ہمارے لیے نیب گزشتہ روز مرگیا ہے: جسٹس عظمت


پانامہ پیپرز کیس تو شاید کل مکمل ہو جائے مگر آج کا دن بھی ن لیگ والوں پر عدالت میں بھاری گذرا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور قومی احتساب بیورو کے سربراہوں نے گزشتہ روز عدالت میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور جس طرح سے یہ ادارے عام طور پر کام کررہے ہیں، سپریم کورٹ کے جج اس تاثر سے باہر نہ نکل سکے۔ ججوں کے پاس ہر دلیل کے جواب میں یہی نکتہ تھا کہ ادارے تو اپنا کام ہی نہیں کررہے تو کیا سپریم کورٹ بھی نہ کرے؟  عمران خان آج بھی کئی مواقع پر ججوں کے ریمارکس کو سن کر پرجوش انداز میں کھڑے ہوکر کارروائی دیکھتے پائے گئے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کی معاونت جاری رکھتے ہوئے پانچ رکنی بنچ کو بتایا کہ کل کے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حدیبیہ پیپرز مل کیس اور فیصلے کا مکمل مطالعہ کیا ہے، سپریم کور ٹ نے نیب کی جانب سے ہائیکورٹ فیصلے پر اپیل دائر نہ کرنے پر مجھ سے رائے مانگی ہے، عدالت کو بتانا چاہتاہوں کہ معاملہ غیرملکی اکاؤنٹس کا تھا، قرضہ لے کر غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس سے ڈیل کی گئی۔ اٹارنی جنرل نے اس معاملے کی مزید وضاحت کرنے کی کوشش کی تو جسٹس عظمت نے انہیں ٹوک دیا، بولے، تمام وکیلوں سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے ہم پر رحم کریں، اگر کوئی کہانی بنائی ہے تو اس کی حد تک رہیں، میں نہیں کہتا کہ کوئی کہانی بنائی ہے مگر ایسا ہے تو پھر الگ الگ بات نہ کریں، ہر وکیل ایک ہی معاملے کو مختلف انداز میں بیان کرکے کنفیوژ کررہا ہے۔

جسٹس عظمت نے اٹارنی جنرل سے کہا، اپنا کردار بطور معاون ادا کریں کسی فریق کی طرف دار ی نہ کریں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا، آپ کے نوٹس پر معاونت کے لئے آیا ہوں، صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ حدیبیہ پیپرزمل معاملے میں غیر ملکی پیسہ پاکستان لایا گیا اس کا پانامہ کیس سے تعلق نہیں بنتا کیونکہ پانامہ کیس میں الزام پاکستان سے پیسہ باہر لے جانے کا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا اگر حدیبیہ پیپرز معاملے میں سچ موجود تھا تو دفنایا کیوں گیا؟ قانونی طریقے سے ختم کیوں نہ کیا گیا؟  جسٹس عظمت نے کہا اگر اس معاملے میں الزامات جھوٹے ہیں پھر اس ریکارڈ پر انحصار کرکے دوبارہ کیوں سامنے لارہے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا، اٹارنی جنرل ریاست پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، حدیبیہ پیپرز کیس میں بھی ریاست مدعی تھی۔ اٹارنی جنرل بولے، عدالت کے سامنے صرف ریکارڈ سے حقائق درست کرکے پیش کررہا ہوں۔

اس موقع پر جسٹس اعجازافضل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے سوالیہ انداز میں وکالت کی اخلاقیات کی بحث چھیڑ دی، بولے کیا جب ایک طرف آپ حکومت کی جانب سے بطور وکیل پیش ہورہے ہوں جس طرح کی روز یہاں مقدمات میں پیش ہوتے ہیں تو اس معاملے میں خود کو غیر جانبدار پیش کرسکتے ہیں؟  کیاآ پ کی رائے غیرجانبدارانہ ہوگی؟ یہ اہم سوال ہے کیا ایسا کسی بھی وکیل یا وفاق کی جانب سے پیش ہونے والے اٹارنی کے لئے ممکن ہے؟  اٹارنی جنرل نے اس کا جواب دینے کی لب کھولے تو جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس کھوسہ نے ایک دوسرے کی جانب جھک کر مشاورت شروع کردی۔ اٹارنی جنرل بولے، اگر عدالت ضرورت سمجھتی ہے تو معاونت کرتا ہوں، کیا میں جاری رکھوں؟  جسٹس کھوسہ نے کہا، ہم بطور اٹارنی جنرل آپ کی مشکل کو سمجھتے ہیں مگر معاونت جاری رکھیں کیونکہ ہم نے آپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا آئین و قانون یہ کہتاہے کہ کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کوئی بھی شخص اپیل دائر کرسکتا ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا اپیل کا حق صرف متعلقہ شخص کو ہی ہوتاہے غیر متعلقہ شخص کی اپیل کیسے سنی جاسکتی ہے؟ کیا ماضی میں ایسی کوئی مثال ہے؟  اٹارنی جنرل بولے، روایتی طورپر بات درست ہے مگر ہم نے آئین کو دیکھنا ہے جس میں ایسی کوئی پابندی نہیں، اگر حدیبیہ پیپرز فیصلے پر نیب نے اپیل نہیں کی تو سپریم کورٹ اسے ایسا کرنے کا حکم نہ دے اس کے اثرات ہوں گے، اپیل دائر کرنے کے اور بھی راستے ہیں۔ جسٹس عظمت بولے، ہمارے لیے نیب گزشتہ روز مرگیا ہے، اب آپ اپیل کے معاملے معاونت کریں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا، یہ بات کہی جارہی ہے کہ اور ہم بھی سمجھتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ اپیل دائر کرنے کا حکم جاری کرتی ہے تو غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد اٹارنی جنرل نے بنیادی حقوق پر اپنی رائے دی اورکہا ہر رکن اسمبلی اور وزیراعظم کے بھی حقوق ہیں ان کے خلاف الزام پر متعلقہ فورم کے ذریعے ہی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ جسٹس عظمت بولے، سب سے بڑا بنیادی حق یہ ہے کہ عوام پر ان کے منتخب نمائندے حکومت کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہم یہاں صرف وزیراعظم کی بات نہیں کررہے ہر رکن اسمبلی کا معاملہ ہے کیونکہ وزیراعظم بھی پہلے رکن اسمبلی ہی ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مداخلت کرکے کہا، بنیادی حقوق کے معاملے سے آگے بڑھیں کیونکہ یہ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے جڑا تھا جس کا عدالت فیصلہ کرچکی ہے اور یہ مقدمہ سماعت کے لئے منظور کیا جا چکا ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ عدالت کہاں تک جا سکتی ہے اور کہاں نہیں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا درخواست گزار وزیراعظم کی نااہلی کے لئے عدالت آیاہے، وزیراعظم رکن اسمبلی بھی ہے، بتائیں مسئلہ کیاہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائیں پھر الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہے۔ جسٹس عظمت بولے، سپریم کورٹ براہ راست سن سکتی ہے، فیصلے موجود ہیں اس سے قبل ایک وزیراعظم کو گھر بھیج چکے ہیں، اس کے بعد عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو مخاطب کیا تووہ اٹھ کر بولے، 65 ملین ڈالرز تو نہیں آئے مگر وزیراعظم کو گھر بھیج دیا۔ جسٹس عظمت بھی اس جگت کا جواب دینے کے لئے تیار تھے، بولے وہ تو آپ نے لے کر آنے تھے، آپ گئے ہی نہیں۔

پھر اٹارنی جنرل نے آدھ گھنٹہ ایک ایسی غیر ضروری اور آئین کے الفاظ کی اپنی تشریح کرنے میں صرف کردیا جس کی بظاہر نہ ججوں کو سمجھ آرہی تھی اور نہ ہی ہم جیسے رپورٹروں کو۔ کہہ رہے تھے کہ آئین میں کووارنٹو کی رٹ صرف سروس آف پاکستان میں ہونے والوں کے خلاف دائر کی جا سکتی ہے، منتخب عوامی عہدیداروں کے خلاف کووارنٹو کی رٹ میں ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے پوچھا پھر متاثرہ فریق منتخب عہدیداروں کے خلاف کہاں جائے؟  اٹارنی جنرل نے کہا الیکشن پٹیشن دائر کریں یا پھر اسپیکر کے پاس ریفرنس لے کر جائیں۔ عدالت کو اس معاملے کا سامنا ہے کہ کوئی آکر کہتا ہے فلاں نااہل ہے اس کے خلاف فیصلہ دیدیں۔ جسٹس عظمت نے کہا، کسی کو تو گھنٹی بجانا ہوتی ہے، یہ وہ والی گھنٹی نہیں کہ بچے نے بجادی اور بھاگ گیا، یہاں گھنٹی بجانے والا عدالت میں بیٹھا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے کہا، آپ کی بات سمجھ گئے ہیں، ہوسکتا ہے اتفاق بھی کرلیں، اگلے نکتے کی جانب بڑھیں۔

اٹارنی جنرل بولے، سوال وہی ہے کون سی عدالت رکن اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ دینے کی مجاز ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا، جب حقائق متنازع ہوں تو کیا سپریم کورٹ عوامی مفاد کے مقدمے میں کسی نتیجے پر پہنچ کر فیصلہ دے سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا، عوامی عہدہ رکھنے والے کے بھی حقوق ہیں عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا، سوال ہمارے سامنے موجود مواد کا ہے جس کو دیکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا، عدالت کے سامنے پیش کیا گیا مواد ویب سائٹس سے حاصل کیے گئے کاغذ ہیں جن پر شہادتیں بھی ریکارڈ نہیں ہوئیں۔ عدالت متنازع شواہد پر کیسے فیصلہ کرسکتی ہے؟  جسٹس اعجاز نے کہا یہی دلائل وزیراعظم اور ان کے بچوں کے وکیل دے چکے ہیں۔ جسٹس عظمت بولے، پھر ان شواہد کو لے کرکیا کریں؟ جسٹس کھوسہ نے مذاق کرتے ہوئے کہا، امید ہے یہ نہیں کہیں گے کہ وہ کریں جو نیب نے کیا۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

اٹارنی جنرل نے اس موقع پر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ کچھ عرصہ قبل ثالثی عدالت میں پیش ہوا تھاتو وہاں دوسرے فریق نے حکومت پاکستان کے خلاف مقدمے میں ہمارے اخبارات کے تراشے پیش کیے جن میں ہمارے اداروں کی نااہلی اورکام نہ کرنے کی خبریں تھیں، ہمارے اہم رہنماؤں کے اپنے ہی اداروں کے خلاف بیانات تھے، ہمیں بیرون ملک ایسے حالات کا سامناکرنا پڑتاہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا جب ادارے کام ہی نہ کریں توپھر ایسی باتیں ہوتی ہیں کیا کیاجائے؟  جسٹس اعجازافضل نے کہا عدالت میں چیئرمین نیب نے کہا ان کو کارروائی شروع کرنے کے لئے ہدایات کا انتظار ہے، کیا چیئرمین نیب کو وہ شخص تحقیقات کے لئے کہیں گے جو خود اس کیس میں شریک ہیں یا ان پر الزام ہے؟ ایسی صورت میں عدالت کیاکرے؟ جسٹس عظمت نے کہا، بتائیں ان الزامات کو لے کرکہاں جائیں؟ کیا کارپٹ کے نیچے ڈال دیں؟  اٹارنی جنرل بولے، عدالت نے ہمیشہ اداروں کو مستحکم کیاہے۔ اس پر عدالت میں ہنسنے کی آوازیں گونجیں۔ تو جسٹس عظمت نے پھر اپنا جملہ دہرایا اوربولے، انگریزی کو چھوڑیں اردو میں ہی بتادیں۔ اس پر پھر قہقہے گونج اٹھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کچھ الزامات ایک فریق نے تسلیم کیے اور ان کی وضاحت دی اور کہا تھا کہ دستاویزات سے موقف کو ثابت کریں گے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے، کسی کو اچھا لگے یا برا ہم فیصلہ کریں گے، مگر کوئی دوسرا راستہ ہے تو بتادیں۔ ( اس کے بعد عدالت میں وقفہ ہوگیا)

اشتر اوصاف عدالتی وقفے کے خاتمے پر بولے، عدالت نے پوچھا ہے کہاں رجوع کیا جا سکتا ہے تو یہاں غلط بیانی اور حقائق چھپانے کے ساتھ اثاثوں کے معاملے کو لایا گیا ہے، اس پر سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا، آپ کہہ رہے ہیں حقائق چھپانے اور اثاثوں کی اصل جانچ کے لئے فوجداری مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا، آئین میں وزیراعظم کو فوجداری مقدمے سے استثنا نہیں۔ ادارے موجود ہیں اپنا کام کریں گے۔ جسٹس عظمت پھر نیب والے معاملے کی جانب چلے گئے بولے، عدالت نے گزشتہ روز نیب کو دیکھ لیا، تحفظ دیا جا رہا تھا، یہ انشورنس پالیسی ہے کہ نیب معاملے کو دیکھ لے گی۔ جسٹس کھوسہ نے کہا، اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے آئینی معاملے پر فیصلہ دیا اور فوجداری کارروائی کے لئے متعلقہ ادارے کو حکم دیا گیا، اسی طرح جعلی ڈگری کیس میں بھی فیصلہ دیا گیا اور پھر فوجداری کارروائی کے لئے سیشن جج کے پاس بھی معاملہ بھیجا گیا۔ جسٹس گلزار احمد نے پوچھ لیا حکومت نے اصغر خان کیس فیصلے پر کیا کارروائی کی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کسی فریق کی جانب سے پیش نہیں ہورہا، عدالت حکم دے تو معلومات حاصل کر کے بتا دوں گا۔

اس دوران وکیل سلمان راجا اپنی نشست سے اٹھے اور اصغر خان کیس فیصلے کی کتاب اٹھا کر بولے، اس مقدمے میں تین افراد نے اپنا کردار تسلیم کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا، یہ موقف بھی سامنے آیا ہے اور آئے گا کہ عدالت ایک ہی کیس میں نااہلی اور تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ نہیں دے سکتی۔ وکیل سلمان راجا بولے، اصغر خان کیس فیصلے میں دو حکم تھے، مقدمہ درج کریں اور تحقیقات کریں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا، اس مقدمے میں بھی یہی سوال درپیش ہے۔ جس پر عمران خان اور ان کے ہم نوا ہنس پڑے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ایف بی آر، نیب نے تحقیقات کرنا تھا مگر نہ کیں۔ جسٹس عظمت بولے، چیئرمین نیب نے کل یہاں کھڑے ہوکر کہا ہم کچھ نہیں کریں گے، عدالت کرے جو کرنا ہے۔ اسی لیے پہلے بھی کہا وزیراعظم کے پاس انشورنس پالیسی ہے۔

سلمان راجا نے کہا لیکن اس کے باوجود عدالت نے راستہ تلاش کرنا ہے اوراداروں سے کام لینا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے شعر پڑھا

ہم نے چاہا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد

وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا

اس کا عدالت میں موجود ہر شخص نے لطف اٹھایا۔

جسٹس عظمت نے کہا ارکان اسمبلی کے لئے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے اور پانامہ پیپرز میں ایسے اثاثے سامنے آئے جن کا پہلے ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ ریاستی ادارے کہہ رہے ہیں نہ ہم نے کچھ کیا، نہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کارروائی کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا عدالت کے پاس پھر بھی اختیار ہے کہ حکم جاری کرے۔ جسٹس عظمت نے طنزیہ لہجے میں بولے، جس شخص (چیئرمین نیب) کو کل دیکھا کیا وہ کسی کا ٹریفک چالان بھی کرسکتا ہے؟  اٹارنی جنرل نے کہا یہ آپ کا ان کے بارے میں تاثر ہوسکتا ہے۔ جسٹس عظمت بولے، کیا آپ کا تاثر مختلف ہے؟ کیا اس عدالت میں بیٹھے کسی بھی شخص کا اس کے بارے میں تاثر الگ ہے؟ جسٹس کھوسہ بولے، سیشن جج کے پاس جانے کا کہہ رہے ہیں تو کیا جو بات سپریم کورٹ کو نہیں بتائی جارہی ماتحت عدالت کے جج کو بتادیں گے؟ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ عمل کا ہے عملدرآمد کون کرے گا؟ اٹارنی جنرل بولے، یہ عدالت کے تحفظات ہیں۔ جج نے کہا یہ تحفظات نہیں ثابت ہوچکا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا تو کیا سپریم کورٹ تحقیقات کرے گی؟ جسٹس کھوسہ نے کہا یہی مسئلہ اس وقت عدالت کو درپیش ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا شواہد ریکارڈ کیے بغیرنااہلی کا فیصلہ جاری نہیں کیا جاسکتا، نہ کیا جانا چاہیے۔

اٹارنی جنرل کی معاونت اختتام کو پہنچی تو وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں کھڑے ہوکر کہابگزشتہ روز این ٹی این منسوخی کا معاملہ اٹھایا گیابتھا، قومی ٹیکس نمبر نوٹس دیے بغیر منسوخ نہیں کیا جاسکتا اس حوالے سے قانون اور متعلقہ نوٹی فیکیشن عدالتی معاونت کے لئے پیش کیے ہیں۔ عدالت نے ان کا شکریہ ادابکیا اورعمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو جوابی دلائل کے لئے کہا۔

نعیم بخاری بولے، اصل اہمیت عدالت میں موجود دستاویزات کی ہے ان میں حسین، حسن اور مریم کی تاریخ پیدائش درج ہے۔ عدالت میں گلف فیکٹری اراضی خریداری کی دستاویز حسین نے جمع کرائی ہے حالانکہ 1974میں اس کی عمر دوسال تھی، گلف فیکٹری کے ذمے مجموعی طورپر 63 ملین درہم کا قرض واجب الادا تھا، عدالت میں یہ دستاویزات وزیراعظم کو جمع کرانے تھے مگر حسین نے پیش کیے۔ وزیراعظم اور حسین کے جواب اور موقف میں بہت بڑا تضاد ہے اس پر غور کیا جائے۔ جسٹس اعجازالاحسن بولے، کیا نامکمل معلومات دینا جھوٹ بولنے کے برابر ہوگا؟ وکیل بولے، وزیراعظم کا عہدہ بہت اہم ہے اس لیے غلط بیانی کے سنگین اثرات ہوتے ہیں ان کو ہر صورت مکمل سچ بولنا چاہیے۔ جسٹس عظمت بولے، آپ کہتے ہیں ان کی باتیں سنی سنائی ہیں، یہ کہاں لکھا ہے کہ جو آپ نے کہا وہ سچ ہوگیا۔

جسٹس اعجازافضل بولے، کیا شواہد ریکارڈ کیے بغیر یہ سمجھ لیں کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی اور ان کے بچوں کی بات کو درست سمجھ لیں؟ وکیل نے کہا عدالت کو وزیراعظم کے عہد ے کی وجہ سے ان کی کہی بات کو اہمیت دینا ہو گی، وزیراعظم کے خطاب کے بعد قطری خط کی حیثیت نہیں رہی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا دونوں اطراف کے وکیل کل اس بارے میں آگاہ کریں کہ کیا وزیراعظم نے تقاریر اور تحریری جواب میں کہا ہے کہ فلیٹس بچوں نے خریدے یا بچوں کے ہیں؟

جسٹس آصف کھوسہ نے وکیل نعیم بخاری کو کہا کہ کل عدالتی وقفے تک اپنے دلائل مکمل کرلیں کیونکہ اس کے بعد ہم نے شیخ رشید کو سننا ہے جو بہت تیاری کرکے آئے ہیں۔ اس پر سب ہنستے مسکراتے عدالت سے باہر نکل گئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔