سنگل ماؤں کے نام کچھ پیغامات


میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں وہ چند انتہائی تکلیف دہ حالات جں سے کوئی خاتون دوچار ہو سکتی ہے ان میں سے ایک سنگل ماں ہونا ہے۔ اگر تو یہ سنگل ماں ہونا بیوگی کا نتیجہ ہے تو پھر بھی معاشرے کی نظروں میں کسی حد تک ترحم اور ہمدردی پائی جاتی ہے، مگر طلاق ہو جانے یا خلع لے لینے، ان دونوں صورتوں میں معاشرے کا رویہ اور برتاؤ بہت عجیب ہوتا ہے۔ کرید کرید کر ہر بات کی تہہ تک پہنچنا، اسے اپنی عقل کے مطابق جانچنا اور آپ کے طلاق لینے کی وجوہات کو کافی نہ سمجھنا بہت سے لوگ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

۔ ہماری نسل کی لڑکیوں کو تو خصوصا بچپن ہی سے کہے ان کہے یہ باور کروا دیا گیا تھا کہ ہماری تو شادی ہو جانی ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ ہمارے زمانے میں تو جن لڑکیوں کے رشتے پڑھائی کے دوران آ گئے تو پڑھائی چھڑوا کر ان کی شادی کر دی گئی۔

اب جب جھوٹ، دھوکہ دہی اور منافقت ہمارے معاشرے کی جڑوں میں گہرائی تک رچ بس چکے ہیں تو طلاق ہو جانا کوئی ایسی ان ہونی یا غیر معمولی بات نہیں رہی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ شادی ہوتے ہی فورا بچہ پیدا کر لیا جاتا ہے کیونکہ ہر شخص یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ طلاق اس کے لئے نہیں، نہ ہی اس کے ساتھ کبھی ایسا ہوگا۔ مگر جب طلاق ہو جائےتو بچے عموماً ماں کی تحویل میں دے دیے جاتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے زیادہ چھوٹے بچوں کی ماں سے بہتر کوئی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ کچھ مرد حضرات تو ایسے میں مکمل طور پر فارغ ہو کر نئے محاذ فتح کرنے چل پڑتے ہیں، کچھ بچہ چھین لینے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور چند آٹے میں نمک کے برابر حضرات طلاق کے بعد بھی خاتون کو یقین دلاتے ہیں کہ بی بی مانا کہ تم اور میں اکٹھے نہیں چل سکے مگر بچے کی پرداخت اور پرورش میں جتنا مجھ سے بن پڑا میں حصہ ڈالوں گا۔

ظاہر ہے کہ ہر صورتحال منفرد ہوتی ہے اور کچھ خواتین اپنے ماں باپ کے گھر رہنے کے لیے آ جاتی ہیں۔ کچھ کو اکیلے رہنا پڑتا ہے تو کچھ کے بھائی کسی حد تک ڈھال کا کام دیتے ہیں مگر ہر صورت میں زندگی خاتون کے لئے بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ میرا ایک بہت بڑا حلقہ احباب سنگل ماؤں پر مشتمل ہے۔ یہاں میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں کچھ موٹی موٹی باتیں شئیر کرنا چاہتی ہوں جو شاید کسی کے کچھ کام آ سکیں۔

تو آپ کی طلاق ہو گئی، آپ گھر آ گئیں، ساتھ میں بچہ بھی۔ بہت برا ہوا کہ ایک گھر جو نہ ٹوٹنے کے لئے بسا تھا، ٹوٹ گیا، مگر صرف کچھ عرصہ مختص کریں اس بات پر رونے کے لئے اور آگے چل پڑیں۔

ہر آئے گئے کی تفریح طبع کے لئے خود پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی پیش کرنا آپ پر ہر گز بھی فرض نہیں۔ آپ کسی کو جواب دہ نہیں اور گذرے ہوئے قصے پر ایک ایک شخص سے درست فیصلے کی مہر لگوانا کسی طور بھی درست عمل نہیں۔

آپ کی ذہنی صحت آپ کے اور آپ کے بچے کے لئے بے حد اہم ہے۔ طلاق یا خلع میں کوئی عیب نہیں اور نفسیاتی معالج سے ملنے میں بھی ہر گز کوئی حرج نہیں۔ اگر آپ کو کچھ گرہیں محسوس ہوتی ہیں تو کسی سمجھدار نفسیاتی معالج سے بیٹھ کر بات کر لیں۔ یہ محلے کی کسی عیار خالہ جی سے بات کرنے سے بہت بہتر ہے۔

آپ کی جسمانی صحت بھی آپ اور آپ کے بچے کے لئے بہت اہم ہے۔ اپنی خوراک کا خیال رکھیں اور تھوڑی بہت چہل قدمی یا ورزش پر بھی توجہ دیں۔

طلاق کے بعد ایک اور اہم بات ہے ایک اچھے وکیل سے رجوع کرنا۔ اگر بچہ آپ کے پاس ہو بھی تو اس کا خرچ دینا اس کے باپ کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے ہاں مقدمے بہت وقت لیتے ہیں لیکن اگر درخواست دی جائے تو عدالت پہلے ہی دن سے انٹیرم مینٹیننس باپ سے لے کر ماں کو دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ جہیز کی اشیا کی وصولی کے لئے بھی مقدمہ دائر کر سکتی ہیں۔

اگر آپ کے والدین یا بہن بھائی آپ کو کسی طرح کی مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں تو اسے قبول کرنے سے انکار مت کریں۔ مگر ایک اور خدائی فوجدار جو ایسے حالات میں بعض صورتوں میں اپنی امداد فراہم کرنے کے لئے نمودار ہو سکتے ہیں وہ دور دراز کے شادی شدہ مرد رشتہ دار اور احباب ہیں۔ ان کو بہت شائستگی سے بتا دیجیے کہ وہ اپنی توجہ اپنی بیگمات اور بچوں پر مرکوز رکھیں۔

آئیڈیل طریقہ تو میرے نزدیک یہی ہے کہ پہلے لڑکی کی تعلیم مکمل ہو اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو تو شادی ہو۔ مگر ایسا اگر نہیں ہوا تو کوئی بات نہیں۔ سب سے پہلے اپنے پہلے سے موجود اثاثوں کو مزید تعلیم کے حصول پر صرف کریں۔ یقین مانیں کہ یہ سب سے مثبت قدم ہو گا جو آپ اپنے اور اپنے بچے کے لئے اٹھا سکتی ہیں۔ ڈھونڈنے پر باہر کی ہونیورسٹیوں کے بھی بہت سے سکالرشپ مل جاتے ہیں۔

ملازمت تلاش کریں اور ضرور کریں۔ اب تو گھر سے کام کرنے کے بھی بہت سے مواقع موجود ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے بہت سی خواتین دیکھی ہیں جو گھروں میں لذیذ کھانے اور عمدہ لباس تیار کر کے فیس بک کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔

اگر آپ کا سابقہ شوہر آپ کے بچے کی زندگی سے مکمل علیحدگی اختیار کر چکا ہے تو یہ بات درست ہے کہ آپ کی ذمہ داری دگنی ہو گئی ہے۔ مگر بچے کو ہر گز بھی یہ باور مت کروائیں کہ وہ سب سے ہٹ کر ہے اور مظلوم ہے۔ اسے بتائیں کہ کچھ بچے ماں اور باپ دونوں کے ساتھ رہتے ہیں، کچھ صرف ماں کے ساتھ اور کچھ صرف باپ کے ساتھ بھی رہتے ہیں اور کسی صورتحال میں کچھ برائی یا عیب نہیں۔

ماضی کے تلخ اور کشیدہ حالات کا ذکر بچے کے سامنے مت کریں۔

بچے کے ضروریات پورا کرنا اور اس کے ساتھ وقت صرف کرنا اچھی بات ہے مگر خود پر ایک حد سے زیادہ سختی مت کریں۔ یقین مانیں کہ عام حالات میں بھی مائیں بچوں کے ساتھ ایک حد تک ہی وقت بتاتی ہیں، تو اگر آپ کا بیشتر وقت اس کے لئے دیگر ضروریات زندگی کا بندوبست کرنے میں صرف ہو رہا ہے اور آپ اس کے ساتھ کھیل نہیں پاتیں تو ایسا کچھ حرج نہیں۔ بس ہفتے میں ایک آدھ بار اپنے جیسی دوسری ماؤں کے بچوں کے ساتھ کسی پارک وغیرہ میں مل لیں تو یہ آپ اور آپ کے بچوں، دونوں کے لئے اچھا ہو گا۔

مثبت لوگوں، مثبت کتابوں اور مثبت اثرات کو اپنی زندگی پر حاوی کریں۔ منفی لوگوں سے دور رہیں۔

دوسری شادی کے امکان کو یکسر رد نہ کریں۔ سوچ سمجھ کر کیے گئے فیصلے درست بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور تمام سوتیلے والدین برے نہیں ہوتے۔ تاہم اس معاملے میں نہ تو کوئی دباؤ قبول کریں اور نہ ہی جلد بازی سے کام لیں۔

اپنے اثاثوں کو کسی وکیل کے مشورے سے اس طریقے سے محفوظ کریں کہ آپ کی زندگی کے ساتھ کسی پیش آنے والے حادثے کے صورت میں وہ اثاثے باآسانی آپ کے بچے کو منتقل ہو سکیں۔

مدد کے لئے دوسروں کی طرف کم سے کم دیکھیں اور لوگوں کے بدلتے رویوں پر صدمے میں مت آئیں۔ بس ہر شخص کا اپنا اپنا ظرف اور دل کی گنجائش ہوتی ہے۔

اپنے آپ کو روز یقین دلائیں کہ آپ ایک مکمل، با صلاحیت، بہادر اور خوبصورت انسان ہیں جو ہر صورتحال کا مضبوطی اور ثابت قدمی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔ یاد رکھئے کہ زندگی محنت اور کوشش سے ہی بنتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 35 posts and counting.See all posts by maryam-nasim