سیکولر انتہا پسندی کے فکری تضادات(1)


asif Mehmoodسیکولرازم اگر واقعی انسان دوستی، محبت، پیار، احترام انسانیت ، برداشت، تحمل اور بقائے باہمی کا نام ہے تو سر آنکھوں پر، ان اعلی قدروں سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے ۔ہم ان اقدار کو اسوہ ِ حسنہ کہتے ہیں،آپ بھلے انہیں سیکولرازم کا نام دے لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیںلیکن امر واقع یہ ہے کہ سیکولرزم انسان دوستی، محبت، پیار، احترام انسانیت ، برداشت، تحمل اور بقائے باہمی کا نہیں ردعمل کی غیر متوازن نفسیات اوڑھے ایک لادین انتہا پسندی کا نام ہے…. سوال یہ کہ مذہبی انتہا پسندی سے گھائل سماج دیکھتی آنکھوں سے لادین انتہا پسندی کی مکھی کیسے نگلے؟

سیکولر انتہاپسندی کے فکری تضادات بہت خوفناک ہیں۔اب چونکہ احباب کی جانب سے اس موضوع پر مکالمے کا اذنِ عام ہے اس لیے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔سیکولرزم کے بارے میں میرے گذشتہ کالم پر یہ تنقید سامنے آئی کہ سیکولرزم کے معانی لغت سے تلاش کرنا کوئی علمی رویہ نہیں ہے۔ فکری برتری کے جھوٹے احساس میں ڈوب کر ایک صاحب نے گرہ لگائی۔ المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں ننانوے فیصد لوگوں کو پتا ہی نہیں سیکولرازم کیا ہوتا ہے اور وہ خواہ مخواہ اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔یہ انتہا پسندانہ اسلوبِ گفتگو بہت سوں کو گد گدا گیا۔ حیرت بھی ہوئی کہ یہ احباب خود کہہ رہے ہیں کہ ننانوے فیصد لوگوں کو سیکولرازم کے معانی ہی معلوم نہیں اوراس گوہر نایاب کے جوہر تو صرف اس ایک فیصد طبقے پر آشکار ہوئے ہیں جو سول سوسائٹی تخلص کرتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ضد ہے کہ ان ننانوے فیصد حشرات الارض کو اپنے لیے نظام اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں اور انہیں سیکولر ہو جانا چاہیے ۔سوال یہ ہے وہ نظام ِ حیات قوم پر کیسے مسلط کر دیا جائے جس کے معانی ہی ابھی تک صرف ایک فیصد طبقے پر آ شکار ہوئے ہوں؟یہ ایک فیصد طبقہ بھی سیکولرا زم کی کسی ایک تعریف کا قائل ہوتا تو کوئی بات ہوتی یہاں تو احباب با جماعت سیکولرزم کے عارض و رخسارپرمضامین باندھ رہے ہیں اور ہر ایک کے پاس ا پنا ا پنا ، الگ الگ سیکولرزم ہے اور اس کا اصرار ہے اسی کے سیکولرزم کو حقیقی سیکولرزم مانا جائے۔میرے جیسا طالب علم ان تضادات کو دیکھ کر سوچتا ہے:
کس کا یقین کیجیے ، کس کا نہ کیجیے
لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ
انتہائی عزیز دوست وجاہت مسعود تو سیکولرزم کا ’سافٹ امیج ‘ ہیں،سیکولرزم وہی ہے جو وجاہت بیان کرتے ہیں تو اس کا غالب حصہ قدرِ مشترک قرار دے کر اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن لاہور ہی میں،ان کے قرب و جوار میں، سیکولرزم کی بالکل مختلف تشریحات رکھنے والے بھی موجود ہیں ، پھرچکوال سے اٹھتے سیکولر فکری بیانیے کا کیا کریں جو لاہور کی تتلیوں اور خاص مشروب کے تذکرے سے بلند ہونے سے یکسر معذور دکھائی دیتا ہے۔جب ایک لفظ کی متضاد شرح بیان کی جا رہی ہے تو ایسے میں مغرب کے فکری ماخذ سے رجوع کر کے سیکولرازم کے معانی تلاش کرنا غلط کیسے ہو گیا؟جن لغات اور انسائیکلو پیڈیاز سے سیکولرزم کے معانی میں نے نقل کیے ،کیا وہ میری مرتب کردہ ہیںکہ مزاجِ یار برہم ہو گئے ؟یہ کیسا نظام ہے جس کے لغت میں دیے معانی نقل کر دیے جائیں تو اس کے داعی خفا ہو جاتے ہیں ۔آ پ اس ملک میں سیکولرازم لانا چاہتے ہیں،یہ فکری تکبر بھی آ پ کے ہمراہ ہے کہ ننانوے فیصد لوگ سیکولرزم کے معانی نہیں جانتے، آ پ ہمیں لغت اور انسائیکلو پیڈیا سے رجوع بھی نہیں کرنے دیتے ،آپ کا دعوی ہے سیکولرازم کی صرف اس تعبیر کو حتمی سمجھا جائے جو آ پ کے منہ سے ادا ہو۔کیا علم کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار ہے؟

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “سیکولر انتہا پسندی کے فکری تضادات(1)

  • 12-02-2016 at 7:07 pm
    Permalink

    برادرم آصف محمود نے بہت اہم سوالات اُٹھائے ہیں، جن کا مدلل جواب دیا جانا ضروری ہے۔جہاں تک میری معلومات یا مشاہدہ رسائی رکھتا ہے، سیکولرازم اپنی اصل میں کوئی ایک عقیدہ ہی نہیں ہے جس کے دروبست کی کشادگی و حدود معین کی جائیں بلکہ ایک جامع طرز حیات ہے جس کا بنیادی وصف برداشت اور رواداری کی نعمتوں سے سرفراز ہے۔

  • 12-02-2016 at 7:32 pm
    Permalink

    اچھا ہے۔ برادرم آصف محمود کے مخصوص جارحانہ انداز کا غماز۔ ابھی اقساط دیکھ رہے ہیں، پھر رائےبنتی ہے، مگر پہلی قسط زوردار ہی ہے، کئی دوست پہلو بدلنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے۔

  • 13-02-2016 at 12:41 am
    Permalink

    آصف محمود صاحب کے مطابق سیکولرازم لادین انتہا پسندی ہے۔ کیا ہندوستان کے مسلمان‘ بشمول جماعت اسلامی ہند‘ سیکولرازم کی حمایت نہیں کرتے؟ کیا ان پر لادینیت اور انتہاپسندی کا فتویٰ لگایا جاسکتاہے؟ کیا مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان سیکولرازم کے حق میں نہیں ہیں؟ کیا وہ سب لادین او انتہا پسند ہوگئے ہیں؟ کیاانڈونیشیا اورترکی جیسے ممالک سیکولرازم اختیار کرکے مرتد ہوچکے ہیں؟ کیا اٹھتے بیٹھے سیکولرازم کی مذمت کرنے والے دین داری اور اعتدال پسندی کے اعلیٰ ترین درجےپرفائز لوگ ہیں؟

    آصف صاحب‘ یہ بھی فرمادیں کہ کتنے ملکوں میں سیکولرازم کو پاکستان کی طرح ایک گالی سمجھا جاتا ہے اور کتنے ملکوں میں اسے ایک مثبت قدر کے طورپر لیا جاتا ہے؟ آصف صاحب کے مطابق انسان دوستی‘ محبت‘ پیار‘احترام انسانیت‘ برداشت‘ تحمل‘ اور بقائے باہمی جیسی اقدارکا سیکولرازم سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ انہیں اسوۂ حسنہ قراردیتے ہیں۔ کیااس سلسلے میں اسلامک سکالرزان سے متفق ہیں؟ ان اقدار پرکن ممالک میں زیادہ عمل ہورہاہے؟ سعودی عرب‘ ایران‘ سوڈان اور پاکستان جیسے سب سے زیادہ اسلامی ممالک میں اس حوالے سے کیا صورت حال ہے؟ ماضی میں مسلمانوں نے کس حد تک ان اقدار کی پاسداری کی؟

  • 13-02-2016 at 10:31 am
    Permalink

    سیکولرزم مسلمان ملکوں میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اس چیز کو خوبصورت قدروں میں لپیٹ کر فروخت کیا جاتا ہے اور عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا خوبصورت پیکیج ہے-
    آصف صاحب نے درست کہا کہ سیکولرزم کی اعلیٰ قدریں تو اسلام کے نظام میں اسوہ حسنہ کہلاتی ہیں، حتی کہ روا داری، برداشت جیسی قدریں بھی اسلام دیتا ہے تو پھر سیکولرزم کی گنجائش تو ختم ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ ہم فرقوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر اپنی جگہ پیدا کریں اور کہیں کہ ہم تکثریت میں امن اور بھائی چارہ پیدا کر دیتے ہیں- لیکن اس کا تعلق ریاست سے نہیں ہوتا، سماج کی ذہنیت سے ہوتا ہے- بھارت میں 35 سال سے سیکولرزم ہے پھر بھی وہاں فسادات ہوتے ہیں، اخلاص احمد کو ذبح کیا جاتا ہے، مطلب اس مسئلے کو حل تو سیکولر ریاست بھی نہیں کر سکی- ہاں ایک بار پھر اس کو اپنے حق میں استعمال کر لیا-
    خیر آصف صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اس پوری ویب سائٹ کی عمارت کو صرف ایک تحریر سے ہلا کر رکھ دیا ہے-

  • 13-02-2016 at 10:32 am
    Permalink

    آصف محمود صاحب‘ آپ کے مطابق سیکولرازم لادین انتہا پسندی ہے۔ کیا ہندوستان کے مسلمان‘ بشمول جماعت اسلامی ہند‘ سیکولرازم کی حمایت نہیں کرتے؟ کیا ان پر لادینیت اور انتہاپسندی کا فتویٰ لگایا جاسکتاہے؟ کیا مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان سیکولرازم کے حق میں نہیں ہیں؟ کیا وہ تمام مسلمان جو غیرمسلم ممالک میں بطوراقلیت رہتے ہیں سیکولرازم کو پسند نہیں کرتے؟ کیا وہ سب لادین اور انتہا پسند ہوگئے ہیں؟ کیاانڈونیشیا اورترکی جیسے ممالک سیکولرازم اختیار کرکے مرتد ہوچکے ہیں؟ کیا پاکستان اور دیگر ملکوں میں اٹھتے بیٹھتے سیکولرازم کی مذمت کرنے والے انسان دوستی اور اعتدال پسندی کے اعلیٰ ترین درجےپرفائزہیں؟

    آصف صاحب‘ یہ بھی فرمادیں کہ کتنے ملکوں میں سیکولرازم کو پاکستان کی طرح ایک گالی سمجھا جاتا ہے اور کتنے ملکوں میں اسے ایک مثبت قدر کے طورپر لیا جاتا ہے؟ آپ کے مطابق انسان دوستی‘ محبت‘ پیار‘ احترام انسانیت‘ برداشت‘ تحمل‘ اور بقائے باہمی جیسی اقدارکا سیکولرازم سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ انہیں اسوۂ حسنہ قراردیتے ہیں۔ کیااس سلسلے میں اسلامک سکالرزآپ سے متفق ہیں؟ ان اقدار پرکن ممالک میں زیادہ عمل ہورہاہے؟ سعودی عرب‘ ایران‘ سوڈان اور پاکستان جیسے سب سے زیادہ اسلامی ممالک میں اس حوالے سے کیا صورت حال ہے؟ ماضی میں مسلمانوں نے کس حد تک ان اقدار کی پاسداری کی؟

    اگر سیکولرازم کی مختلف تشریحات قابل اعتراض بات ہے تو پھر اسلام کی مختلف تشریحات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ اگر سیکولرازم کو سمجھبے والے لوگوں کی کم تعداد ایک مسئلہ ہے تو پھرآپ جس اسلام کے مدعی ہیں اسے سمجھنے والے لوگوں کی تعداد بھی بتا دیجئے۔ کیا یہ ایک مسئلہ نہیں ہے؟

Comments are closed.