اور دولت والا تھا اور ان کے کہنے پر راجہ نے گستاخانہ کہا کہ اگر اس گڑھے میں سے لاش نکلی تو تم اور تمہارے فقیروں کے لئے پھانسی پر لٹکنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا اور گڑھے کو کھدوایا گیا تو اس میں مرا ہوا سیاہ کتّا نکلا اور اس کے ادھ گلے پنجر میں سے ایسی سڑاند کہ کیا راجہ کیا پرجا سب تھوتھوکرتے بھاگ نکلے۔

افسانہ کردینے والے کی ہڈیاں مّٹی میں مل کر مٹّی بھی نہ بنی ہوں گی کہ چوپٹ راجہ نے بہانے سے بودے فقیر کو بلوایا کہ حضرت کا طلب گار تھا اور پلکوں سے مّٹی صاف کرکے کہتا تھا میرا مرشد لعل قلندر آتا ہے، اور اس کو ایک قصائی کے حوالے کرکے اس کی بوٹیاں دیگ میں پکوا دیں۔ بودلے کے گوشت کا سالن سینی میں سجایا اور دستر خوان پر لگا کر شہر بھر کی دعوت کی۔ ایک رکابی پوش سے ڈھانپ کر ان کو بھی بھیجی اور جب یہ رکابی ان کے سامنے آئی تو انہوں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ پھر سیدھے چوپٹ راجہ کے سامنے گئے اور تین مرتبہ آواز دی، بودلہ، بودلہ، بودلہ۔ تین مرتبہ شہر کی طرف منہ کرکے آواز دی۔ تین مرتبہ دریا کی طرف رخ کرکے پکارا۔ ذرا دیر میں جواب آیا، میرے مرشد نے پکارا، میرے لعلوں لعل میں آیا۔ گوشت کی بوٹیاں جن جن برتنوں میں رکھی ہوئی تھیں، اُڑ اُڑ کر جمع ہونے لگیں اور پورا ہو کر بودلہ بہار اٹھ کھڑا ہوا۔ شہر کے لوگوں نے دیکھا کہ کٹے ہوئے بکھرے اعضا مکانوں سے نکل رہے ہیں، شہر کی گلیوں میں اُڑے جاتے ہیں۔ جو لوگ بوٹیاں چبا رہے تھے، ان کے جبڑوں میں سے ایک دھماکے کے ساتھ بوٹیاں نکلیں اور ان کے چہروں پر سفید نشان پڑ گئے جو ان کی اولاد در اولاد کے چہروں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  میں نے اس کے پَر نہیں کاٹے

بودلے فقیر کے کٹے ہوئے اعضا جڑ گئے، شہر تباہی سے اس بار بچ گیا اور اس طرح یہ شہر تین بار تاراج ہو کر الٹ دیے جانے کے عذاب سے بچا۔ ایک رات اس بیوہ عورت کے چرخہ کاتنے سے جسے اگلی صبح اجرت لے کر بھوکے بچوں کا پیٹ بھرنا تھا اور ایک رات تیلی کے اچانک جاگ اٹھنے سے جو کولہو کے بیل کو چارہ ڈالنا بھول گیا تھا۔ اس کے بعد چوپٹ راجہ کے شہر میں اگلی بار نہیں آئی۔

سراب، سراب آسا منظر۔ غیر حقیقی اور اس کو چشم تماشا سے دیکھنے والا شخص محض وہم۔ کتنی ہی دیر سے میں اس کی طرف دیکھے جارہا تھا، پلک جھپکائے بغیر، کسی بھی احساس یا جذبے سے عاری، جیسے نہ اس کی کوئی حقیقت ہو نہ میری۔ اور پھر نہ جانے کتنی دیر تک اس غیر حقیقی طلسم کا گرفتار رہتا کہ کندھے پر ایک ہاتھ کے بوجھ نے چونکایا اور پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کردیا۔ جسے میں کمرے میں سوتا چھوڑ کر دبے پائوں باہر نکل آیا تھا، میرا دوست وہاں کھڑا تھا۔

’’نیند نہیں آرہی کیا؟،، اس نے مجھ سے پوچھا

میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

کسی چیز کی ضرورت ہے، اس نے میری خاطر میں کمی نہ رہنے کی غرض سے ایک بار پھر پوچھا۔ دن میں بھی وہ یہ سوال کئی بار پوچھ چکا تھا۔ حالانکہ اس کا جواب اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ مجھے جو چاہیے وہ کوئی چیز نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کے بس میں نہیں تھا۔ شاید اسی لیے وہ مجھے درگاہ تک اس طرح لے کر آیا تھا جیسے ہتھیلی پر پھپھولا۔ دن بھر سائے کی طرح میرے ساتھ لگا رہا۔ وہ چاہتا تو شہر کی پرانی حویلی میں اپنے لوگوں میں رہ سکتا تھا مگر میری دوسراہٹ کے خیال سے یہاں سرکٹ ہائوس میں آگیا تھا۔ وہ فرزندِ زمین تھا اور یہاں اس کے بہت تعلقات تھے۔ ’’کوئی چیز چاہیے؟ کوئی انتظام وغیرہ؟‘‘ اس نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ شاید اب کی بار میں کچھ کہہ دوں۔

میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر سر ہلا کر انکار کردیا۔ ’’تم جائو، جاکر سوجائو۔ ‘‘ میں نے اس سے کہا۔

’’لیکن تمہیں نیند جو نہیں آرہی۔ تمہارا دن بھی تھکا دینے والا گزرا ہے۔ ‘‘ اس نے زور دے کر کہا۔

میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’’کیا تمہارے شہر سے پھر کوئی خبر آئی ہے؟‘‘ اس نے جیسے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔

’’نہیں کوئی نئی خبر نہیں‘‘ میں نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا۔ ’’تین چار، تین چار آدمی تو اب روز کا معمول ہوگیا ہے۔ شہر کے لوگ بھی اتنے پر توجّہ نہیں دیتے۔ ‘‘ میں نے اس کی چبھتی ہوئی نظروں سے آنکھیں چراتے ہوئے جواب دیا۔

میں نے نظریں پھر سامنے کی طرف مرکوز کرلیں۔ دریا کے رخ پر سے آنے والی ہوا سے ٹھنڈک بڑھ گئی تھی۔ خاکستری رنگ کے کچّے پکّے مکانوں میں روشنیاں مدھم ہوچکی تھیں۔ شہر پر چھایا ہوا غبار آلود دھندلکا آہستہ آہستہ چھٹ رہا تھا۔

’’ اب کس سوچ میں پڑ گئے؟‘‘ اس کی آواز نے ایک بار پھر چونکا دیا۔

’’سوچ رہا تھا کہ نیّرہ نور کا فیض والا کیسٹ تم نے گاڑی میں رکھ لیا تھا کہ نہیں؟ واپسی پر سنیں گے۔ ‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کون سا؟‘‘ اس نے میرے ہڑبڑائے ہوئے سوال میں موجود اتنی تفصیل پر تعّجب سے پوچھا۔

’’وہ جس میں آتا ہے کہ خون کے دھبّے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد۔ ‘‘میں نے جواب دیا۔

’’معلوم نہیں‘‘ اس کی آواز آہستہ ہوگئی۔ اتنی آہستہ کہ اب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ادھورے چاند کی پھیکی روشنی اس کے چہرے کو اُجال رہی تھی۔ ایک کنپٹی پر سفید نشان واضح تھا۔

میری نظریں وہیں جم کر رہ گئیں۔ اور جیسے سینے کے اندر کوئی میرے دل کو مٹھّی میں دبا کر بھینچنے لگا۔

میں شاید اس کی طرف سے نظریں نہ ہٹا سکتا۔ لیکن درگاہ سے نقارے کی آواز آئی۔ کیا یہ واقعی نقارے کی آواز ہے، میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ صبح ہونے میں اب کتنی دیر رہ گئی ہو گی؟ میں واپس جانے کے لیے مڑا۔ اس کا چہرہ اور نشان بھی پلٹے۔ یہ نشان نہیں، چاندنی کا عکس تھا۔

میں تھکے تھکے قدموں سے سرکٹ ہائوس کی طرف واپس ہونے لگا۔ کھوئی ہوئی نیند میں سے اب کتنی میرے حصّے میں آسکے گی؟

تب میں نے دیکھا وہ الٹے قدموں چل رہا ہے۔ اس کی آنکھیں کُھلی ہیں، پوری کی پوری، مگر دیکھ نہیں سکتا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ سرکٹ ہائوس کی طرف نہیں، دوسری جانب جہاں پتہ نہیں چلتا کب ختم ہو جاتی ہے ٹیکری کی کگر۔ اور اگلے ہی لمحے وہ وہاں نہیں تھا۔ میں گھبرا کر اس کی طرف بڑھا لیکن ہاتھ آیا تو مّٹی…

اور اس لمحے مَیں پورا ہوگیا۔ طلب کی آگ بھڑکی تو میری دید واپس آئی اور یاد ۔ اس طلب سے میں نے اپنے آپ کو جان لیا اور جانا تو پھر جوڑ لیا۔ میں نے تن بدن سے خون پونچھنا شروع کردیا اور سموچے بدن کو چھو کر اطمینان کیا کہ جہاں جہاں سے گوشت اُڑا تھا سب پورا ہوگیا اور جو حصّے کاٹے گئے تھے، اکٹھے ہوکر جُڑ گئے۔ پھر پورے ہوجانے والے اپنے بدن کو سمیٹ کر سیہون کی مّٹی پر آنکھیں بچھا دیں کہ اب میرا لعلوں لعل جھولے…


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔