کیا مرنے سے بچنے کے لیے کتا بننا ہو گا؟


مولانا طارق جمیل کی ایک ویڈیو ابھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جو نہ جانے کون سا دھماکہ ہونے کے بعد ریلیز کی گئی ہو گی۔ اس میں وہ اپنے پیروکاروں کو بہت ہلکے پھلکے انداز میں دہشت گردی سے متعلق بنیادی آگاہی دے رہے ہیں۔ مولانا ایک ذی وقار عالم دین ہیں۔ ان کی شخصیت، ان کے افکار، ان کا ہر دل عزیز ہونا، کئی مشہور لوگوں کو مذہب کی راہ دکھلانا، کسی بات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ مولانا فرماتے ہیں؛

“میں دھماکوں سے اتنا پریشان نہیں ہوں کہ جو مر رہے ہیں شہید ہو رہے ہیں۔ اور جو ظالم ہیں اگر یہاں نہ پکڑے گئے تو ایک دن اللہ نے رکھا ہے انہیں پکڑ کے دکھائے گا۔ اس سے میرا ملک تباہ نہیں ہو گا۔ اس سے میرے ملک میں طاقت آئے گی۔ کیونکہ قربانی سے چیز بڑھتی ہے۔ بکریاں روزانہ ذبح ہوتی ہیں۔ ریوڑ کے ریوڑ نظر آتے ہیں کہ نہیں؟ کبھی کم نظر آتی ہیں؟ کتے نہیں ذبح ہوتے۔ کبھی کتوں کا ریوڑ نظر آیا کہ یار دو سو کتے جاندے پئے نیں؟ کد کلا بیٹھا ہوندا اے ٹاؤں ٹاؤں کردا۔ کدی دو بیٹھے ہوندے نیں (کبھی کتوں کا ریوڑ نظر آیا ہے کہ یار دو سو کتے جا رہے ہیں۔ کبھی اکیلا بیٹھا ہوتا ہے ٹاؤں ٹاؤں کرتا کبھی دو بیٹھے ہوتے ہیں)۔ قربانی سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ قربانی آگے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔ جو چیز مجھے رلاتی بھی ہے تڑپاتی بھی ہے پر میں فریاد بن کر بھنتا ہوں مجھے پتہ ہے کہ میں یہ آگ نہیں بجھا سکوں گا“ (ٹیکسٹ بشکریہ عدنان کاکڑ)

مولانا کی فہم دین پر سوال اٹھانا ایسے ہے جیسے سورج کو چراغ دکھایا جائے۔ مسئلہ لیکن نہایت بنیادی ہے۔ کون سا دین ہمیں اس بات کا سبق دیتا ہے کہ ہم خوشی خوشی دہشت گردی کو گلے لگا کر روز کٹتے رہیں، روز مرتے رہیں؟ عین ممکن ہے یہ ویڈیو ایڈٹ کی گئی ہو۔ بہت سی باتوں کا سیاق و سباق غائب ہو لیکن جو الفاظ کہے گئے وہ مربوط تھے۔ خدا نخواستہ یہ کوئی فرد جرم بھی نہیں کہ اس چکر میں پڑا جائے اور سوچا جائے کہ صحت سیاق و سباق کتنی اہم ہے۔

پہلی بات ہمیں یہ دیکھنی ہے کہ جو مر رہے ہیں، وہ کیسے شہید ہیں؟ ایک انسان اپنی مرضی سے فوج میں گیا۔ نوکری کی۔ تربیت حاصل کی۔ ضروری تعلیم لی اور تمام ضروری مراحل وقت کے ساتھ ساتھ طے کرتا رہا۔ اس بیچ اگر جنگ چھڑ گئی، دوران جنگ کسی بھی وجہ سے وہ مارا گیا، تو بھئی وہ شہید ہے۔ بے شک ہے۔ ہر قوم ہر مذہب متفق ہو گا کہ وہ شہید ہے۔ یہاں تک کہ بھارت اور پاکستان کی جنگ میں جو فوجی کام آتے ہیں، وہ اپنے اپنے ملک میں شہید کہلاتے ہیں۔ یہ شہادت کی متفقہ تعریف ہے۔

پولیس والے بھی دوران کار اگر کسی مجرم سے لڑتے ہوئے یا کسی بھی واردات کو روکتے ہوئے بے جگری سے مارے جاتے ہیں، وہ متفقہ شہید ہیں۔ خلاف قانون ہونے والےکسی بھی واقعے کو روکنا اور نہ رک پانے پر ہر ممکن مزاحمت ان کا فرض ہے۔ ان کے پاس اسلحہ ہے، تربیت ہے، ایسی لڑائیوں کا فہم ہے، وہ آگاہ ہیں کہ ایک نہ ایک دن اس فرض کو نبھاتے ہوئے انہوں نے اپنی جان قربان کر دینی ہے۔ تو یہ قربانی سمجھ میں آتی ہے، ان کی موت شہید کی موت ہے۔

اسی طرح سکیورٹی گارڈز ہیں، ذاتی محافظ ہیں، چوکیدار ہیں، یا وہ تمام لوگ ہیں جو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

احمد بخش گھر سے نکلتا ہے، بیٹی سے شام کو چاکلیٹ لانے کا وعدہ کرتا ہے، بیوی کو نیا موبائل دلانے کا آسرا دیتا ہے، ماں کی دواؤں والا نسخہ جیب میں ڈالتا ہے اور کام پر پہنچ جاتا ہے۔ وہاں سے اٹھ کر کسی کام سے بازار جاتا ہے اور سڑک پر دھماکے میں وہ مارا جاتا ہے تو کیا احمد بخش شہید ہو گا؟ یہ کیسی شہادت ہو گی جو بن بتائے نصیب ہو گئی؟ نہ اس کے وہم و گمان میں تھا نہ اس کی بیٹی نے سوچا ہو گا کہ شام کو بابا کے بجائے بس ٹی وی پر نیوز کلپ آئے گی یا چند ٹکڑے، اور نہ بیوی کو خبر ہو گی کہ وہ خیر سے تمام عمر ایسے شہید کی بیوہ کہلائے گی جو شام کو واپس آنے کا بتا کر گیا تھا۔ ماں باپ رہ گئے، وہ تو وطن عزیز میں اولاد کے پیدا ہوتے ہی ہولنے لگتے ہیں، تو ان کے ساتھ جو ہو گا وہ ان کے بدترین اندیشوں کا یقین میں بدل جانا ہو گا۔ ایسا یقین جو شہادت کے ریپر میں لپیٹ کر پیش کیا جائے گا۔

مذہبی فکر ہمیں اس صورت میں صبر کرنا سکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ خون ناحق ہے۔ اور ظلم کی کم ترین مذمت اسے دل میں برا سمجھنا ہے۔ ناحق خون کا جواز یہ دینا کہ وہ شہید ہیں اور ان کے درجات بلند ترین ہوں گے، یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ ایسے تو لٹا دیجیے پوری قوم کو سڑکوں پر اور چند ٹینکوں کا بندوبست کر لیجیے، شوق شہادت کس کو نہیں ہو گا؟

پھر دلیل یہ دی گئی کہ قربانی سے تعداد بڑھتی ہے اور مثال دی گئی بھیڑوں بکریوں کی قربانی کی، وہ ہر سال کٹتی ہیں اور ان کے ریوڑ کے ریوڑ جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یعنی ہم باقاعدہ آپ کی بھیڑیں بن جائیں اور گلے کٹواتے جائیں؟ صرف ایک مرتبہ بم دھماکے سے مرنے والے کی اولاد، بیوی یا ماں باپ سے پوچھ لیجیے کہ وہ آپ کی اس بے فکری اور شاندار مثال پر کیا کہتے ہیں؟ ان کے گھر کیسے چلتے ہیں، ان کی سانسیں کیسے چلتی ہیں، اور کتنی بار مر مر کے وہ جیتے ہیں، ایک بار ضرور پوچھیے! بھیڑ بکریوں اور مرنے والوں کو ملا دینے سے بے حس ہونے کا سبق دیا جا رہا ہے یا ہماری اوقات بتلائی جاتی ہے، وضاحت درکار ہے!

برطانیہ کے ایک شہری کو چوبیس گھنٹے میں ستائیس مرتبہ دل کا دورہ پڑا لیکن انہیں بچا لیا گیا۔ بی بی سی پر یہ خبر کل موجود تھی۔ یعنی ہسپتال کا عملہ اس قدر فعال تھا کہ ستائیس مرتبہ دل کے دورے بھی اس خوش نصیب کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔ خیر وہاں تو بھیڑ بکریوں کے بھی رائٹس ہوتے ہیں، جانے دیجیے۔

اور ہاں یاد آیا، اگر کتا بننے سے یہ قربانی ٹلتی ہے تو میں قربان، ہم لوگ آج سے کتے بن جاتے ہیں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 282 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “کیا مرنے سے بچنے کے لیے کتا بننا ہو گا؟

  • 25-02-2017 at 1:40 pm
    Permalink

    Do you have link to the video ?

Comments are closed.