ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق


adnan Kakar

یہ بات تو اب کسی شک و شبے کے بغیر ثابت کی جا چکی ہے کہ اگر ویلنٹائن ڈے نہیں منایا جائے گا، تو ہمارے معاشرے سے محبت اٹھ جائے گی۔ ہم نے دوسروں کی ریسرچ پر اعتبار کرنے کی بجائے چودھری ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے چنو اور منو سے مشہور دیسی اور علاقائی رومانی داستانوں پر ریسرچ کروائی تو ویلنٹائن ڈے کے تباہ کن اثرات کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ آپ بھی چودھری ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے اپنا علم بڑھائیں۔

تو قارئین، آئیے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں اور داستان عبرت پڑھتے ہیں کہ کیسے ہماری قوم اس منحوس دن کی وجہ سے تباہ ہوتی آئی ہے۔


sohni-3سوہنی مہینوال کی داستان عشق

سوہنی اپنے باپ ٹلا کمہار کی دکان پر بیٹھی تھی۔ آج عجیب ہی دن چڑھا تھا۔ سارے گاؤں میں میلے کا سا سماں تھا۔ دکان پر بہت رش تھا کہ گاؤں کے نوجوان سویرے سے ہی نزدیکی باغبان کی دکان سے پھول خرید کر سوہنی کی دکان پر آتے تھے تاکہ گھگھو گھوڑے خرید لیں اور اپنی اپنی محبوباؤں کو تحفے میں دیں۔ رش کی وجہ سے ٹلا کمہار کو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی۔ اتنی دیر میں ایک پردیس بنام مرزا عزت بیگ بخاری وہاں آیا لیکن رش کی وجہ سے گھبرا کر الگ کھڑا ہو گیا۔ اس نے بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی پھول خرید رکھے تھے لیکن اس بچارے پردیسی کی یہاں تو کوئی محبوبہ ہی نہیں تھی۔

اسے پریشان دیکھ کر سوہنی اس کی طرف بڑھی اور پوچھنے لگی کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ مرزا عزت بیگ بخاری بولے کہ یہ پھول تو خرید لئے ہیں، اور اب گھگھو گھوڑا خریدنے آیا ہوں تاکہ ویلنٹائن ڈے کے لوازمات پورے ہو جائیں۔ سوہنی نے مرزا عزت بیگ بخاری کو گھگھو گھوڑا دے کر پیسے لئے اور sohni-1پوچھا کہ کس خوش نصیب کو یہ پھول دو گے۔

مرزا عزت بیگ بخاری کہنے لگا کہ میں تو یہاں پردیسی ہوں، کسی کو جانتا ہی نہیں ہوں۔ لگتا ہے کہ اپنی مج (بھینس) کو ہی پھول کھلانے پڑیں گے۔ سوہنی
کو اس کی حالت پر بہت رحم آیا اور اس نے مرزا عزت بیگ کے ہاتھوں سے پھول لے کر کہا کہ تم پریشان مت ہو مج وال (مہینوال)۔ آج ویلنٹائن ڈے ہے۔ میں تم سے یہ پھول لے لیتی ہوں۔ تم اپنی مج کو گھاس کھلا دینا۔ اور یوں ویلنٹائن ڈے کی وجہ سے وہ عبرتناک داستان عشق شروع ہوئی جس کا انجام سوہنی اور مہینوال کے پبھرے ہوئے دریائے چناب میں ڈوبنے سے ہوا۔ نہ ویلنٹائن ڈے ہوتا، نہ عشق کی یہ بیل چڑھتی، اور نہ سوہنی اپنے شوہر کی بجائے اس طرح ایک پردیسی سے دل لگا کر اپنا نام ڈبوتی۔ آج تک پنجاب میں اس قصے کو ویلنٹائن ڈے کی تباہ کاریوں کا حوالہ دینے کے لئے سنایا جاتا ہے۔


shireen-farhad

شیریں فرہاد

روایت ہے کہ شیریں نامی ملکہ ایران ہوا کرتی تھی۔ مورخ بتاتے ہیں کہ قدیم ایران میں حسن کی چالیس صفات ہوتی تھیں، جن میں سے انتالیس اس حسینہ میں پائی جاتی تھیں۔ چالیسیوں صفت کے باب میں تاریخ خاموش ہے کہ کیا ہوا کرتی تھی۔ بہرحال شیریں شہنشاہ کسری پرویز کی ملکہ تھی۔ ایک سال ایسا ہوا کہ ویلنٹائن ڈے پر شیریں شاہی محل کے باغ میں گئی تو وہاں فرہاد نامی ایک ٹھیکیدار مٹی ڈلوا رہا تھا۔ فرہاد نے ہاتھوں میں پھول اٹھا رکھے تھے۔ شیریں سمجھی کہ وہ مالی ہے۔ اس نے فرہاد سے پھول لے کر اپنی کلائیوں میں گجرے پہن لئے۔ فرہاد اسی اثنا میں حسن کی انتالیس صفات کی عینی شہادت کر چکا تھا۔ چالیسیوں شرط کے باب میں ممتاز مورخ شیر محمد خان ابن انشا کا اندازہ ہے کہ وہ کردار کے بارے میں تھی۔ فرہاد کا بھی غالباً یہی اندازہ تھا۔ وہ ترنت مسز شیریں پرویز پر عاشق ہو گیا اور شیریں نے بھی ویلنٹائن ڈے کے احترام میں اس کے عشق کو قبول کر لیا۔

ویسے تو مشہور تھا کہ پرانے زمانے کے بادشاہ ہر بندے کو ٹانگنے پر تلے رہتے تھے، اور ایرانی شہنشاہ تو زندہ بندے کی کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروانے کے بھی قائل تھے، لیکن کسری پرویز غالباً ایک موقع شناس اور کنجوس حکمران تھا۔ اس نے فرہاد کو کہا کہ دیکھو نوجوان ٹھیکیدار۔ تمہارا قصور نہیں ہے کہ تم میری ملکہ مسز شیریں پرویز پر عاشق ہو گئے ہو اور وہ بھی تم سے الفت رکھتی ہے۔ یہ سب ویلنٹائن ڈے کا قصور ہے۔ میں سچی محبت کی راہ سے ہٹ جاؤں گا۔ تم صرف یہ ثابت کر دو کہ تم شیریں سے سچا پیار کرتے ہو۔ بس یہ سامنے والے پہاڑ کے پچھلی طرف جو دریا ہے، اس سے ایک نہر نکال کر یہاں محل تک لے آؤ تو معاوضے میں تمہیں شیریں مل جائے گی۔ غالباً بادشاہ کا خیال تھا کہ نہر نکالنے میں بیس تیس سال لگیں گے اور اتنی دیر میں وہ نئے ماڈل کی ملکہ لا چکا ہو گا۔ لیکن فرہاد ایک تجربہ کار ٹھیکیدار تھا اور میٹرو اور اورینج ٹرین کے کئی منصوبے ریکارڈ ٹائم میں مکمل کر چکا تھا۔ وہ چند ماہ میں ہی نہر نکال لایا۔ تو بادشاہ نے میڈیا پر یہ ٹکر چلوا دیا کہ شیریں مر گئی ہے۔ فرہاد نے اپنا تیشہ سر پر مارا اور فوت ہو گیا۔ خبر سن کر شیریں نے نہر میں چھلانگ لگا دی اور مر گئی۔ شہنشاہ کسری پرویز چالیس صفات والا نیا ماڈل لے آیا۔ یوں ویلنٹائن ڈے کی وجہ سے قدیم ایرانی تاریخ کی اس ٹریجیڈی نے جنم لیا۔


sassi-punnu2

سسی پنوں

سسی بھنبھور شہر کی ایک دھوبن تھی لیکن اس نے مشہور کر رکھا تھا کہ وہ ایک شہزادی ہے۔ پنوں ایک اصلی شہزادہ تھا جو کہ ویلنٹائن ڈے پر بھنبھور پہنچا۔ وہ کپڑے دھلوانے سسی کے باپ کی دکان پر پہنچا اور اس نے اپنے کپڑے دھلوانے کے لئے سسی کو پکڑا دیے۔ غلطی سے ان کپڑوں کے ساتھ ایک پھول بھی چلا گیا۔ اس پر سسی کو غلط فہمی ہو گئی کہ پنوں اس پر عاشق ہے۔ اس ویلنٹائن ڈے کی دوپہر کو سسی نے پنوں کو کپڑے واپس کئے تو ان میں سرخ دھاگے سے کئی پھول بھی کاڑھ دیے تھے۔ اپنے کپڑوں کا یہ حال دیکھ کر پنوں کو بھی سسی سے محبت ہو گئی۔ کافی چکر چلے لیکن آخر میں ویلنٹائن ڈے کی شام کو عین نکاح کے وقت پنوں کے شاہی خاندان والے اس کو شراب پلا کر اونٹنی پر بٹھا کر لے گئے۔ سسی کو پتہ لگا تو وہ شادی کی پھول مالا پکڑ کر پنوں کے پیچھے دوڑی۔ راستے میں ہائی وے کے ریسٹ ایریا میں وہ رکی تو ایک گڈریے سے اس نے پانی مانگا اور دونوں ہاتھوں سے پانی کا پیالہ پکڑنے کو اس نے پھولوں کی مالا گڈریے کو پکڑا دی۔ صبح سے گڈریا نراش بیٹھا تھا کہ اس ویلنٹائن ڈے کو بھی اس کی کوئی محبوبہ نہیں ہے۔ سسی سے ویلنٹائن ڈے کی شام کو پھول پا کر گڈریا یہ سمجھا کہ سسی کو اس سے محبت ہو گئی ہے۔ اس نے سسی سے جوابی محبت کرنے کی کوشش کی تو سسی نے دعا مانگی، زمین پھٹی، اور سسی وہیں زمین میں دفن ہو گئی۔ پنوں کو پتہ چلا تو وہ بھی اسی سپاٹ پر پہنچا اور وہ بھی اسی سٹائل میں دعا مانگ کر زمین پھاڑ کر وہیں دفن ہو گیا۔ یوں ویلنٹائن ڈے کو شروع ہونے والی یہ داستان محبت رات تک سسی اور پنوں کی موت پر ختم ہو گئی۔ نہ ویلنٹائن ڈے ہوتا، اور نہ یہ ساری عشق معشوقی کی غلط فہمی چلتی۔


 

heer-01ہیر رانجھا

رانجھا ایک نکھٹو لڑکا تھا۔ اس کے سارے بھائی دن بھر کھیتی باڑی کرتے اور وہ مرغزاروں کی سیر کرتا اور چین کی بانسری بجایا کرتا۔ باپ فوت ہوا تو اس کے بھائیوں نے اسے کہا کہ کام کرو تو کھانا ملے گا۔ اس نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ بانسری بجاتا، جنگلی پھول گلے میں ڈالے، عین ویلنٹائن ڈے پر ہیر سیال کے گاؤں میں داخل ہوا۔ اس نے کھانا پانی مانگا تو ہیر نے اسے کھانا دیا۔ اس نے اپنی بانسری اور پھول ہیر کو پکڑائے اور کھانے پینے میں مصروف ہو گیا۔ ہیر وہیں تیر عشق سے گھائل ہو گئی۔ پھول اس نے اپنے بالوں میں لگائے اور رانجھے کو کہنے لگی کہ ‘آئی لوو یو ٹو’۔ اس طرح یہ داستان محبت شروع ہوئی۔ ہیر کی یہ حرکتیں دیکھ کر اس کے چچا کیدو نے اس کے باپ چوچک سے شکایت لگائی جس نے ہیر کی شادی ایک اچھے گھر میں کروا دی۔ رانجھے کو پتہ چلا تو وہ جوگی ہو گیا۔ مانگتے مانگتے وہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے ویلنٹائن ڈے پر ہیر کے سسرالی گاؤں پہنچ گیا اور یوں دوبارہ عشق کی پینگیں جھولنے لگا۔ ہیر کے سسرال والوں نے یہ حال دیکھ کر ہیر کو ڈیفیکٹو پیس قرار دے کر واپس اس کے گاؤں بھیج دیا۔ کافی لڑائی جھگڑے کے بعد چوچک آخر کار ہیر کی شادی رانجھے سے کرنے پر راضی ہو گیا۔ لیکن کیدو نے عین شادی کے دن ہیر کو شادی کا زہریلا لڈو کھلا کر مار دیا۔ رانجھے کو پتہ چلا تو اس نے بھی شادی کا لڈو کھا کر خودکشی کر لی۔ یوں ویلنٹائن ڈے کی نحوست سے دو معصوم جانیں گئیں۔


mirza-sahiban

مرزا صاحباں

مرزا اور صاحباں کزن تھے۔ ایک ویلنٹائن ڈے کو صبح سویرے صاحباں اپنے گھر کی چھت پر جھاڑو دے رہی تھی جس پر ایک پھولوں کے درخت سے کافی پھول پتے جھڑ کر گرے ہوئے تھے۔ اس نے ان پھول پتوں کی ٹوکری بھی کر نیچے گلی میں پھینک دی۔ اتفاق سے اس وقت وہاں سے مرزا گزر رہا تھا اور پھول پتیوں کا یہ سارا کوڑا اس کے اوپر گرا۔ اس نے عین ویلنٹائن ڈے پر اس طرح خود کو پھولوں کی بارش کا مرکز پایا تو بے اختیار اس کی نگاہ اوپر اٹھ گئی جہاں صاحباں کھڑی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ مرزا نے بھی اسے سمائل دی اور سارے پھول سمیٹ کر گھر لے گیا جہاں اس نے انہیں کتابوں میں رکھ کر سکھا لیا۔ یوں عشق کی ایک اور المناک داستان کا آغاز ہوا۔ صاحباں کی شادی کسی اور جگہ ہونے لگی تو اس نے مرزے کو پیغام بھیجا۔ مرزے کا گھوڑا ان دونوں کو زبردستی گھر سے بھگا کر لے گیا۔ راستے میں وہ ریسٹ ایریا میں رکے تو صاحباں کا بھائی بھی دگڑ دگڑ کرتا وہاں پہنچ گیا۔ صاحباں کو پتہ تھا کہ مرزے کا نشانہ اچوک ہے، اس لئے اس نے مرزے کو جگانے سے پہلے اس کی کمان چھپا دی۔ بھائی نے آ کر مرزے کو مار دیا۔ یہ دیکھ کر صاحباں نے خودکشی کر لی۔ اور سینٹ ویلنٹائن ڈے کی نحوست سے دو ناسمجھ بچے اس طرح جوانمرگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کاش دنیا میں سینٹ ویلنٹائن ڈے نہ ہوتا تو لوگ اس طرح محبت نہ کیا کرتے۔ کاش کیلنڈر سے بس یہ ایک دن نکل جائے تو نوجوانوں کے دلوں سے محبت بھی نکل جائے گی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “ویلنٹائن ڈے اور دیسی عشق

  • 13-02-2016 at 4:53 am
    Permalink

    زبردست

  • 13-02-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    میں کالم سے صد فیصد اتفاق کرتاہوں مگر ، لوک داستانیں اس لئے مشہور ہوگئی تھیں کہ جنھوں نے بھی جس دور میں بھی عشق فرمایا اور اُس عشق کے رہتے ہوئے انھوں نے جتنی بھی مشکلات آئیں انکا سامنہ کیا اور بغیر نکاح یا جسنی تعلق ہے مر گئے !!! اگر یہ سب نکاح یا آپس میں جنسی تعلق قائم کرلیتے تو شائد یہ لوک داستانیں اتنی مشہور نہ ہوتی

Comments are closed.