کوئی کام ہو تو بتانا…..!


نیشنل جیوگرافک ایسے ٹی وی چینلز پر اکثر شیر کے شکار کی فلم دکھائی جاتی ہے، تین چار شیر، بلکہ شیرنیاں، اکٹھی ہو کر کسی سانڈ کو پچھاڑتی ہیں اور پھر سب مل کر اُس کی تکہ بوٹی کرتے ہیں، اکثر اگر سانڈ نہ ملے تو کوئی ہرن بھی زہر مار کر لیا جاتا ہے، تاہم شیروں کا یہ غول کبھی کسی ہاتھی یا گینڈے پر حملہ کرنے کی حماقت نہیں کرتا حالانکہ جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ اسی جانور شناسی کی وجہ سے ہی غالباً انسان نے شیر کو جنگل کے بادشاہ کا لقب دیا ہے ورنہ طاقت تو دریائی گھوڑے میں بھی کم نہیں ہوتی۔ بادشاہ کے لقب کی دوسری وجہ شیر کی بارعب شخصیت ہے، دریائی گھوڑے کی بے ڈھنگی پرسنیلٹی میں وہ بلونڈ ببرشیر والی بات کہاں! شیر جب کسی ہرن پر حملہ کرتا ہے تو ہرن کے دماغ میں اُس وقت موت سے بچاؤ کا کوئی باقاعدہ پلان تشکیل نہیں پاتا بلکہ ایک اضطراری ردعمل کے نتیجے میں وہ بھاگنا شروع کر دیتا ہے تاکہ شیر اسے پا نہ سکے، موت کی کوئی شکل اس وقت ہرن کے ذہن میں نہیں ہوتی کیونکہ جانوروں میں موت کا کوئی تصور نہیں ہوتا، جانوروں کے لئے موت محض ایک حادثاتی واقعہ ہے، زندگی کی انہیں کچھ سمجھ بوجھ ہوتی ہے لیکن وہ بھی جبلّی طور پر، خطرے کی بُو پا کر بھاگتے ضرور ہیں مگر یہ بھاگنا بھی زندگی بچانے کے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک غیراختیاری ردعمل کے طور پر ہوتا ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کے ذہن میں موت کا پورا تصور موجود ہے، جاہل سے جاہل شخص بھی اس اٹل حقیقت سے آشنا ہے، ہم زندگی کی رعنائیوں میں کھو کر موت کو بھولتے نہیں بلکہ لاشعور میں دراصل یہ موت ہی کا خوف ہے جو انسان کو اِس مختصر زندگی میں سب کچھ سمیٹ لینے پر مجبور کرتا ہے، اگر زندگی اور موت کی ڈور انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی تو دنیا کی آسائشوں کو پانے کی خواہش انسان میں اس قدر شدید نہ ہوتی۔ موت کے اس واضح تصور کی وجہ سے انسان کو اپنوں کے بچھڑنے کا غم بھی شدید ہوتا ہے، ناگہانی موت کی کیا بات کریں میں نے تو ستّر برس کے سفید داڑھیوں والے بابوں کو اپنی نوّے برس کی امّی کے مرنے پر دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھا ہے۔ جانوروں میں جب کوئی مرتا ہے تو اس کا جنازہ اٹھتا ہے نہ کوئی پرسہ دینے آتا ہے، سب ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر جنگل میں مارے مارے پھرنے لگتے ہیں، کوئی گھاس کھانے میں مشغول ہو جاتا ہے کوئی درخت پر چڑھ جاتا ہے اور کوئی گوشت خور شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے کہ زندہ رہنے کے لئے انسانوں والی ذہانت تو درکار ہوتی نہیں۔
پتہ نہیں کیوں کچھ عرصے سے مجھے یوں لگ رہا ہے کہ ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں وہ اب جنگل بنتا جا رہا ہے، کسی کی وفات پر جنازے اب بھی پڑھے جاتے ہیں، افسوس بھی کیا جاتا ہے، پرسہ بھی دیا جاتا ہے مگر اب ہم کچھ زیادہ ہی ’’نارمل‘‘ ہوگئے ہیں، ادھر کسی کی خبر آئی، ہم نے آدھ منٹ (شاید یہ بھی زیادہ لکھ دیا) تک آپس میں افسوس کیا اور پھر ’’ہور کی حال اے‘‘ کہہ کر موضوع بدل دیا، شاید اس میں ہمارا قصور نہیں، بے بسی زیادہ ہے، لیکن بے بسی کا یہ اظہار کسی حد تک سفاکی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موت اور خاص طور سے کسی بم دھماکے میں ہونے والی بچوں، عورتوں اور جوانوں کی موت، جنہوں نے ابھی زندگی کی امیدیں آنکھوں میں سجائی تھیں، کے آگے عام انسان بے بس ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں اسے business as usualلیا جائے۔ جو شخص بھرپور زندگی گزار کر مرتا ہے اور پیچھے سے اُس کے اہل عیال بھی خوشحال رہتے ہیں تو ایسے شخص کی وفات پر رسمی افسوس کافی ہے، لیکن ناگہانی اموات پر رسمی افسوس کافی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور حکومت کیا کر سکتی ہے۔ پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے ہیں، ہزاروں لوگ ہمارے اردگرد بم دھماکوں اور حادثات میں جاں بحق ہوئے، ہم میں سے وہ جو کسی بااختیار پوزیشن میں ہیں کم از کم ایسے گھروں کے اہل خانہ ،جن کا اُس حادثے کے بعد کوئی پرسان حال نہیں رہا، کی اتنی مدد تو کرسکتے ہیں کہ اگر انہیں حکومتی مالی امداد حاصل کرنے یا کسی سرکاری ادارے میں کوئی کام ہو تو وہ نکلوا دیں تاکہ انہیں دربدر نہ ہونا پڑے۔ ہم تعزیت کرنے جاتے ضرور ہیں اور یہ فقرہ بھی بھولے سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’بیٹا کوئی کام ہو تو بتائیے گا‘‘ مگر اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ واقعی آپ نے مجھے کوئی کام کہنا ہے۔
ادھر حکومت نے بھی بم دھماکو ں میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے پیکیج بنا رکھے ہیں مگر یہ ناکافی ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے سویلین ادارے، ایمرجنسی اور ریسکیو کے اہلکار، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے سے تعلق رکھنے والا فیلڈ اسٹاف یا سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور کوئی بھی سرکاری اہلکار جو دہشت گردی کے کسی حملے میں جاں بحق ہو، اس کے بیوی بچوں کی کفالت کی مکمل ذمہ داری ریاست اٹھائے، ان شہدا کے پسماندگان کے لئے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں خصوصی ہاؤسنگ اسکیمیں بنائی جائیں جن میں زندگی کی تمام جدید سہولتیں فراہم کرکے ان کا اعلی طرز زندگی یقینی بنایا جائے، ہر شہید کے خاندان کو ایک کنال کا پلاٹ دیا جائے گا جس پر مکان کی تعمیر کے لئے ایک کروڑ روپے دیئے جائیں، بچوں کی یونیورسٹی تک تعلیم مفت ہو اور جو بچے بیرون ملک کسی اعلی درس گاہ میں داخلہ لینا چاہیں ان کے لئے وظائف کا انتظام بھی حکومت کرے، اس کے علاوہ ماہانہ اخراجات کے لئے دو لاکھ روپے شہید کے خاندان کو دیئے جائیں۔ وفاقی حکومت اس کام کے لئے دس ارب روپے مختص کرے اور پھر صوبائی حکومتوں کو ہدایت دے کہ وہ ان ہاؤسنگ اسکیموں کے لئے شہر کی بہترین جگہ پر زمین کی فراہمی کو یقینی بنائیں، اس کے ساتھ ساتھ میں ملک بسنے والے مخیر خواتین و حضرات اور بیرون ملک پاکستانیوں سے بھی اپیل کی جائے کہ وہ اس ضمن میں حکومت پاکستا ن کا ہاتھ بٹائیں،حکومت اس کام کے لئے ایک اتھارٹی قائم کرے جس کا سربراہ سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہو، یہ اتھارٹی ایک شہید فنڈ قائم کرے گی جس میں کوئی بھی پاکستانی عطیہ جمع کروا سکے گا۔ اسی طرح اپنے فرائض کی بجا آوری کے دوران شدید زخمی ہونے والے ایسے اہلکار وں کے لئے جو دہشت گردی کا شکار ہونے کے بعد کسی مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو جائیں، حکومت اسی طرز پر ایک علیحدہ پیکیج تشکیل دے۔ اِس ملک کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو آخرت میں تو اللہ نے جنت عطا کرنی ہی ہے، اس طریقے سے ہم ان کے بیوی بچوں کو اس دنیا میں تحفظ و آسائش فراہم کریں تاکہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے آگے ہم بھی سرخرو ہو سکیں۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 122 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada