رد فساد گرفتاریوں سے نہیں ہوا کرتا


یونانی دیومالا میں مردوں کی سرزمین پاتال میں جانے کا دروازہ لرنا کی جھیل ہے جس کی محافظ ہائیڈرا نامی کئی سروں والی بلا ہے۔ ہائیڈرا کا سانس زہریلا ہے اس اس کا خون ایسا ہے کہ اس کی بو بھی کوئی سونگھ لے تو مر جاتا ہے۔ مگر دیومالا کے مطابق جو چیز اسے خطرناک بناتی تھی وہ یہ تھی کہ جب بھی اس کا کوئی ایک سر کاٹا جاتا تو اس کی جگہ دو نئے سر نکل آتے تھے اور وہ صرف اس وقت مر سکتی تھی جب اس کا کوئی سر باقی نہ رہتا۔ ہرکولیس کے بھتیجے آئیلوس نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہرکولیس جو گردن بھی کاٹتا، آئیلوس اس زخم کو فوراً آگ سے داغ کر بند کر دیتا اور یوں نئے سر نہ نکل سکتے۔ اس ترکیب سے ہائیڈرا ماری گئی۔

ہمارے ملک میں بھی دہشت گردی کی ہائیڈرا راج کر رہی ہے۔ اسے مارنے کے لئے اب ملک بھر میں آپریشن رد فساد شروع ہونے کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی کی اس بلا کا ایک سر کاٹا جاتا ہے، تو اس کی جگہ لینے کو دو نئے سر آن موجود ہوتے ہیں۔ ایک کو گرفتار کریں گے یا قتل کریں گے تو اس کی جگہ لینے کو دو نئے سر موجود ہوں گے۔ جب تک کوئی ترکیب لڑا کر نئے سر نکلنے کا سلسلہ بند نہیں کیا جائے گا یہ بلا پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لڑتی رہے گی۔

آپریشن رد فساد میں صرف گرفتاریاں کرنے اور پکڑے جانے والوں کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے سے شدت پسندی ختم نہیں ہو گی۔ دہشت گردوں کو فکری بنیاد ان مذہبی استادوں سے مل رہی ہے جو شدت پسندی کے قائل ہیں اور دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس پہلو پر حکومتی حکمت عملی میں توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور ہر شدت پسند خطیب اپنے خطبات و بیانات سے نئے دہشت گرد پیدا کرنے میں جتا ہوا ہے۔ ان سے فکری لڑائی نہ لڑی گئی تو یہ ہائیڈرا نئے سر نکالتی رہے گی۔

اسی بارے میں: ۔  وزیر داخلہ کی داخلی مجبوریاں

اس مسئلے کے دو حل ہیں۔ پہلا یہ کہ اسلامی احکامات کے مطابق منبر پر حاکم وقت کے نام کا خطبہ پڑھا جائے اور ہر خطیب اپنا بیان نہ دے پائے۔ مساجد کا انتظام دوسرے مسلم ممالک کی طرح حکومت نہیں سنبھالتی ہے تو یہ فساد رد نہیں ہو گا۔ اس وقت مسجد اور مدرسے کا کنٹرول حکومت کے پاس نہیں ہے بلکہ نجی شعبے کی تنظیمیں اور افراد اس پر حاکم ہیں۔ ان میں سے بہت سے مذہب کو مالی منفعت کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر فساد سے کمائی ہوتی ہے تو یہ پرائیویٹ تاجر طبقہ فساد کیوں نہیں کرے گا؟

اب یا تو اسلامی اصولوں کے مطابق مسجد و مدرسے کو سرکاری کنٹرول میں لیا جائے ورنہ سیکولر اصولوں کے مطابق مسجد و مدرسے کو نجی کنٹرول میں رہنے دیا جائے مگر نفرت آمیز گفتگو سے سختی سے نمٹا جائے اور ایسا کرنے والے شخص کو سخت سزا دی جائے۔ علما کی تنظیموں سے مشاورت کر لی جائے کہ وہ اس مسئلے سے اسلامی اصولوں کے تحت نمٹنا پسند کریں گے اور حکومت وقت کو منبر و محراب کا پورا کنٹرول دیں گے یا پھر سیکولر نظام کے ذریعے معاملے کو نمٹایا جانا انہیں پسند ہے۔

رد فساد کا بس یہی طریقہ ہے ورنہ دہشت گردی کی ہائیڈرا ایک سر کٹنے پر دو سر نکالتی رہے گی اور یہ لڑائی کبھی ختم نہ ہو گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar