مجھے محبت سے محبت ہے


\"\"ویلنٹائن ڈے حرام ہے یا حلال اس بحث میں جانے سے پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رسوم و رواج ہم تک پہنچتے کیسے ہیں۔ رسوم و رواج کی ترسیل کو تین حصوں میں بانٹا جاتاہے۔

Diffusionism-1 جسکا مطلب ہے ثقافتی یا رسوماتی ”پھیلاﺅ“ کا ہونا اور اس پھیلاﺅ ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچنا۔ Acculturation-2ثقافتی یا رسوماتی عناصر کا چناﺅ یعنی جب کوئی رسم یا رواج ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچتا ہے تو اس معاشرے کے افراد یہ طے کرتے ہیں کہ اس رسم کو کس حد تک اپنانا یا رد کرنا ہے۔ Assinilation-3 ثقافتی یا رسوماتی عناصر کا اس حد تک کسی دوسرے معاشرے میں سرایت کرجانا کہ پھر معاشرے کے افراد کے لئے اس فرق کا تعین کرنا مشکل ہوجائے کہ یہ رسم بنیادی طور پر ہے کہاں کی ہے۔ یا اس کی تاریخ کیا ہے یا کہ یہ رسم ہماری ہے بھی یا نہیں۔ اس کی بہت عام سی مثال شادیوں میں مہندی کی رسم سے کی جاتی ہے کہ یہ اس قدر ہم میں سرایت کرچکی کہ فرق باقی نہ رہا کہ رسم چلی کہاں سے تھی۔ مگر آج ہماری شادیاں اس کے بغیر نامکمل تصور ہوتی ہیں۔ Assimilationکا عمل 3چیزوں میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جب آپ معاشرے کی خدوخال کی تشکیل میں ، رویوں میں، زبانوں میں اور یہاں تک کہ خاندانوں کی تشکیل تک کے لئے مختلف رواجوں کو اپنے اندر ضم کرلیتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ رواج آپ کے اپنے رواج کہلانے لگتے ہیں۔ یہ پھیلاﺅ چناﺅ اور سرائیت کا عمل مختلف ذریعوں سے ایک معاشرے سے دوسرے تک ہوتا ہے اور یہ ذرائع تجارت میڈیا ، جنگ اور ہجرت ہیں جن کے ذریعے رسوم و رواج اپنا سفر طے کرتے ہیں۔

اب ویلنٹائن کے تناظر میں دیکھا جائے تو Globalizationکے دور میں یہ ہم تک پھیلاﺅ کے ذریعے آیا۔ ہم من چلوں نے اس کا ’چناﺅ‘ بھی کیا۔ اب بحث شروع ہوئی کہ اس کو ’سرائیت ‘ بھی کرنے دیا جائے یا نہیں۔ یہاں ایک لمبی نہ ختم ہونے والے لڑائی شروع ہوئی۔ ہم دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ایک دھڑا جو اس کو منانے کے حق میں اور دوسرا اس کو مذہب سے متصادم قرار دیتے ہوئے نظر آیا۔ کوئی بھی رسم یا رواج حلال یا حرام نہیں ہوتا اس کے اپنانے کے طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتاہے مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اختلاف آخر ہے کس بات کا۔ یہی کہ 14فروری کو محبت کا اظہار نہ کیا جائے کہ یہود و نصاری کی رسم ہے تو کیا سال کے 364 دن محبت کا اظہار اس طرح سے کر لیا جائے جس کا 14 فروری کو سوچا تھا بس 14 تاریخ ” تاریخ ممنوعہ “ قرار دے دی جائے اور کیا واقعی صرف 14 تاریخ نوجوانوں کی بے راہ روی کی ذمہ دار ہے۔ اور کیا یہ بے راہ روی 364 دن کی جائے تو مذہب کو کوئی خطرہ نہ ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  جنگ کے منڈلاتے سائے

پہلے اپنی تربیت کا جائزہ لے لیں۔ میری نظر سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا حکم نامہ گزرا جو 14 فروری کے حوالے سے سامنے آیا۔ اس کا ایک نکتہ یہ تھا کہ والدین اپنے بچوں کو اس دن اپنی زیر نگرانی رکھیں۔ ٹھیک ہے وزیر اعلیٰ صاحب آپ کا حکم سر آنکھوں پر صرف 14 فروری کو میں نے اپنے نوجوانوں کو خوب اپنے زیر نگرانی رکھا وہ پھر بھی پھول اور تحائف کا تبادلہ کر آئے۔ میرے نوجوانوں کو سمجھ ہی نہ آئی کہ جو حکم آپ صادر فرما رہے ہیں آپ کا میڈیا اس کی تشہیر کے لئے دن رات پروگرام چلارہا تھا۔ شہروں کے ہوٹلوں نے ویلنٹائن کے لئے سپیشل آفرز دے رکھی تھی۔ پھولوں والے غبارے والے سب اپنا کاروبار کر رہے تھے اور سڑکوں پر یہ کہتے نظر آئے بیٹا یہ جلدی سے پھول غبارے خرید لو اس سے پہلے کہ پولیس کی گاڑی آ جائے سوال یہ کہ کیا کوئی رسم اس لیے نہ منائی جائے کہ حکومت اس پر اپنی ریاستی اخلاقیات لاگو کر رہی تھی۔ عدلیہ کا فیصلہ ایک ہی روز میں آ جانا کہ اس دن پر پابندی ہو گی اور کوئی تقریبات اس سلسلے میں نہ کی جائے گی کس قدر احسن قدم ہے؟ عدالتوں میں ایک ایک کیس کو لوگ برسوں سے بھگت رہے ہیں اور اُن کے فیصلے نہیں آتے اور کسی بھی رسم کو منانے کے خلاف ایک دن میں ہی جج صاحب کا فیصلہ آنا کیا مضحقہ خیز نہیں ہے؟ اور اس بات کے گارنٹی کون دے گا کہ جج صاحب ذاتی طور پر معاشروں میں پھیلاﺅ چناﺅ کی ثقافتی تقسیم پر کتنے کھلے دل و دماغ کے شخص ہیں۔ یا صرف ان کی ذاتی رائے ہی معاشرے کے افراد کو ان کا تابع بناتی ہے؟

ریاستی اخلاقیات کا دباﺅ نوجوانوں پر تب ہونا چاہے کہ جب ریاست ان کے باقی حقوق کو نظر انداز نہ کرتی ہو۔ ڈگریاں لے کر نوکریوں کی تلاش میں بھٹکتے نوجوانوں سے آپ کھیل کے میدان چھین لیں، بسنت کے تہوار چھین لیں، محبتوں کے اظہار چھین لیں تو نوجوان اپنا اظہار کہاں کریں۔ وہ وقت دور نہیں جب آپ کو نوجوانوں کی بڑی تعداد جرائم میں ملوث نظر آئے گی۔ جج صاحب ایک دن میں ویلنٹائن ڈے پر تو پابندی لگا کر نوجوانوں کو قابو کر سکتے ہیں کیا یہ پابندی کہ بسنت صرف کھیلوں میدانوں میں کرنے پر اجازت ہوگی، نہیں ہوسکتی تھی۔ اور یہ کہ نوجوانوں کو کھیل کے میدانوں تک محدود کرنے کے لئے بھی تو کوئی فورس تیار ہوئی۔ کیا اعلیٰ عدلیہ، ریاستی اداروں سے یہ سوال نہیں کرسکتی تھی کہ نوجوانوں کو نوکریاں دو، کھیل کے میدان دو، ان کو ریاستی  سطح پر وہ موقع فراہم کرو کہ وہ جائز طریقوں پر اپنی ذات کا اظہار کرپائیں یا صرف ایک دن پہ پابندی سے فرض ادا ہوگیا۔ ہمارا المیہ ہمارے چھپے ہوئے رویے ہیں۔ ہم تہواروں کو کھلے عام منانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہاں وہی کام اگر ہمارے نوجوان ہم سے چھپ کر پورا سال کرتے رہیں تو ہم پرسکون ہیں کہ ہم نے وزیر اعلیٰ صاحب کی بات مان لی کہ اپنے بچوں کو اپنی زیر نگرانی رکھا اور 14 تاریخ گزار لی۔ پابندی لگانی ہے تو ان مارننگ شوز پر لگائیں جو ویلنٹائن کی تشہیر کتے ہیں اس Captalismیہ لگائیں جو اس کی آڑ میں اپنا کاروبار کرتا ہے۔ ان والدین کی تربیت پر لگائیں جو مطمئن ہیں کہ اگر انہوں نے صحیح غلط کی پہچان نہیں سکھائی تو ان کا بچہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مصروف نہیں ہے۔ موبائل کمپنیوں پر لگائیں جن کے Packageنوجوانوں کو صرف ایزی لوڈ تک محدود کئے ہوئے ہیں پابندی لگانی ہے تو چھپے ہوئے رویوں پہ لگائیں۔

اسی بارے میں: ۔  اب فیصلے نہیں، جج بولتے ہیں!

خدارا نوجوانوں کو اپنی ذات کے اظہار کا موقع دیجئے۔ یہ ویلنٹائن بسنت کھیل کے میدان صرف ذرائع ہیں ان کے استعمال کے طریقے سکھائے جاسکتے ہیں۔ تربیت کے اداروں میں اپنے اپنے کردار کو درست انداز میں ادا کرنے کی کوشش کیجئے۔ صرف اور صرف پابندیاں کل کو لاوا کی طرح پھٹ پڑی گی جن کی ازالہ شاید آنے والی کئی نسلیں نہ کر پائیں۔ اپنے نوجواں کی اگر آپ نے کردار سازی کردی ہے تو پھر ان پر اعتماد کرکے دیکھے ورنہ قصور ان کے ویلنٹائن ڈے منانے کا نہیں قصور آپ کی تربیت کے فقدان کا ہے۔ Globlization کے دور میں اپنے نوجواں کو آزاد چھوڑ کر دیکھیں اگر آپ نے ان میں اچھے برے کی تمیز ڈال دی ہے تو یقین مانیں رسومات اور تہواروں کے منانے کے طریقوں کو خود ہی بہتر بنا لیں گے۔ وزیر اعلیٰ صاحب، ہم نے 14 فروری گزار لی، غبارے پھولوں والوں کو پولیس کی گاڑیوں میں مجرموں کی طرح جاتے بھی دیکھ لیا مگر سچ پوچھیے اپنے نوجوانوں سے مایوسی نہ کل تھی نہ آج ہے، نہ ہوگی۔ آپ مانیں یا نہ مانیں رسومات تو Social Chageکے عمل میں ایک نہ ایک دن معاشروں کا حصہ تو بن کے رہیں گے سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے کے افراد ان رسومات کی تبدیلیوں اور ان کے استعمال کے لئے اپنی کردار سازی کرچکے ہیں یا نہیں اور جس مغربی معاشرے کو دن رات آپ گالیاں دیتے ہیں اس میں اجنبی لوگوں نے ایک دوسرے سے بس ڈرائیوروں نے اپنے مسافروں سے،  راہ گیروں نے،  دوستوں نے،  اپنوں نے،  پرائیوں نے ایک دوسرے کو مسکراہٹیں تحائف پھول دیتے ہوئے ویلنٹائن منایا۔ کیا برداشت اور محبت کے رویوں کی ضرورت ہمارے معاشرے کو نہیں ہے؟ ذرا سوچئے اور محبت سے محبت کرنے کی کوشش کیجئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔