دہشت گردی کے خلاف چند عملی تجاویز


سنا تھا, ظلم جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو مٹ جاتا ہے، لیکن خاکم بدہن, شنید ہے کہ ریاست میں ظلم اور بر بریت کو ابھی اپنی انتہا تک پہنچنے کے لئے مزید کئی سانحات در کار ہیں۔ جان دینے اور جان لینے والے دونوں ہی اپنی اپنی قربانیوں پر عَلم ِ شہادت بلند کئے سلگتی نفرتوں کی بنیاد پرایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا انجام محض آگ اور خون کے سوا کچھ نہیں۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے ان سانحات سے ایک بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ریاست کی آستین میں پلنے والے سانپ اب محض سانپ نہیں رہے، وہ اب اژدھوں کی صورت کئی قیمتی جانیں نگل رہے ہیں اور ہم جو ہمہ وقت حالت جنگ میں مبتلا قوم کا کردار ادا کرتے ہیں اب ایک ایسی جنگ سے نبرد آزما ہیں جو ریاست اور منجمد عقائد کے مابین ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمارا سامنا چند چبھتے ہوئے سوالات سے ہے۔ اول یہ کہ ریاست میں آئے دن شروع کئے جانے والے ردالفساداتی آپریشن وطنِ عزیز میں کئی دہائیوں سے پلتے اس ناسور سے کہاں تک لڑ پائیں گے؟ دوم کیا اس جنگ میں رعایا کا کردار محض قربانی دینے تک ہی محدود رہے گا ؟ سوم بحیثیت عوام کیا ہر سانحے اور حادثے کے بعد محض ریاستی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے ہماری قومی ذمہ داری پوری ہو جائے گی؟

حال ہی میں معروف ترقی پسند طلبا تنظیم ”نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن“کے سابق رہنما فیاض باقر کی تحریر ”بے بسی کے بیانیے سے باہر ایک قدم“ کا ترجمہ کرنے کا موقع ملا۔ جس میں انھوں نے دہشت گردی کے سامنے بے بسی کے بیانیوں کی شکل میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے چند مثبت تجاویز پیش کیں۔ یہاں اس عمدہ مضمون کے کی تلخیص پیش کی جاتی ہے۔

ہر بار جب پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت، غیرت کے نام پر قتل،جبری گمشدگی یا ظلم و جبر کے کسی نئے سانحے کا ظہور ہوتا ہے توریاستی سطح پہ بے بسی کا دوہرا بیانیہ بے نقاب ہونے لگتا ہے۔ ایک طرف ریاستی ادارے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے سرکاری بیانیے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف یہی مقتدرادارے آئے روز کی دہشت گردی کی کاروائیوں کے سامنے عملی طور پر خود کو بے بس ظاہر کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا ایک لا مختتم سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ در حقیقت اس سب میں سوائے دہشت گردی کی معذرت خواہانہ تفسیر اور مذمتی بیانات کے، کچھ بھی نہیں۔

ریاستی اداروں کو بے بسی کے اس بیانیے سے باہر آنے کے لیے عوام کے بھرپور تعاون سے ایک شفاف طریقہ کار اپنانا ہو گا۔ اس سلسلے میں چند واضح مطالبات اور تجاویز پیشِ خدمت ہیں۔ اول حکومت کو ایک ایسی ویب سائیٹ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی سے متعلق اہم معلومات کا عوام کے ساتھ تبادلہ کرے۔ حکومت کو اس مطالبے کو سیکورٹی خطرات کے پیشِ نظر ٹالنا نہیں چاہئے۔ ہمارے دشمن ہم سے زیادہ مستعد، زیرک اور با خبر ہیں۔ یہی نہیں اس وقت عالمی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بشمول امریکہ، فرانس، روس اور بھار ت کے پاس ایسے سیٹلائیٹ موجود ہیں جوپاکستان کے چپے چپے میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ جبکہ سروے آف پاکستان (ایس او پی) پاکستانی آباد کاریوں اورحساس نقشوں سے متعلق معلومات کا خود پاکستانی شہریوں کے ساتھ بھی تبادلہ نہیں کرتی۔

ہمیں عالمگیر تجربات کی روشنی میں اس بات پر بحث کی ضرورت ہے کن چیزوں کو صیغہ راز میں رکھنا چاہئے اور کن کو نہیں۔ کیونکہ بسا اوقات ریاستی ادارے راز داری کے نام پر اپنی نا اہلی، اقربا پروری اور کرپشن کی پردہ پوشی کر رہے ہوتے ہیں۔ بر سبیلِ تذکرہ اشتمالی نظام سے متعلق سختی سے صیغہ راز میں رکھی گئی معلومات بھی سوویت یونین کو کھوکھلے ہو کر گرنے سے بچا نہ پائیں، جبکہ اپنی تمام تر اوپن پالیسیوں کے باوجود امریکہ نے کبھی اپنے ریاستی تحفظ پہ سمجھوتہ نہ کیا۔ یوں دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کی طرف پہلا قدم عوام کی معلومات تک رسائی کی آزادی ہے۔

مجوزہ ویب سائیٹ پر دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق تما م معلومات اور اعداد و شمار کا بالترتیب اندارج کیا جائے۔ یہاں تک کہ خود کش بمبار کی ڈی این اے رپورٹس بھی، جن کے ذریعے ہمیں اس کی عمر و جغرافیائی تعلق کی بنا پر دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کا سراغ مل سکتا ہے۔ اسی طرح ایسی تمام دہشت گردی کی کارروئیوں سے متعلق ایف آئی آر رپورٹس، عدالتوں میں دائر مقدمات جن میں زیرِ سماعت اور زیرِ التوا سبھی مقدمات کے بارے میں بھی معلومات کا اندراج کیا جائے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو ان معلومات تک رسائی کو ممنوعہ قرار دینے کی صورت میں عوام کو معقول دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ اس سب کی بدولت ہماری جان میڈیا کے دوغلے، کھوکھلے اور سنسنی پھیلانے والے کاروبار سے چھوٹ جائے گی۔

حکومت کو پاکستانی معیشیت کے بارے میں بھی دستاویزی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس چوری اور غیر فعال اداروں کا سد ِباب کیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے مالی معاملات اور اداروں کا بھی کھوج لگایا جائے کہ کہیں وہ دہشت گردی کی مالی اعانت میں تو ملوث نہیں۔

ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کی بھی از سر نو جانچ پڑتال کی ضرورت ہے تاکہ ہم فرسودہ عقائد اور جدید نظریات کے مابین جاری جدل کا خاتمہ کر سکیں۔ اسی طرح نوجوان نسل کو بلا خوف و خطر سرکاری پالیسیوں پر اظہارِ رائے کی آزادی بھی دی جائے۔ موجودہ صورتحال میں ہمیں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم محض چوکس وچوکنا رہنے پہ اکتفا کریں گے یا تاریک طاقتوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگا کر دم لیں گے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔