مولانا روم کی محبت


علم کا معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ اسے جتنا خرچ کیا جائے اتنا ہی بڑھتا ہے اور اس کے چوری ہونے کا بھی کوئی ڈر نہیں۔ مولانا رومی کی علمیت و معرفت کے حوالے سے مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب فرماتے ہیں کہ ’آج اگر ہم مالدار ہیں اور ہمارے پاس بہت دولت ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ االلہ والوں کی جوتیاں اٹھائیں، لیکن میرے دوستو! آج یہاں مثنوی کا درس ہورہا ہے، یہ صاحب مثنوی مولانا جلال الدین رومی کون شخص تھے؟ تو جناب مولانا رومی شاہ خوارزم کے سگے نواسے تھے، بادشاہ کا نواسہ تھا یہ شخص، یہ غریب ملّا نہیں تھا کہ سوچا ہو کہ چلو پیری مریدی کرلیں۔ کچھ دکان چمکائیں تاکہ نذرانے اور حلوے مانڈے آئیں، ان کے پاس اتنی دنیا تھی کہ بخاری پڑھانے کے لیے جب پالکی پر چلتے تھے تو طلباء پیچھے پیچھے جوتے لے کر دوڑتے ہوئے چلتے تھے، اتنا اعزاز حاصل تھا۔

حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ االلہ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔ میرے سینے میں آپ کی محبت کی آگ کی جو امانت ہے کوئی بندہ ایسا عطا فرما کہ اس کے سینے میں امانت کو منتقل کردوں، کوئی ایسا سینہ عطا کردے جو اس قیمتی امانت کا اہل ہو، الہام ہوا کہ اے شمس الدین! قونیہ جاؤ، میرا ایک بندہ جلال الدین رومی ہے میری محبت کی آگ کی اس امانت کو جو زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے اس کے سینے میں منتقل کردو، اس کا سینہ اس کے قابل ہے۔ اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امانت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان نے انکار کر دیا تھا۔ زمین و آسمان جیسی عظیم القامت مخلوق نے جن امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا، االلہ کے عاشقوں کے دل نے اسے قبول کرلیا جو ڈیڑھ چھٹانک کا ہے مگر اس کو ڈیڑھ چھٹانک کا نہ سمجھو۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں۔

در فراخ عرصۂ آں پاک جاں

تنگ آید عرصۂ ہفت آسماں

۔ االلہ والوں کی جانوں میں، ان کے قلوب میں اتنا پھیلاؤ اتنی وسعت ہے کہ ساتوں آسمان کی وسعت اس کے سامنے تنگ ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ االلہ کے خاص بندے ہیں۔ االلہ ان کے قلب میں ایسی وسعت پیدا کردیتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے قیدی معلوم ہوتے ہیں۔ تو مولانا رومی رحمتہ االلہ علیہ نے اپنے کو نہیں دیکھا کہ میں کیا ہوں، جب شمس الدین تبریزی کا بستر شاہ خوارزم کے نواسے نے سر پر رکھا تو ایک شعر کہا تھا۔

ایں چنیں شیخ گدائے کوبکو

عشق آمد لا ابالی فَاتّقُوْا

میں اتنا بڑا شیخ اور عالم تھا کہ آج االلہ کے عشق نے مجھے یہ شرف بخشا کہ گلی در گلی شمس الدین تبریز کی غلامی کررہا ہوں لیکن یہ ان کی غلامی نہیں تھی االلہ ہی کی غلامی تھی۔ االلہ ہی کے لیے مٹایا تھا اپنے آپ کو، اہل االلہ کا اکرام وہی کرتا ہے جس کے دل میں االلہ کی طلب اور پیاس ہوتی ہے۔

حضرت شمس الدین تبریزی کی چند دن کی صحبت کے بعد مولانا رومی پر حق تعالیٰ نے علم کے دریا کھول دیے۔ اہل االلہ کی صحبت و خدمت و تربیت کی برکت سے جو االلہ والا ہوجاتا ہے تو اس کے علم اور غیر تربیت یافتہ عالم کے علم میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس کی مثال اس طرح ہے حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ ایک حوض کھودیے اور اس میں پانی بھر دیجیے اور پھر نکالتے رہیے تو یہ پانی زیادہ عرصہ تک نہیں چلے گا، ہاں اگر اتنی کھدائی کی جائے کہ سوتہ جاری ہوجائے، زمین کے نیچے سے پانی نکل آئے تب اس حوض کا پانی ختم نہیں ہوگا۔ یہ مثال ان االلہ والوں کے لیے ہے جو االلہ والوں کی جوتیاں اٹھانے سے، گناہوں سے بچنے سے، ذکر و فکر کے دوام سے، یعنی وہ سوچتے رہتے ہیں کہ آسمان و زمین و سورج و چاند کا کیا مقصد ہے، ان کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اس کا ہم پر کیا حق ہے، یہ نہیں کہ کھاؤ پیو اور مست رہو۔

مولانا رومی جب صاحب نسبت ہوئے تو ساڑھے اٹھائیس ہزار اشعار االلہ نے ان کی زبان سے نکلوائے اور جس پر نظرعنایت کی صاحب نسبت ہوگیا، مولانا رومی فرماتے ہیں کہ جب میں شعر کہتا ہوں تو بعض وقت سوچتا ہوں کہ اس کا قافیہ کیا ہوگا

قافیہ اندیشم و دلدار من

گویدم من دیش جزدیدار من

جب قافیہ سوچتا ہوں تو میرا محبوب آسمان سے آواز دیتا ہے کہ اے جلال الدین مت سوچ، بس میری طرف متوجہ رہ، مثنوی تو میں لکھوا رہا ہوں، میں ہی مضامین و قوافی الہام کروں گا۔ جب مثنوی کے چھ موٹے موٹے دفتر مکمل ہوگئے، ساڑھے اٹھائیس ہزار اشعار ہوگئے اور سیکڑوں قصے شاعری میں سما گئے تو االلہ تعالیٰ نے اس کتاب کے الہامی ہونے کے ثبوت میں اپنے آفتاب علم کی محاذات کو مولانا رومی کے قلب سے ہٹالیے، یعنی علوم و معارف کے جو واردات غیبیہ حق تعالیٰ کی جانب سے آرہے تھے بند ہوگئے تو مولانا سمجھ گئے کہ اب مثنوی ختم ہو رہی ہے اور حق تعالیٰ اس آخری قصے کو ادھورا رکھنا چاہتے ہیے۔ فرمایا کہ میرے چاہ باطن کا چشمہ خشک ہوگیا لہٰذا اب میرا آبِ سخن خاک آلود آرہا ہے یعنی گفتگو میں اب نور نہیں، لہٰذا اب اپنی زبان پر مہر سکوت لگاتا ہوں۔ اس شعر میں ان کے اس خیال کی وضاحت کچھ اس طرح ہے

چوں فتاد از روزن دل آفتاب

ختم شد و االلہ اعلم بالصّواب

میرے دریچہ قلب کے سامنے االلہ کے علم کا جو آفتاب مضامین اتقاء کر رہا تھا وہ قلب کے محاذات سے افق میں ڈوب گیا اور اس کے بعد مولانا کا آفتاب بھی ڈوب گیا۔ اور غروب ہی کے وقت دفن بھی ہوئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔