پشاور جہاں کئی پاگل صحافی تھے


پشاور میں حالات خراب ہونے شروع ہو چکے تھے۔ رنگ روڈ پر ٹرک اڈے تھے یہیں سے ناٹو سپلائی جاتی تھی۔ اسی سپلائی کو ٹارگٹ کرنا شروع کر چکے تھے ملنگ حضرات۔ اپنے ایک دوست کے ساتھ جو بیورو چیف تھے ہم اسی رنگ روڈ پر پھرا کرتے تھے۔ دن کو نہیں شام کو نہیں آدھی رات کو پورے خالصہ ٹائم پر۔ حیات آباد سے داخل ہوتے کوہاٹ روڈ تک گاڑی دوڑاتے پھرتے۔

پتہ نہیں یہ کیا پاگل پن تھا۔ ہم شاید اپنی طرف سے شاید اپنی آزادی سرینڈر کرنے سے انکاری تھے۔

ہمارا ایک صحافی دوست اسی رنگ روڈ کے پاس رہتا ہے۔ اس کو بھی آوارہ گردی کی پرانی بیماری ہے۔ جب ائرپورٹ یا شہر پر راکٹ فائر ہوتے تو زیادہ تر رنگ روڈ کی جانب سے ہوتے تھے۔ یہی دوست خبر بریک کرتا تھا یہ بتا کر ما وولیدل پہ سر نہ مے تیر شو میں نے دیکھ لیا میرے اوپر سے گذر کر گیا۔

بریکنگ نیوز کا بھی اک جنون ہی ہوتا صحافیوں کو۔ ہمارا ایک صحافی دوست اک کوریج کے بعد پولیس کے روکنے پر کچھ بول کر پھس گیا تھا۔ اس نے پشتو کا سیدھا اردو ترجمہ کر دیا تھا کہ بم دھماکا کر کے آ رہا ہوں۔ کور کر کے آ رہا ہوں کہنے کی اس نے زحمت نہیں کی فوجی بھائیوں نے اس سے پھر اچھی طرح تفتیش کی۔

سہیل قلندر مرحوم اک اپنی قسم کا دیوانہ تھا۔ اسی نے سب سے پہلے اپنے کالم میں طالبان کو نام لے لے کر سنانی شروع کی۔ ایسا کر کے ظاہر ہے وہ اپنے لیے مصیبت کو دعوت دے رہا تھا۔ اسے فون پر دھمکیاں ملا کرتی تھیں۔ ان دھمکیوں کا الٹا اثر ہوتا وہ دفتر کا کام ختم کرنے کے بعد اکثر آدھی رات کو خیبر ایجنسی چلا جاتا۔ وہاں ہوائی فائرنگ کر کے اپنی آمد کا اعلان کرتا اور پھر واپس آ جاتا۔ ان سے پوچھا کہ سہیل بھائی کیوں ایسا کرتے ہو تو ان کا جواب ہوتا کہ ڈر جاؤں کیا۔

سہیل قلندر اغوا بھی ہوئے تھے مہینوں قید رہے اور ایک دن موقع پا کر قید سے فرار ہو کر پشاور پہنچ گئے۔ پریس کلب میں جب ہم سب ان کی بات سننے کو کھڑے تھے تو انہوں نے اک پشتو شعر سنایا کہ اے میرے وطن تمھارے لیے میں ہر دکھ سہوں گا۔ اغوا ہمارا ایک دوسرا دوست صحافی بھی ہو گیا تھا۔ خیر سے وہ جوان بھی قید سے فرار ہو کر ہی آیا۔

صحافیوں کی دیگ سے یہ دو دانے ہی ایسے تھے کہ انہیں چکھ کر شکر ہے کافی عرصہ پھر کسی نے کوئی صحافی اغوا نہیں کیا۔ بہت بعد میں ہمارے ایک ساتھی کو اغوا کیا گیا۔

طالبان نے کوہاٹ ٹنل پر بم حملہ کیا اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے فون کیا۔ جس جوان کو فون کر کے ذمہ داری قبول کرنے کا بولا اس نے آگے سے زڑہ دا خلاصہ ان کو ایسی ایسی سنائیں کہ وہ فون ہی بند کر کے بھاگ گیا۔ اصل میں اس دوست کے گاؤں کو راستہ اسی ٹنل سے ہو کر جاتا تھا۔

پشاور کے ہی دو صحافیوں کو ان کے اخبار میں ایک اداریہ چھپنے پر مارنے کی دھمکی دی۔ دھمکی دینے والے امیر صاحب نے اپنی دھمکی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کچھ قسمیں بھی کھا لیں۔ یہ اعلان بھی ریڈیو پر کیا۔ پھر یوں ہوا کہ جن کو دھمکی دی تھی وہ خالی ہاتھ سیدھا انہی امیر صاحب کے پاس جا پہنچے۔ کافی مزاحیہ صورتحال سے گذرنے کے بعد صفائی ستھری ہو گئی۔ خود چلے جانا ایک پاگل پن تھا جو ہمارے یار کر گذرے اور خیر رہی۔

پشاور کے ایک صحافی لیڈر ہیں۔ وہ منگل باغ کے پاس انٹرویو کے لیے گئے۔ اس سے گبر سنگھ والا سوال پوچھنا چاہتے تھے کہ منگل باغ کے پاس کتنے آدمی ہیں۔  منگل باغ نے کمال بے نیازی سے جواب دیا کہ ایک لاکھ بندہ ہے۔ ہمارے عظیم لیڈر نے اسے جواب دیا امیر صاحب تمھارا دماغ خراب ہے۔ اتنی تو فوج نہیں ہوتی درمیانے ملکوں کے پاس۔ منگل باغ نے کہا پرسوں جلسہ کیا تھا اس میں لاکھ بندہ تھا۔ ہمارا لیڈر بولا کہ جلسے میں تو تماشبین آتے ہیں۔

منگل باغ نے کہا کہ اس کی سی ڈی دیکھو۔ ہمارے قائد نے کہا کہ میں کیوں دیکھوں میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ منگل باغ نے کچھ سوچا اور بولا کہ پچاس ہزار تو ہیں میرے ساتھ۔ ہمارے قائد کے چہرے پر غیر یقینی دیکھ کر منگل باغ نے کہا پندرہ ہزار۔ ہمارے قائد نے دوبارہ بات کرنے کے لیے منہ کھولا تو منگل باغ بولا بس چپ نہ تیرے نہ میرے پانچ ہزار سے ایک بندہ بھی کم نہیں کرونگا۔ ہمارے قائد صاحب مطمئین ہو گئے کہ چلو یہ مناسب ہے۔ میدان میں یہ ساری بہادری کر آنے کے بعد ہمارے قائد قصہ سناتے ہوئے کہنے لگے یار میں بھی پاگل ہی ہوں کس کے ساتھ متھا لگا رکھا تھا۔

پشاور شہر اپنے قدموں پر کھڑا رہا۔ شدت پسندی کی لہر سے سرخرو نکلا۔ وہاں نہ دھماکوں کے بعد احتجاج کی لہریں اٹھا کر سرکار کے لیے مصیبت دگنی کی گئی۔ نہ وہاں کے مصائب پر میڈیا نے غم فروشی کی۔ ہمارے شہر کو ہر شعبے میں بہت سے پاگل دستیاب نہ ہوتے تو شدت پسندی کی اس لہر کا زور توڑنا ہر گز آسان نہ ہوتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi