دامنِ ’سرمایہ داراں‘ چاک


\"FB_IMG_1454787919834جاگیردارانہ یورپ میں صنعتی سرمایہ داری کا آغاز تجارتی سرمایہ داری (مرکنٹائل کیپٹلزم) سے ہوا تھا۔ تیرہویں صدی کے اٹلی میں سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کی کچھ شہادتیں ضرور ملتی ہے لیکن یہ کوئی غالب نظام نہ تھا۔ سترہویں صدی کے انگلستان میں پہلی بار جاگیردارانہ نظام کو سرمایہ داری نے شکست دی۔ انگلستان میں ترقی پسند سرمایہ دار طبقے کے غلبے نے پیداواری قوتوں کو ان دیکھی جلا بخشی اور اسی معاشی ترقی کی وجہ سے یہ ریاست دنیا کی سب سے بڑی پیداواری اکائی بن کر ابھری۔ جب انگلستان کی اپنی منڈی اس بے پناہ پیداوار کے سامنے محدود ہوئی تو سرمایہ داروں نے نئی منڈیوں اور سستے خام مال کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں نوآباد کاری کا آغازکیا۔ انگلستان کے بعد یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی سرمایہ دارانہ انقلابات نے جنم لیا اور مختلف ممالک کے حکمران طبقات کے درمیان نوآبادیات اور منڈیوں پر قبضے کی دوڑ سے نئے تضادات پیدا ہوئے۔ اِس دوڑ میں انگلستان کے سرمایہ دار طبقے نے اپنے معاشی غلبے کے سبب سبقت حاصل کر لی۔ منڈیوں کی ا±سی تلاش میں امریکہ دریافت ہوا اور ساتھ ہی یورپی لوگ افریقہ، لاطینی امریکہ، ہندوستان اور مشرق بعید جا پہنچے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک دنیا کا بیشتر حصہ یورپی نوآبادکاروں کے تسلط میں تھا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں امریکہ بھی ایک نئی سرمایہ دارانہ طاقت کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا اور بیسویں صدی کے آغاز تک امریکہ ایک طاقتور سرمایہ دارانہ ریاست میں تبدیل ہو گیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں تکنیکی اور سائنسی ترقی کے سبب پیداوار کے بہت بڑے انبار لگا دیئے گئے- اب اِس پیداوار کی فروخت کیلئے منڈیوں تک رسائی اور منڈیوں کی بندر بانٹ پر سرمایہ دارانہ ممالک کے آپسی تضادات اِس نہج پر پہنچ گئے کہ براہ راست جنگ سے بچنا ناممکن ہو گیا۔ پہلی عالمی جنگ کی بنیاد یہی معاشی تضادات ہی تھے۔ کروڑوں انسانوں کی ہلاکت اور بہت بڑے پیمانے کے مالی نقصانات کے باوجود یہ جنگِ عظیم سرمایہ داری کے داخلی تضادات کو حل نہیں کر پائی۔ ا±سکے بعد 1929ءمیں امریکہ سے شروع ہونے والا ”گریٹ ڈپریشن“ عالمی سرمایہ داری کے حسن کو نگلتا چلا گیا، منڈیاں مزید سکڑتی چلی گئیں، بیروزگاری عام ہوگئی اور شرح منافع کم ہوتی چلی گئی- دوسری جنگ عظیم اپنے اسباب کے تحت درحقیقت پہلی جنگ عظیم کا ہی تسلسل تھی۔ اِس جنگ نے ہتھیار سازی کی منافع بخش صنعت کو چالو کر دیا جس سے بیروزگاری میں تیزی سے کمی آئی اور سرمایہ داروں کی شرح منافع بحال ہوئی۔ جنگ کے بعد تعمیر نو سے بھی عالمی سرمایہ داری کو سہارا ملا۔ بعد از جنگ ہونے والی گلوبلائزیشن سے عالمی تجارت میں اضافے اور نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے بحران کچھ عرصہ کے لئے ٹل گیا۔
1973-74ءمیں ریاستی سرمایہ داری اپنے منطقی نتیجے یعنی ’معاشی جمود‘ (افراط زر کے باوجود منجمد معاشی شرح نمو) کا شکار ہو کر بکھرنے لگی- اِس بحران سے نکلنے کا راستہ قومی اداروں کی نجکاری کے زریعے نکالا گیا۔ یہ حکمت عملی دراصل مستقبل میں ایک بڑے اور گہرے بحران کا پیش خیمہ بنی۔ نجکاری اور لبرل ازم کے وکیلوں نے سرمایہ داروں کی سکڑتی ہوئی شرح منافع کو بچانے کے لئے توانائی، بینکاری اور ٹرانسپورٹ جیسے کلیدی شعبے بھی نجی ملکیت میں دے دئیے گئے جس سے ماضی میں دی جانے والی ریاستی سبسڈی کا خاتمہ ہو گیا۔ نظام کے بحران نے سرمایہ داروں کو سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ذبح کرنے پر مجبور کردیا۔ اِن شعبوں کی نجکاری سے ریاستیں معاشی طور پر کمزور ہو کر اپنی آمدن کے لئے نجی بینکوں کے قرضوں پر منحصر ہو گئیں۔
1978ءمیں چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور 1991ءمیں سوشلسٹ روس کے انہدام نے دم توڑتی ہوئی سرمایہ داری کو کچھ سہارا فراہم کیا۔ سستی لیبر کے تعاقب میں سرمایہ کاری چین منتقل ہونے لگی- چین میں بنائی گئی سستی اشیا مغربی منڈیوں میں فروخت ہوکر ہوشربا منافع کا سبب بننے لگیں۔ لیکن سرمائے کی اِس پرواز سے مغرب میں روزگار کم ہو گیا اور نتیجتاً قوت خرید بھی کم ہو گئی جسے بحال رکھنے کے لئے کریڈٹ فنانسنگ (قرضے) کا بے دریغ استعمال دیکھنے میں آیا۔ 2008ءمیں قرضوں کا یہ پہاڑ زمین بوس ہو گیا اور عالمی معیشت ایک نئے بحران کا شکار ہو گئی۔
2008ءکے بحران میں برباد ہوتے بینکوں کو بچانے کے لئے ریاستوں نے بیل آو¿ٹ کا اجراءکیا۔ برطانیہ کے ”بارکلے“ بینک کو بچانے کے لئے 552.32 ارب پاو¿نڈ امریکہ کے فیڈرل ریزرو اور 6 ارب پاو¿نڈ قطری حکومت نے ادا کئے۔ مزید برآں برطانوی حکومت نے 37 ارب پاو¿نڈ کے ساتھ ”ایچ بی او ایس“ اور رائل بینک آف سکاٹ لینڈ وغیرہ کو قومی تحویل میں لے لیا تاکہ مزید معاشی بربادی سے بچا جاسکے۔ ریاستوں نے سرمایہ داروں کو تو بیل آو¿ٹ پیکجز کا سہارا دیا مگر عوام کو مفت علاج، تعلیم، بیروزگاری الاو¿نس اور پنشن جیسی مراعات اور سہولیات سے محروم کر دیا- اب ”کٹوتی“(آسٹیریٹی) کے نام پر ”فلاحی ریاست“ قصہ ماضی ہوچکی ہے-مثلاً آسٹریلیاکی ریاست نے 1.17 بلین ڈالر کے اضافی ٹیکس عوام پر لگائے۔ جرمنی عوامی سہولیات میں سے 30 ارب یورو کی کٹوتی کرے گا، ملازمین کی تنخواہیں 15,000 یورو سالانہ تک کم ہونگی۔ اِس بحران سے برباد منڈی کو سرگرم رکھنے کے لئے نوٹ چھاپے جارہے ہیں۔ امریکی ریاست ہر ماہ 85 ارب ڈالر چھاپ رہی ہے۔ مگر یہ سلسلہ لا امتناہی طور پر تو جاری نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ اس سے افراط زر پیدا ہو رہی ہے اور صورتحال زیادہ بگڑی ہے۔ عالمی معیشت کی شرح نمو منجمد ہے اور مستقبل قریب میں بحالی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
آکسفیم کی رپورٹ چونکا دینی والی تھی جس کے مطابق دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد کی مجموعی دولت باقی کی 99 فیصد آبادی کی کل جمع پونجی کے برابر ہو چکی ہے۔ صرف 62 افراد دنیا کی آدھی آبادی (تقریباً 3.5 ارب افراد) سے زیادہ امیر ہو چکے ہیں۔ 2010ئ کے بعد امراءکی دولت میں 44 فیصد اور غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے- آکسفیم کی اس رپورٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ مستقبل میں کہیں غربت کے خاتمے کی کوئی نوید نہیں، الٹا اضافے کی ہی پیش گوئی ہے۔ یہی اس نظام کی اصلیت اور آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
جارج آرویل نے لکھا کہ ”دھوکہ دہی اور فریب کے عہد میں صرف سچ بولنا بھی ایک انقلابی اقدام بن جاتا ہے-“ اگر ہم آج کے سرمایہ داری کے وکیلوں کے کئے گئے ترقی کے دعوو¿ں کا موازنہ عوام کی حالتِ زار سے کریں تو یوں لگتا ہے کہ یہ \”دانشور ماہرین\” کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہیں۔ تمام جدید سہولیات، ٹیکنالوجی اور ایجاد کا سماج میں استعمال ایک ترقی پسندانہ عمل ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس \”ترقی\” کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے ا±س سے حاصل ہونے والا منافع کن کی تجوریوں میں جا رہا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی ترقی کا عمل ایسے اداروں اور طریقوں سے پایہ تکمیل کو پہنچے جن میں ٹھیکیداری نظام اور منافع خوری کا عمل سرے سے موجود ہی نہ ہو؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ \”انسانی ترقی\” نہیں بلکہ \”سرمایہ دارانہ ترقی\” ہے-
مشکل معاشی اصطلاحات اور اعداد و شمار کے ہیر پھیر کے زریعے غربت، بیماری، محرومی، استحصال اور جہالت میں اضافے کو چھپانے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ \”دانشور\” قاتل سرمایہ دارانہ نظام کے وکیل ہیں جس کے نتیجے میں سرمایہ دار طبقے کے سیٹھوں کی تجوریاں پہلے بھرنی چاہئیں۔ اس کے بعد شاید وہ اپنی دولت کے انباروں میں سے چند سکے غریبوں کی طرف اچھال دیں۔ اس خیرات کو استحصال کا جواز بنا کر حکمران طبقے کی کاسہ لیسی کرنے والے سیاسی فنکار، تجزیہ نگار اور م±لا عوام کا شعور ماو¿ف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ قانونی لوٹ مار کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔

اسی بارے میں: ۔  چلغوزے اور ہم سب (محمد مدثر)۔

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “دامنِ ’سرمایہ داراں‘ چاک

  • 13-02-2016 at 7:42 pm
    Permalink

    بہت زبردست تحریر۔ مفت میں سرمایہ داری کی وکالت کرنے والوں کو جواب۔ سرمایہ داری کی بربریت اور اصلیت کو خوب بیان کیا گیا ہے۔

  • 17-02-2016 at 8:39 pm
    Permalink

    محترم فاروق بلوچ صاحب نے ایک روایتی کمیونسٹ کی طرح ملاوٹ شدہ معلومات کے زور پر نظام سرمایہ داری کی “دھجیاں” اڑا دی ہیں. اس مضمون کو پڑھ کر پہلی بار انکشاف ہوا کہ سرمایہ داری نظام بس ڈوبنے ہی والا تھا کہ سویت یونین کی مرگ ناگہانی نے اسے نئی زندگی بخش دی.
    ہم یہ نہیں کہتے کہ سرمایہ داری نظام خطا و عیب سے ہے. ہمارا موقف تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں اس سے بہتر کوئی معاشی نظام موجود نہیں. نیز یہ معاشی نظام مسلسل ٹرائل سے گزر کر اپنی خامیوں کو دور کرتا جا رہا ہے. آج کے سرمایہ دارانہ نظام اور پچاس سال پہلے کے نظام میں بہت فرق ہے. بلکہ اب تو اسے زیادہ سے زیادہ انسان دوست بنانے پر بھی کام شروع ہو چکا ہے یعنی ایسا نظام جس سے سرمایہ لگانے والا یا صنعت کار، محنت کش، تاجر، اور گاھک سب خوش ہوں.
    اب آتے ہیں پی ائی اے کی نجی کاری کی طرف. اس بارے میں محترم ارشد محمود صاحب کا موقف درست ہے. حکومت کا کام کاروبار مملکت چلانا ہے نہ کہ صنعتیں. یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکومت کے زیر انتظام صنعتیں خسارے میں ہی رہتی ہیں. یہاں امریکہ میں یونائیٹڈ پوسٹل سروس وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے اور مسلسل خسارے میں جا رہی ہے. اس کے مقابلے میں یونائیٹڈ پارسل سروس اور فیڈرل ایکسپریس نجی ادارے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کا نفع کماتے ہیں. ان نجی اداروں میں کام کرنے والے ڈرائیور تربیت مکمل کرنے کے صرف ایک دو سال بعد ہی ستر اسی ہزار ڈالر سالانہ کمانے لگتے ہیں.

Comments are closed.