دہشت گردی روکنے کی ذمہ داری پولیس پر آن پڑی ہے


\"\"

شومئی قسمت دیکھو، میں زندگی میں پہلی مرتبہ انڈیا گیا۔ بڑا خوش تھا۔ دہلی ہوائی اڈے پر امیگریشن کی لائن میں لگا ہوا تھا کہ نظر سامنے ٹی وی سکرین پر پڑی۔ ٹی وی سکرین پر تاج محل ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے کی لائیو فوٹیج چل رہی تھی۔ میڈیا کی زبان میں ”کہانی بنی جا رہی تھی“۔ پاکستان کا نام بول رھا تھا۔ امیگریشن کے جھمیلوں سے فارغ ہو کر ہوٹل پہنچے تو کچھ اطمینان ہوا مگر دن ڈھلنے سے پہلے مقامی پولیس کے پاس حاضر ہو کر انہیں دہلی میں اپنی موجودگی کی اطلاع دینا ابھی باقی تھا۔

سارا دن ہوٹل کے کمرے میں ٹی وی سکرین کے سامنے گذرا۔ معصوم اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور پاکستان کی شہرت پر ایک اور داغ کے احساس کے ساتھ ساتھ عین اس وقت انڈیا میں ہونے کا خوف بھی تھا۔ کہانی بنی جاتی رہی تھی اور پاکستان دہشت گردی کی اس واردات کے لئے نامزد ہوتا گیا۔ میرے پاکستانی پاسپورٹ پر دہلی پولیس کے پاس اندراج کے ثبوت کی مہر لگنا ابھی باقی تھا۔

رات کے دس بج چکے تھے۔ میں پولیس سٹیشن تھوڑا لیٹ پہنچا، اس لئے بہت فکر مند تھا لیکن وہاں جلی حروف میں لکھا تھا ”دفتر چوبیس گھنٹے کھلا ہے“ تھوڑا اطمینان ہوا۔ میرے متعلقہ دفتر میں نچلے درجے کا ایک پولیس افسر موجود تھا۔ ان صاحب کے چہرے پر اطمینان میرے لئے بھی تسلی کا باعث بنا۔ ممبئی کی تازہ ترین کہانی کے کوئی اثرات اس دفتر میں نہ تھے۔ مجھے لگا کہ تھانے میں ٹی وی نہیں ہو گا اس لئے وہاں ممبئی کی خبر ابھی پہنچی نہیں تھی۔

پولیس والےصاحب مختلف حیلے بہانے کر کے میرا کام کرنے سے انکار کر رہے تھے اور مجھے کل صبح دوبارہ حاضری دینے کا کہہ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ ان سے بڑا افسر کر سکتا جو کل صبح سے پہلے میسر نہیں ہو گا۔ ان کی ”نہ“ بہر حال اپنے اندر ایک شرمیلی حسینہ والی ”ہاں“ کے واضح اشارے رکھتی تھی اور یہ بھی میرے لئے اطمینان کا باعث تھا۔

پولیس والے صاحب میرے ساتھ بہت گھی شکر ہو گئے۔ میرے ساتھ پاکستانی سگریٹ پیا اور پیک میں موجود باقی کے سگریٹ بطور تحفہ بلا جھجھک قبول فرمائے۔ میرے پلے سے اپنے اور میرے لئے چائے منگوائی۔ چائے لانے والے ”نکے“ کے لئے چائے کی قیمت سے دگنی ٹپ بھی بڑی فراخ دلی سے مجھ سے ہی دلوائی۔ اور پھر اتنی دوستی ہو گئی کہ دو سو انڈین روپے کے بدلے میرے پاسپورٹ پر مطلوبہ مہر بھی ثبت کر دی۔ تھانے سے میرے نکلنے سے ذرہ پہلے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہی کام عام دنوں میں وہ ایک سو روپے میں بھی کر دیتے تھے لیکن آج کے ممبئی والے واقعے سے معاملات کی حساسیت بڑہ گئی ہے۔ اس سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر بہت اثر پڑے گا اور ایسی سہولیات کی ”قیمتیں“ بھی متاثر ہوں گی۔

یہ واقعہ ایک دوست نے اپنے انڈیا کے دورے کے بعد ممبئی حملوں کے بعد سنایا تھا۔ آج شہباز قلندر کے دھماکے میں دکھی ہوتے ہوئے اچانک یہ واقعہ مجھے یاد آ گیا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معیار پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ لہذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ ادارے دہشت گردی کی روک تھام کر لیں گے تو یہ ضرور ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ صرف یہی نہیں ہم اپنی پولیس کا معیار اگر فرانس جتنا اچھا بھی کر لیں تو بھی دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام شاید ممکن نہ ہو سکے۔ تو اس کا حل پھر ہمیں کہاں ڈھونڈنا ہے؟

دہشت گردی دنیا کے کسی حصے میں بھی ہو دہشت گردی ہی ہے۔ اس کے پیچھے ایک خاص ذہن ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ وہی ذہن ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمیں اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنا اور اسے کاٹنا ہو گا۔ ابھی تک ہم نے ایسا نہیں کیا۔ ہم ایک طرف تو ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کو مار رہے ہیں لیکن دوسری طرف انتہا پسند ذہن اور دہشت گرد پیدا کرنے والی فیکٹریاں اسی زوروشور سے کام کر رہی ہیں۔ اور ان فیکٹریوں سے تیار شدہ ذہن کو مزید (اور مسلسل) پان لگانے والی بھٹیاں بھی بڑی دیدہ دلیری سے اپنا کام کر رہی ہیں۔ یہ بھٹیاں ٹی وی انکروں، مسجد کے لاؤڈ سپیکروں اور اخباری کالموں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ ان بھٹیوں کو چلانے والے شرمندہ ہیں نہ کسی سے ڈھکے چھپے۔ بلکہ وہ تو ہیرو، محب وطن اور نظریاتی اساس کے تحفظ کے داعی ہیں۔ اور ان کا دعوےتسلیم بھی کیے جاتے ہیں۔

ہم اس سلسلے میں کر کیا رہے ہیں؟ شاید کچھ خاص نہیں۔ ہماری حکومت کچھ زیادہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔

ہمارا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ کالعدم فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں سے وہ اس لئے ملاقاتیں کر لیتے ہیں اور ان کے ساتھ خوش باش نظر آتے ہیں کیونکہ وہ عام دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ تو صرف دوسرے فرقوں پر حملے کرتے ہیں۔ ہمارے قانون ساز اداروں نے دہشت گردی کا حل یہ نکالا ہے کہ سکولوں میں عربی زبان کو لازمی مضمون قرار دیا جائے۔ اس ”مسئلے“ پر تقریبا ساری بڑی سیاسی پارٹیوں کا بہت خطرناک اتفاق دیکھنے میں آیا ہے۔ معتبر ریاستی اداروں نے دہشت گردوں کو سوشل ورکر بنا کر یقین اور اطمینان کر لیا ہے۔

اس ساری صورت حال میں دہشت گردی کو روکنے کا کام پولیس کا ہی رہ گیا ہے۔ پھر بھی ہمیں حیرانی ہے کہ دہشت گردی رک کیوں نہیں رہی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 133 posts and counting.See all posts by salim-malik