مسئلہ انتہا پسند ذہنوں کی سپلائی کا ہے


دہشت گردی غربت کا نتیجہ نہیں ہے۔ بہت سے ممالک ہیں جہاں غربت پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ ہے مگر وہاں دہشت گردی نہیں ہے۔ 1980 سے پہلے بھی پاکستان میں بہت غربت تھی لیکن دہشت گردی نہیں تھی۔ ہاں فرقہ وارانہ لڑائیوں اور فسادات کی کچھ تاریخ ہے لیکن آج کی دہشت گردی کے ساتھ ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی ریاست کی رٹ موجود تھی اور لڑنے والوں کو بھی اپنی زندگی دوسروں کی موت سے زیادہ عزیز ہوتی تھی۔

دہشت گردی مالی بے ضابطگیوں اور رشوت ستانی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اور بھی بہت سارے ممالک ہیں جہاں رشوت ستانی اور مالی بے ضابطگیاں ہم سے کہیں زیادہ ہیں لیکن دہشت گردی نہیں ہے۔

دہشت گردی اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہماری پولیس کا نظام کمزور ہے۔ پولیس والے سست ہیں اور ان کی توندیں نکلی ہوئی ہیں اور مجرموں کو پکڑنے کے قابل نہیں ہیں۔ بہت سے ممالک ہیں جہاں کی پولیس ہماری پولیس سے کہیں زیادہ سست اور کمزور ہے مگر وہاں پر دہشت گردی نہیں ہے۔

دہشت گردی اس لئے نہیں ہے کہ ہمارا لٹریسی ریٹ کم ہے اور ہمارے ہاں ان پڑہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایسے کافی ممالک ہیں جہاں کا لٹریسی ریٹ پاکستان سے بھی کم ہے لیکن وہان پر دہشت گردی نہیں ہے۔

دہشت گردی اس لئے نہیں ہے کہ ہمارے ہاں بیرون ممالک سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے تعداد بہت زیادہ ہے۔ عام پناہ گزین امن پسند لوگ ہیں اور مصیبتوں کے مارے ہوئے ہیں۔ وہ امن پسند ہیں اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث لوگ زیادہ تر پاکستانی ہی ہوتے ہیں۔

دہشت گردی اس لئے نہیں ہے کہ پاکستان کے دشمن بہت زیادہ ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ دنیا میں بہت سارے ممالک کی آپس میں ٹھنی ہوئی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں بھی کرتے ہیں مگر وہاں دہشت گردی نہیں ہے۔ امریکی سازشی ایجنسیاں روس یا چین کے باشندوں کو ورغلا کر یا پیسے دے کر انہیں ان ملکوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتیں۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا بھی ایک دوسرے کے ملکوں کے شہری خرید کر ان سے خود کش دھماکے نہیں کروا سکتے۔ خود کش دھماکوں کے لئے آپ پوری دنیا میں صرف مسلمان بچے ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

دہشت گردی اس لئے نہیں ہے کہ انڈیا ہمارے سی پیک اور پی ایس ایل سے جل بھن رہا ہے اور وہ اسے ہر حال میں ناکام کرنا چاہتا ہے تاکہ ہم ترقی نہ کر سکیں۔ دہشت گردی سی پیک اور پی ایس ایل سے پہلے بھی تھی اور ہم بھی انڈیا کو پچھلی دو دہائیوں سے ترقی کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں لیکن اگر چاہیں بھی تو اس کی ترقی پر حملہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم نوجوان بھارتی لڑکوں کو خود کش جیکٹ پہننے اور انڈیا میں بم پھوڑنے پر تیار کر نہیں سکتے۔

دہشت گردی ڈرون حملوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ کیونکہ ڈرون حملے تو رکے کافی عرصہ ہو گیا ہے لیکن خودکش حملے اب بھی ہو رہے ہیں۔ اب تو عمران نے بھی اس بہانے کا ذکر بند کر دیا ہے۔

دہشت گردی مذہب کی جانب رجہان کی کمی یا مذہبی سے آزادی کا نتیجہ یا رد عمل نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں مذہب برائے نام ہے مگر وہاں پر بھی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

دہشت گردی اس لئے ہے کہ ہمارے ہاں انتہا پسند اور دہشت گرد ذہن تیار کیا جاتا ہے۔ امریکہ، اس کے اتحادیوں اور پاکستانی ڈکٹیٹر ضیاالحق اور اس کے حواریوں کو یہ علم تھا کہ ایک عام اور نارمل شخص بارڈر پار افغانستان جا کر سوویت اور افغان افواج سے لڑنا نہیں شروع کر دے گا تاکہ وہاں کیمونسٹ حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کام کے لئے ایک خاص ذہن کی ضرورت تھی۔ وہی ذہن تیار کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ ایک ایسا ذہن جس میں دوسروں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کے بھر دی گئی ہو۔ اسے یہ یقین ہو کہ اس کے شدید دشمن ادھر موجود ہیں اور وہ اسے تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔ لہذا اسے چاہیے کہ اٹھے اس سے پہلے کہ وہ ہمیں تباہ کریں ہم انہیں تباہ کر دیں۔ ایسا ذہن تیار کرنے کے لئے پورا پیکج تیار کیا گیا۔ ایک پورا بیانیہ تراشا گیا۔ مدرسوں اور میڈیا نے اس بیانیے کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سکولوں کے نظام کو بھی اس کے مطابق ڈھالا گیا۔ جہاد کو فرض اور شہادت کو حوروں کا تڑکا لگا کر خوب گلیمرائز کیا گیا۔ اس پورے بیانیے سے ایک خاص قسم کا ذہن تیار ہوتا تھا۔ تب جا کر افغانستان کی جنگ کے لئے انسانی ایندھن سپلائی ہوتا تھا۔

جنرل ضیاالحق نے امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان میں یہ ماحول تیار کیا۔ اس میں سعودی پیسے کا بھی بہت کردار تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہی ماحول اور بیانیہ ابھی تک چل رہا ہے۔ اب بھی ہمارے بچے بالکل اسی ذہن کے ساتھ تیار ہوتے ہیں۔ وہ نفرت بھرا ذہن جو ہم اس وقت تیار کر رہے تھے وہ ہم اب بھی کر رہے ہیں۔ ہم نے اس کام کو بند نہیں کیا۔

مدرسے وہی کام کر رہے ہیں جو وہ افغان جہاد کے دنوں میں کر رہے تھے۔ اور ان کی تعداد (اور طاقت) میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سکولوں کا سلیبس وہی ہے۔ میڈیا ابھی بھی اسی جہادی مائنڈ سیٹ کو پروموٹ کرتا ہے۔ اب بھی ہمارے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر لوگ دہشت گردی کو جائز قرار دینے کے بہانے پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے حمایتی بڑے معتبر ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ تو شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔

اسی شریعت کے نفاد کی آڑ میں انہوں نے اسلام آباد کے اندر بیٹھ کر ہماری فوج تک کو للکارا۔ بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ سرعام جنگ کی اور ہمارے فوجی شہید کیے۔ ریاست پھر بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور وہ آج بھی اسلام آباد ہی میں بیٹھ کر دہشت گردوں کی وکالت کرتے ہیں اور حکومت انہیں ایک دن بھی قانون کے نرغے میں نہیں لا سکی۔

دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ان وجوہات کو ایڈریس کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے دہشت گردی ہے۔ وہ پورا نظام بدلنا پڑے گا جو انتہا پسند اور دہشت گرد ذہن تیار کرتا ہے۔ اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ انتہا پسند اور دہشت گرد ذہن تیار کرنے کا سلسلہ اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ اپنے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کی بجائے پیار کا بیج بونا پڑے گا۔ اس کے لئے سکول، مدرسے، مسجد اور میڈیا سبھی کو اس کام پر لگنا ہو گا۔ ذمہ داری ریاست کی ہے اور اسے نبھانی پڑے گی۔

یہ بیانیہ بدلنا ہو گا کہ باقی سارے کلچر، سارے مذاہب اور سارے عقائد غلط ہیں۔ وہ سب ہمارے دشمن ہیں اور ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اور انہیں ختم کرنا ہمارے ذمہ داری ہے۔ جہاد اور شہادت پر امن اور زندگی کی ترجیح کا پرچار کرنا ہو گا۔ امن پسند ذہن کو پروموٹ کرنا ہو گا۔

جہاد اور شہادت کے نام پر دہشت گردی اب ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ اس کاروبار سے منسلک لوگ یقینا اس بات کو پسند نہیں کریں گے اور مزاحمت کریں گے لیکن ان کا سامنا کرنا اور ان کو اس کام سے کسی بھی طرح ہٹانا لازمی ہے ورنہ ہم دہشت گردی ختم نہیں کر پائیں گے۔

اگر ہم مکمل انتظام نہ کر پائے تو انتہا پسند ذہنوں کی سپلائی جاری رہے گی اور دہشت گردی یونہی ہمارا خون بہاتی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 139 posts and counting.See all posts by salim-malik