دہشت گردی پولیس مقابلہ ذہنیت سے ختم نہیں ہوگی


\"\"آہوں اور سسکیوں کے درمیان ملک بھر کے شہروں اور دیہات میں ان شہدا کو سپرد خاک کر دیا گیا جو کل رات سہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر حاضری کے دوران خودکش حملہ آور کے بم دھماکہ کا نشانہ بنے تھے۔ 5 روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں یہ دسواں حملہ تھا اور سب سے زیادہ شدید اور مہلک بھی ثابت ہوا۔ مرنے والوں کی تعداد 88 تک جا پہنچی ہے اور 300 سے زائد لوگ زخمی ہیں جن میں سے 70 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ ایک المناک صورتحال ہے۔ حکومت و سکیورٹی فورسز کے علاوہ عوام کی بڑی اکثریت ایک صوفی بزرگ کی درگاہ پر دھمال ڈالنے والوں پر اس بزدلانہ حملہ پر شدید غم و غصہ کی کیفیت میں ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حملہ کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے اور افغان سفارت خانہ کے نمائندہ کو طلب کرکے افغانستان میں موجود 76 دہشت گرد لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے یا انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ایک صوفی بزرگ کے مزار پر حملہ کی مذمت کی ہے۔ لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں میں ملوث لوگوں کو پاکستان کے حوالے کریں گے یا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ افغان سکیورٹی فورسز کسی مسلح گروہ کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ افغان حکومت کو اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے پاکستان کے طرز عمل سے شکایت رہتی ہے۔

دہشت گردوں کو سب سے موثر جواب سہون شریف کے عوام اور درگاہ شہباز قلندر کے متولی سید مہدی شاہ نے دیا ہے۔ انہوں نے آج صبح ساڑھے تین بجے درگاہ پر روایتی گھنٹیاں بجا کر دن کا آغاز کیا اور اعلان کیا کہ کوئی دہشت گرد انہیں اپنے کام سے نہیں روک سکتا۔ اسی طرح لوگوں نے بڑی تعداد میں شام کے وقت دھمال میں شرکت کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گرد انہیں خوفزدہ کرنے اور انہیں اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ سہون اور پاکستانی عوام کا یہی حوصلہ بالآخر ملک میں دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کی ناکامی کا سبب بنے گا۔ وزیراعظم نواز شریف ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزرا اور دیگر عہدیداروں نے سہون کا دورہ کرکے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔ وزیراعظم سہون میں ہونے والے حملہ کو ترقی پسند پاکستان پر حملہ قرار دے چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کل رات سے ہی سہون پہنچے ہوئے ہیں۔ اس دوران پنجاب پولیس نے 13 فروری کو لاہور میں ہونے والے حملہ آور کے سہولت کار کو گرفتار کیا ہے اور چند ہی گھنٹوں میں اس کا اعترافی بیان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے خود یہ اعلان کرتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ صورتحال پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ اس لئے ان مطالبات کو غیر ضروری سمجھا جائے کہ کراچی اور سندھ کی طرح پنجاب میں بھی رینجرز کو انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا جائے۔ اس حوالے سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن پنجاب حکومت اپنا اختیار کسی وفاقی ادارے کے ساتھ بانٹنے پر آمادہ نہیں ہے۔ حالانکہ وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، شہباز شریف کے ذاتی دوست ہیں۔ لیکن امور نگہبانی میں دوستی کا لحاظ شاید ممکن نہیں ہوتا۔

فوج، سکیورٹی فورسز اور پولیس نے ملک بھر میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے اور درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں 100 سے زائد افراد کو ہلاک بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت عوام یکے بعد دیگرے حملوں کے بعد نہایت رنج اور غصہ کی کیفیت میں ہیںِ، اس لئے حکام کو یقین ہوگا کہ عسکری اداروں کی کارروائی میں دہشت گرد قرار دے کر درجنوں افراد کو مار دینے کی کارروائی پر کوئی چبھتا ہوا سوال نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ملک کے عوام اس بات پر خوشی کا اظہار کریں گے کہ مستعد فوج اور پولیس نے ایک حملہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرکے انہیں بتا دیا ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے کمزور نہیں ہیں۔ یہ اندازہ درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال تو ذہنوں میں ضرور جگہ بنائے گا کہ پولیس اور فوج ان مشتبہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کےلئے سہون میں حملہ کا انتظار کیوں کر رہی تھیں۔ اگر انہیں معلوم تھا کہ تخریب کار کہاں چھپے ہوئے ہیں تو خودکش حملہ سے پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس قسم کی انتقامی کارروائی اور عوام کے غصہ سے فائدہ اٹھا کر یا اسے ٹھنڈا کرنے کےلئے درجنوں افراد کی غیر واضح ہلاکت، یقین کی بجائے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ یہ شبہات خوف میں تبدیل ہوتے ہیں۔ لوگ حکومت اور اداروں پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔

عوام اپنی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف صلاحیت کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ اس لئے ریاست جب ایک حملہ کے بعد لوگوں کو مار کر یہ بتائے گی کہ اس نے دہشت گردوں کو ختم کر دیا ہے تو یہ الجھن ضرور پیدا ہوگی کہ اچانک حملہ کرکے مارنا ہی مطلوب ہے تو ریاست و حکومت اور دہشت گردوں میں کیا فرق ہے۔ حکومت کو بہرصورت یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ اس کے اداروں کو کسی مناسب قانونی کارروائی کے بغیر اس ملک کے شہریوں کو ہلاک کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہئے کہ کون قصور وار اور سزا کا مستحق ہے۔ اکیسیویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ ان دنوں ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ زیر غور ہے۔ یہ عدالتیں معمول کے قانونی طریقہ کو اختیار کئے بغیر مختصر اور موثر کارروائی میں ملزمان کو سزائیں دیتی ہیں۔ ان عدالتوں کی کارروائی پر بھی انسانی حقوق کے لئے جہدوجہد کرنے والوں کو اعتراض ہے۔ اس طریقہ کو ریاست کا جبر اور بدحواسی تو کہا جا سکتا ہے لیکن ناپسندیدہ عناصر سے نمٹنے کےلئے مناسب اقدام قرار دینا مشکل ہوگا۔ اس کے باوجود جب حکومت کے پاس ملزمان کو پھانسی دینے کا یہ آسان متبادل موجود ہے تو براہ راست مقابلہ میں کسی معمول کی قانونی کارروائی کے بغیر درجنوں لوگوں کو مارنے کے عمل کے بارے میں سوال اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مہذب ریاست اپنے عسکری اداروں کو اس طرح لوگوں کو مارنے کا حق نہیں دے سکتی۔ ان ہلاکتوں کے بارے میں نہ تفصیلات منظر عام پر آئیں گی اور نہ ہی کوئی خود مختار ادارہ ہلاک ہونے والے شخص کے مارے جانے کی وجوہ اور حالات کا جائزہ لے کر یہ تعین کرے گا کہ یہ کارروائی متعلقہ اداروں کے قانونی اختیار کے مطابق تھی یا کہ نہیں۔ یوں بھی اس ملک میں اگر تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن قائم کئے جائیں تو ان کی رپورٹ یا تجزیہ اول تو سامنے نہیں آتا اور اگر جسٹس فائز عیسیٰ جیسا جج اپنی تحقیقات عام کرنے کا فیصلہ کرے تو وزیر داخلہ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرکے معاملہ ختم کر دیتے ہیں۔

اس کے باوجود یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ چھپ کر وار کرنے والے اور اپنے ایجنڈے کو زبردستی نافذ کرنے کی خواہش رکھنے والے عناصر حملہ کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر ریاست سے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان عناصر اور حکومتی اداروں کے طرز عمل میں بنیادی اور واضح فرق سامنے لانا ضروری ہے تاکہ سب یہ جان لیں کہ دھماکے اور خودکش حملہ کرنے والوں اور قانون اور قاعدہ کے مطابق عمل کرنے والے اداروں میں فرق موجود ہے۔ یہ فرق جس قدر واضح ہوگا ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اتنی ہی آسانی سے جیتی جا سکے گی۔ یہ فرق جس قدر غیر واضح ہوتا چلا جائے گا، اتنا ہی تخریبی عناصر کےلئے اپنی غیر قانونی اور غیر انسانی حرکتوں کا جواز فراہم کرنا آسان ہو جائے گا۔ حکومت کو اس ملک کے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرنا ہے لیکن اس پر یہ ذمہ داری مملکت پاکستان میں رہنے والے سب باشندوں کی طرف سے عائد ہوتی ہے۔ وہ کسی شہری کو محض شبہ کی وجہ سے ہلاک کرکے اپنی اخلاقی اتھارٹی مضبوط و مستحکم نہیں کر سکتی۔ ایسے واقعات دہشت گردوں کو مزید حوصلہ دینے کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ وہ ان ’’مظالم‘‘ کی درد بھری داستانیں سنا کر درجنوں یا سینکڑوں دوسرے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے راستے پر چلنے کےلئے تیار کر سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف لڑائی مشکل اور پیچیدہ ہے۔ یکے بعد دیگرے کئی حملوں کے بعد حکومت کو شدید چیلنج کا سامنا بھی ہے۔ لیکن اسے اضطراری حالت میں ’’گھیرو اور مارو‘‘ جیسے اقدام کا نہ تو حق حاصل ہے اور نہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حکومت کو قوانین مضبوط و موثر بنانے، عدالتی اصلاحات کرنے، استغاثہ کے ہاتھ مضبوط کرنے اور سب سے بڑھ کر انٹیلی جنس اداروں میں ہم آہنگی برقرار رکھنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی قومی ایکشن پلان کی ان دفعات پر خاص طور سے عمل کیا جائے جو نفرت ، شدت پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمہ کےلئے اس منصوبہ میں شامل کی گئی تھیں۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں سے نمٹنے کےلئے پرعزم بھی ہے اور اس کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ایسی حکومت مشکوک حالات میں شہریوں کو کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنا سکتی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ یہ ہماری ثقافت، تاریخ اور تہذیب پر حملہ ہے۔ ملک کا ہر شہری ایسے عناصر کا مقابلہ کرے گا۔ وزیر داخلہ کی یہ بات سو فیصد درست ہے لیکن اس میں یہ اضافہ کرنا ہوگا کہ حکومت کو اپنے شہریوں کو اس مقابلہ کےلئے تیار کرنا ہوگا۔ یہ تربیت صرف اسلحہ اور طاقت کے زور پر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس کےلئے اسکولوں، مدرسوں اور گھروں میں نوجوانوں کی ذہنی تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ حکومت اس ذمہ داری کو سمجھنے اور پورا کرنے میں کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے۔ اسی لئے کسی دہشت گرد حملہ کے بعد پولیس مقابلہ میں لوگوں کو ہلاک کرنے کی نوبت آتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali