حلقہ ارباب ِ ذوق لاہور کے دونوں دھڑوں کا ادغام اور نئے انتخابات


حلقہ ارباب ذو ق لاہور 29اپریل 1939ء سے اب تک اُردو اد ب کے فروغ کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ اُردو ادب کی نامور اورمُعتبر ہستیاں اس سے وابستہ رہی ہیں جن میں ن۔ م۔ راشد، میرا جی، قیوم نظر، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، اشفاق احمد، بانو قدسیہ غرض لاہور کا شاید ہی کوئی ادیب ہو جو حلقہ سے وابستہ نہ رہا ہو۔ اب تو حلقہ کے لاہور کے علاوہ اسلام آباد، کراچی اور ملک کے دیگر حِصوں میں بھی باقاعدہ اجلاس ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اب تو بھارت، یورپ، امریکہ سمیت دُنیا بھر کے مختلف حصوں میں اس کی شاخیں موجود ہیں۔ جہاں اُردو ادب سے شغف رکھنے والے ادیب مل بیٹھتے ہیں۔ مضمون، افسانے، نظم، غزل اور دیگر ادبی صنفوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ 1948ء سے لاہور میں حلقہ اربابِ ذوق کا اجلاس مال روڑ پر واقع ” پاک ٹی ہاؤس“ میں باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی حلقہ کا اجلاس مقررہ وقت پر شروع ہو ا۔ محمد احمد صاحب نے وہاں کے قومی شاعر ابو القاسم الشابی کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالی۔ پھر ایک نوجوان نے اپنا افسانہ تنقید کے لئے پیش کیا۔ زاہد مسعود صاحب نے افضال ندیم کے شعری مجموعے ”سمندر بات کرتا ہے“ پر تبصرہ کیا۔ آخر میں مہمان شاعرہ نائلہ خاور نے اپنا کلام حاضرین کو سنایا۔ حلقہ کے سیکرٹری ڈاکٹر امجد طفیل نے گذشتہ ہفتے رحلت فرما جانے والے تین ادیبوں کے لئے تعزیتی ریفرینس پیش کیا۔

حلقہ کا اجلاس جاری تھا کہ اس دوران معروف ادیب حسین مجروح صاحب تشریف لے آئے سب نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔ حسین مجروح صاحب کی پاک ٹی ہاؤس آمد غیر متوقع تھی کیونکہ اس وقت حلقہ اربابِ ذوق لاہور بدقسمتی سے دوحصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک دھڑے کی سرپرستی حسین مجروح صاحب کر رہے ہیں جن کا ہفتہ وار اجلاس ایوان ِ اقبال ایجرٹن روڑ پر علیحدہ جبکہ بیک وقت دوسرے دھڑے کی قیادت ڈاکٹر امجد طفیل کر رہے ہیں جو اپنا اجلاس مال روڑ کی مشہور پاک ٹی ہاؤس میں منعقد کرتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق لاہور کی یہ دوئی اور تقسیم بہت تکلیف دہِ اور نقصان ِ دہ ہے جس کا ادراک بزرگ ادیبوں نے کیا اور کوششیں کیں کہ یہ دوبارہ یکجا ہو جائیں۔ ان کی یہ کوششیں باآوار ثابت ہوئیں اور گذشتہ ہفتے حسین مجروح کی پاک ٹی ہاؤس آمد اور باضابطہ ضم ہونے کا اعلان کیا گیا اور حاضرین کو بتایا کہ حلقہ ارباب ذوق لاہور کا سالانہ انتخابات 12مارچ کوایوان ِاقبال میں سہ پہر 3 سے رات 8 بجے تک منعقد ہو ں گے۔ 19 سے 26فروری تک کاغذات ِ نامزدگی الیکشن کمشنر نامور ادیب اشرف جاوید صاحب کو جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ 5مارچ تک امیدوار کاغذات ِ نامزدگی باہمی رضا مندی سے واپس لے سکتے ہیں۔ 19مارچ کو اختیارات نئی انتظامیہ اور سیکرٹری کے حوالے کیے جائیں گے اور اس کے بعد حلقہ ارباب ِ ذوق کے اجلاس باقاعدگی سے پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا کریں گے اور حلقہ دوبارہ سے ایک ہو جائے گا۔

ادیب محبتوں کے داعی اور پر چارک ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تفریق اور تقسیم پہلے ہی بہت ہے۔ اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ دونوں حلقوں کی یکجائی ضروری تھی۔ ہم اس تاریخی فیصلے پر حلقہ کے تمام ممبران کو خصوصی طور پر مباکباد دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ دوئی کو نوبت دوبارہ نہیں آئے گی اور حلقہ حسب ِ روایت اُردو ادب کی خدمت کرتا رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 7 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti