وڈیرا، جاگیردار، پیر ہو تو کیا ہوا، پیپلز پارٹی کا انٹرویو پاس کرو


پیپلز پارٹی کے بنیادی آئین میں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ترقی پسند، لبرل اور جمہوری پارٹی ہے۔ مگر آج تک اس جمہوری پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوئے۔

 مگر اب تو حد ہی ہو گئی، آج کل بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی سندھہ کے ضلعی اور ڈویژن سطح کے عہدیداروں کی تقرری کے لئے انٹرویوز ہو رہے ہیں

 اس تحریر کے ساتھہ منسلک تصویر کسی اسکول کی کلاس کا منظر نہیں، یہ جدی پشتی سیاستدان، اپنے اپنے علاقوں کے ان داتا ہیں، پیپلز پارٹی کے ضلع کے عہدوں کے لیے انٹرویو اور بیعت دے رھے ہیں، معلوم نہیں کون پاس ہوا اور کون فیل۔

 انہی میں، سندہ اسیمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی بھی ہیں، کافی پرانے سیاستدان ہیں، ان کے والد آغا صدرالدین درانی اور چچا آغا بدرالدین درانی بھی سندہ اسیمبلی کے اسپیکر رہے ہیں ۔ ان کی سیاست یا اپنے حلقے میں کارکردگی کی تعریف تو میں اس لئے نہیں کروں گا کہ ان کا شہر شکارپور جو پاکستان بننے سے پہلے پیرس کہلاتا تھا اب کھنڈر بن چکا ہے مگر ان درانیوں کی آبائی لائیبریری بہترین اور دیکھنے کے لائق ہے۔

ضلع کا کوئی پارٹی عہدہ مل جائے، اس لئے انٹرویو دینے والوں میں، پیپلز پارٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے امتیاز شیخ بھی شامل ہیں۔ سندھ اسیمبلی کے رکن امتیاز شیخ مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی جنرل سیکریٹری کا عہدہ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، فنکشل لیگ میں وہ پارٹی کے کرتا دھرتا تھے، صوبائی وزیر کا عہدہ بھی ان کے پاس تھا، ساری زندگی وہ خود انٹرویو لیتے رہے، اب ان کو فقظ ایک ضلع کا پارٹی عہدہ پانے کے لئے انٹرویو دینا پڑ رہا ہے۔

 مجھے سب سے قابل رحم حالت، قومی اسیمبلی کےسابق رکن اور پارلیمانی سیکریٹری گل محمد جکھرانی کی لگی ۔ قوم پرست تحریک کے رہنما سائین جی ایم سید کے لاڈلے، جئے سندھ تحریک کے صابق صدر گل محمد جکھرانی، جن کی جوانی جیلوں میں گذری، سندھہ میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جس شھر، گائوں سے گذرتے تھے، لوگوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا تھا۔ نوجوان خاص کر اسٹوڈنٹس ان پر جان چھڑکتے تھے، سیاسی حیثیت ایسی تھی کہ، سندھ قومی اتحاد ( ایس این ای) کے جنرل سیکریٹری کے طور پر ان اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے جن میں پاکستان کے سابق وزیرِ داخلا محمود اے ہارون، الہی بخش سومرو، ممتاز بھٹو، ڈاکٹر حمیدہ کھڑو، مخدوم خلیق الزمان، جیسی ہستیاں ان کی زیرِ صدارت بیٹھی ہوتی تھیں۔

ایسے سینکڑوں سینیئر سیاستدان جن کی عمرسیاست اور پیپلز پارٹی میں گذر گئی، انہیں ضلع کی سطح کے عہدے کے لئے بلاول بھٹو زرداری اور فریال ٹالپر کو انٹرویو دینا پڑ رھے ہیں۔ یہ انٹرویوز اگر کسی سیاسی عمل کا حصہ ھوتے تو کوئی حرج نھہں تھا، مگرپارٹیوں میں عہدوں کے لئے تو الیکشن ہوتے ہیں۔ انٹرویوز تو کبھی محترمہ بی نظیر بھٹو نے بھی نہیں لئے۔

سیاسی اخلاقیات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک طرح سے، ان جاگیردار، وڈیرہ سیاستدانوں کو، جن کی ٹہور اپنے علاقوں میں دیکھنے والی ہوتی ہے، جو اپنے پنے علائقے میں حجرے سے لیکر جرگے تک سرکاری و غیر سرکاری، قانونی و غیرقانونی ہر چیز پر قادر ہوتے ہین، بلاول اور فریال نے ان کو ان کی اوقات دکھا دی ہے۔

 اور اگر جمہوری، سیاسی، اخلاقی نظر سے دیکھا جائے تو ان سیاستدانوں پر رحم آ رہا ہے جنہیں اپنی عمریں پارٹی اور سیاست کو دینے کے بعد بھی ایک ضلع کی سطح کے عہدے کے لئے ایسا انٹرویو دینا پڑ رہا ہے جن میں ان کے فیل ہونے کے چانسز بھی ہیں۔۔ عزت آنی جانی چیز ہے، مولا مال اور عہدہ سلامت رکھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔