اے خدا ہمارے حکمرانوں کو سلامت رکھنا


اب تو روز ہی پاکستان سے بم دھماکوں کی خبریں مل رہی ہیں۔ ایسی خبریں سُن کر ایک دم دل دہل جاتا ہے۔ کتنا نقصان ہوا؟ کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ کس نے دھماکہ کیا؟ عام لوگ یہی سوال کرتے ہیں لیکن ہمارا تو بس ایک ہی سوا ل ہوتا ہے حکمران تو ٹھیک ہیں نا؟ انہیں تو کچھ نہیں ہوا؟ سب کی سیکیورٹی پوری تھی نا؟ ہمیشہ ان سوالات کے جوابات ہاں میں ہی ملتے ہیں۔ دل کو ایک دم سکون سا آ جاتا ہے۔

عوام کا کیا ہے۔ یہ تو پیدا ہی دو کام کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ اول: حکومت کو ٹیکس ادا کرنا۔ دوم: بم دھماکوں میں مرنا۔ ان کے گھر والے تڑپتے ہیں تو تڑپتے رہیں۔ ہمیں کیا۔ ہمارا قبلہ تو جاتی عمرہ رائیونڈ میں ہے جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ دہشت گرد جا کے تو دکھائے وہاں۔ اس سے بیشتر کے یہ کسی تخریبی کارروائی کا سوچیں سیکیورٹی ادارے انہیں گردن سے پکڑ لیتے ہیں تب ہی تو کبھی مال روڈ پر دھماکا ہوتا ہے کبھی ڈیفینس میں لیکن مجال ہے کبھی جاتی عمرہ رائیونڈ میں پٹاخہ بھی پھٹا ہو؟ شکر الحمدُاللہ۔

اور یہ عوام جو اتنا واویلا مچا رہی ہے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ پولیس حکمرانوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے عوام اپنی حفاظت خود کیا کرتے ہیں۔ بھئی مسلمان ہو کر ان بم دھماکوں سے کیا ڈرنا۔ موت کا تو ایک دن متعین ہے۔ کبھی بھی کہیں بھی آ سکتی ہے۔ نڈر ہو کر گھر سے نکلیں۔ کوئی بم دھماکہ ہو بھی گیا تو شہادت ہی ملے گی۔ کتنی بڑی سعادت کی بات ہے لیکن ان بے وقوف لوگوں کی سمجھ میں بات آئے تو پھر نا۔ انہیں تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہیں ایسے حکمران ملے ہیں جو روز انہیں شہادت پانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو ٹویٹر پر عجیب سا احتجاج کرنے میں مصروف ہیں۔ ہنہ نا شکری عوام۔

اسی بارے میں: ۔  آزادی ٹرین کا صادق آباد سے شکار پور تک کا سفر

کچھ نا ہنجار تو حکمرانوں کی سیکیورٹی کے خلاف بھی بول رہے ہیں۔ ارے انہیں سیکیورٹی رکھنی پڑتی ہے۔ ٹھیک ہے وہ بھی مسلمان ہیں۔ ان کا بھی موت پر پختہ عقیدہ ہے لیکن انہیں کچھ ہو گیا تو ملک کا کیا ہوگا؟ یہ بے چارے تو اس ملک کی خاطرلمبا چوڑا پروٹوکول لے کر نکلتے ہیں۔ جلسے سے خطاب کرنا ہو تو بلٹ پروف گلاس شیلڈ کے پار سے بولنا پڑتا ہے۔ گھر سے باہر بیسیوں محافظوں کے نرغے میں چلنا پڑتا ہے۔ ایسی زندگی تصور کر کے دیکھیں۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے نا؟ یہ وہ اپنے لئے نہیں کرتے آپ سب کے لئے کرتے ہیں۔ آخر وہ زندہ رہیں گے تو ملک کی خدمت کریں گے نا؟ آپ کا کیا ہے۔ ایک مذہبی سکالر کے مطابق آپ بکریوں کا ریوڑ ہیں جس کی قسمت میں ذبح ہونا ہی لکھا ہے تو ذبح ہوتے رہیں، شہادت پاتے رہیں اور جنت میں داخل ہوتے رہیں۔ پیچھے بیوی بچے در در کی ٹھوکریں کھا نے کو رہ جائیں تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں غریب بھی تو ہونے چاہئیے جنہیں حکمران آٹے کا تھیلا دے کر تصویر کھنچوا سکیں۔ اب خدمتِ خلق تو ایسے ہی ہوتی ہے نا۔ سمجھا کریں۔ اپنے حکمرانوں کے لئے اتنا تو آپ کر ہی سکتے ہیں۔ ووٹ بھی تو آپ ہی نے دیا تھا نا۔ تھوڑا سا اور کر لیں گے تو کیا بگڑ جائے گا۔ علامہ اقبال نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم ہمدردی میں یہی تو کہا ہے۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

اسی بارے میں: ۔  پاکستان پیرس نہیں بن سکا لیکن فرانس بن گیا ہے

تو بس پھر رونا دھونا چھوڑئیے اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کریں ۔ اے خُدا ہمارے حکمرانوں کو سلامت رکھنا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔