کیا دہشت گرد بزدل ہوتے ہیں؟


 پاکستان میں آئے روز پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد بہت جلد یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: ’بزدل دہشت گردوں نے بہادر پاکستانیوں پر حملہ کیا‘۔ سرکاری اداروں کے ترجمان، سیاسی رہنما، صحافی اور اینکر حضرات دہشت گردوں کے تذکرے سے قبل ’بزدل‘ کا لفظ لگانا نہیں بھولتے۔ خود کش دھماکوں کے بعد مذمتی بیانات کے مقابلوں میں لفظ ’بزدل‘ کی گونج دھماکے کی آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ دہشت گردوں پر حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے بزدلی کے الزامات کی وضاحت نہیں کی جاتی اور عوام کی جانب سے ایسی وضاحت کا مطالبہ بھی نہیں کیا جاتا۔

لفظ ’بزدل‘ کے لغوی معانی یا مترادفات (جیسے ڈرپوک، کم ہمت، خائف، کم حوصلہ) پر نظر ڈالی جائے تو وہ کسی طور بھی دہشت گردوں پر صادر نہیں آتے۔اربوں روپے کے بجٹ پر چلنے والے دفاعی محکموں اور حساس اداروں کی موجودگی کے باوجود، دیسی ساختہ اسلحے سے لیس ایک شخص شہر کے بیچوں بیچ اپنے ہدف تک پہنچ جائے تو اسے بزدل کہنا کم ظرفی کی علامت ہے۔ پولیس، فوج اور بیسیوں ریاستی اداروں کی بھاری نفری، خفیہ اداروں کی انٹیلی جنس کوریج اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی بھی دہشت گردوں کو خائف کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

دہشت گرد اپنے محدود وسائل بروئے کار لا کر قوم کو ناقابل فراموش نقصان پہنچاتے ہیں اور جواب میں لیڈران، دہشت گردوں کی بزدلی پر بیانات جاری کر کے اپنے فرائض سے بری الذمہ ہو تے ہیں۔ بظاہر یہ دہشت گرد کہیں چھپ کر نہیں بلکہ سر عام اپنے خیالات کا پرچار کرتے ہیں، اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے چندہ اکٹھا کرتے ہیں اور انہی علاقوں میں سکونت اختیار کرتے ہیں جہاں عوام کا ٹھکانہ ہے۔ دوسری جانب حکومتی اہلکار چند کلومیٹر سفر کے لئے ہزاروں کی نفری کے ہمراہ سفر کرتے ہیں، گھروں، دفتروں اور گزرگاہوں پر مسلح سپاہی تعینات کرتے ہیں اور عوام سے گھلنے ملنے سے احتراز کرتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خائف ہیں۔ اپنی حفاظت کے لئے اقدامات کرنا بزدلی نہیں لیکن اس حفاظت پر ضرورت سے زیادہ توجہ یقینی طور پر بزدلی ہے۔

اگر دہشت گردی روکنے کی حکومتی کوششیں اور اس ضمن میں دہشت گردوں کی کامیابی پر ایک نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حکومتی اہل کار جس بزدلی کا الزام دہشت گردوں پر لگا تے ہیں، وہ دراصل ان کی اپنی ناکامی کا اظہار ہے۔ دہشت گرد بظاہر حکومتی مشینری سے زیادہ زیرک ہیں اور اپنے عزائم پر عمل کر تے ہیں جب کہ حکومت کسی ’بزدل‘ کی طرح زخم کھانے کے بعد گالم گلوچ پر اکتفا کرتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی کاظمی کی دیگر تحریریں
علی کاظمی کی دیگر تحریریں