قومی سطح پر پائی جانے والی ’مہلک سادگی‘ کے نقصانات


 \"\"لاہور مال روڈ خودکش دھماکہ کرکے دہشت گردوں نے پہلے پنجاب میں مہلک دستک دی، پھر لال شہباز قلندر کے مزار کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کردیا کہ وہ نہ تو کمزور ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کی کمر ٹوٹی ہے اور پورا پاکستان ان کے نشانے پر ہے، چاہے وہ بلوچستان میں سیکورٹی اہلکار ہوں یا خیبر پختونخواہ میں عدلیہ کے عہدیداران۔ روایتی مذمتی بیانات کے علاوہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے حقیقی سدباب کے بارے میں وفاقی حکومت اور سیکورٹی ادارے کس نوعیت کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں ابھی محض قیاس آرائی سے ہی کام لیا جاسکتا ہے۔ امکان یہی ہے کہ فوری طور پر چند مبینہ پولیس مقابلوں کے انعقاد کے بعد یہ یقین کرلیا جائے گا کہ جو چند دہشت گرد پنجاب اور سندھ میں داخل ہوئے تھے اِن کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ گذشتہ برس گلشن اقبال میں ہوئے خوفناک بم دھماکوں کی طرح مال روڈ لاہور اور لال شہباز قلندر بم دھماکوں کو بھولنے کی سرکاری کوشش کی جائے گی اور پھر راوی چین ہی چین لکھنا شروع کر دے گا۔

اصل حقیقت ایک بالکل الگ اور مسترد شے بن کررہ گئی ہے جس کی طرف کوئی اشارہ کرنے کو بھی تیار نہیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتیں روزانہ ہزاروں ایسی دھمکیاں اور رپورٹس موصول کرتی ہیں جن میں دہشت گرد حملوں اور ان جیسے دیگر خطرناک امکانات کی طرف اشارہ موجود ہوتا ہے۔ وزرائے اعلیٰ سیکرٹریٹ میں بیٹھے منشی ان رپورٹس کو چار لفافوں میں بند کر کے صوبائی گورنروں، داخلہ سیکرٹریوں، پولیس سربراہان اور فوجی خفیہ اداروں کے مقامی دفاتر کو ارسال کردیتے ہیں۔ صرف گذشتہ سال پنجاب حکومت کے منشیوں نے چونتیس ہزار ایسی دھمکیوں کو ملفوف کرکے دوسرے اداروں کی طرف بھیجا، جن میں دہشت گرد حملوں، فرقہ وارانہ قتل و غارت، اغوا برائے تاوان، دہشت گردوں کی کسی اجتماع، دوسرے مسالک کی مساجد پر قبضوں، فرقہ پرست گروہوں کی بھتہ خوری، سرکاری عہدیداروں اور سیاست دانوں سے روابط اور اس طرح کے کئی عنوانات کے تحت رپورٹس ارسال کی گئی تھیں۔ پنجاب میں ایسی تمام اطلاعات کا منطقی انجام سی ٹی ڈی کے منعقد کردہ کسی پولیس مقابلے کی صورت میں ہوتا ہے اور اس کے بعد یقین کرلیا جاتا ہے کہ جو چند دہشت گرد سر اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے اُنہیں مار دیا گیا ہے۔

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور اور سفاک دہشت گرد تنظیمیں فعال ہوچکی ہیں اور اگرچہ ہم قومی سطح پر یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ اِن تنظیموں کے انتظامی ڈھانچے افغانستان میں ہیں اور اگر افغان حکومت ہمارے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کرے تو اِن ڈھانچوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ ایک سادہ سوچ ہے جس کی مدد سے دہشت کی پیچیدہ جزئیات کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی بدولت دہشت گرد گروہوں میں باہمی رابطے اور دہشت گرد حملوں کے لیے درکار انتظامی اہلیت کا زک پہنچی تھی اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کسی حد تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ لیکن دہشت گردوں کی اس جزوی کمزوری اور انتظامی نقص کو اپنی حتمی فتح قرار دے دینا قدرے عجلت پر مبنی فیصلہ تھا کیوں کہ اگر پاکستان کی سرحدات میں دہشت گرد گروہ تتر بتر ہو رہے تھے تو دوسری طرف افغانستان میں اِنہیں دوبارہ منظم ہونے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن اس سارے عمل میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ محض افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کا دوبارہ منظم ہونا اس بات کا اشارہ نہیں کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آجائے گا بلکہ اِس میں انتہائی بنیادی عناصر خود پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ہزاروں سہولت کار، وسیع روابط اور دوسرے مددگاری عوامل ہیں جن کی سرکوبی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔ ضرب عضب دہشت گردوں کو قبائلی علاقوں سے نکال باہر کرنے میں تو کامیاب رہا لیکن پاکستانی سرحدات کے اندر پہلے سے موجود اس وسیع نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکا بلکہ دہشت گردوں کے کئی ہمدرد مقامی چہرے وفاقی و صوبائی حکومتوں میں موجود اپنے غم خواروں سے مدد حاصل کرتے رہے۔

پاکستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے جس کے ڈانڈے نہ صرف ہماری علاقائی بالادستی کی خواہش سے ملتے ہیں بلکہ بعض علاقائی تنازعات کی جڑوں میں بھی پیوست ہیں۔ ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے خواہاں ہیں اور کشمیری مجاہدین کے کئی گروہوں سے ریاستی سطح پر انتہائی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں مسلح جدوجہد کے کئی اہم کردار ہمارے ہاں موجود ہیں اور اُن سے ہمدردی کی حامل کئی مذہبی تنظیموں اور گروہوں کے براہ راست تعلقات کئی ایسے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ہیں جو ریاست پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ہم آج تک یہی نہیں سمجھ پائے کہ یہ ’چومکھی‘ پیچیدگی ہمیں کئی عشروں سے بدحال کیے ہوئے ہیں اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی دہشت گردوں کی بلواسطہ مدد کرتے رہتے ہیں۔

اگرچہ قومی سطح پر ہمارے لاتعداد زیرک دانش وروں اور سابق فوجی جرنیلوں نے ہمیں دہشت گردوں اور باعزت مجاہدین کے درمیان پائے جانے والے باریک فرق کو سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ قتل وغارت کی مرتکب تنظیمیں جب مسلح ہوکر بارہ مولہ یا اننت ناگ میں ہندوستانی فوج پر حملہ کرتی ہیں تو اُس وقت وہ انتہائی قابل احترام ہوتی ہیں اور اسلام کی بالادستی سمیت پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح جب یہ تنظیمیں افغان طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں نیٹو اور امریکی کی کافر افواج پر دھاوا بول رہی ہوتی ہیں تو یہ بھی اسلام کی بالادستی اور افغان بھائیوں کی سلامتی کی جنگ ہوتی ہے لہذا اس قسم کے ناگزیر جہاد کی بھی جتنی ہوسکے حمایت اور مدد کرنی چاہیے۔ اس کے بعد جب یہ تنظیمیں واپس پاکستان میں اپنے مسلکی مخالفوں یا پاکستانی اداروں کے خلاف خودکش حملے کرتی ہیں تو اِن سے صرف نظر کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمارے وفاقی وزیرداخلہ تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ فرقہ وارانہ قتل وغارت کی ذمہ دار مقامی جماعتیں اور گروہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ قومی ذرائع ابلاغ بھی اس بحث میں ہلکان ہوچکے ہیں کہ کون اصل میں دہشت گرد ہے اور کون اسلام کا سچا سپاہی اور حقیقی محب وطن پاکستانی۔ قومی سطح پائی جانے والی اس ’مہلک سادگی‘ کا کوئی مداوا نہیں لیکن دوسری طرف ریاست پاکستان ہلکان ہو رہی ہے اور اس کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو سے زائد پاکستانی دہشت گردحملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور مزید دہشت گرد حملوں کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔ ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں ایک بار پھر اپنی قوت مجتمع کرکے پاکستان کے خلاف متحد ہوچکی ہیں۔ (جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔