شہر میں بسا گاﺅں…. ندا فاضلی


Saleem-Mohiuddin (309x369) وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
صدیوں کے سفر کا کچھ حصہ کچھ دیواروں کے درمیان اور کچھ دیواروں کے باہر گزار کر ندا اپنے اصلی سفر پر روانہ ہو گئے۔ دنیا کو جادو کا کھلونا قرار دینے والے ندا نے اس کھلونے سے خوب حظ اٹھایا، دنیا ندا کے لئے کچھ آسان نہ تھی۔ گوالیار سے بھوپال اور بھوپال سے ممبئی کا سفر، معاشی مسائل، خاندان کا ہجرت کر جانا، ناپسندیدہ سیاسی و سماجی حالات، ایک سوچنے والے ذہن کے لئے مسائل بے شمار تھے۔
ندا کی ذات اپنے آپ میں ایک بھرا پرا گاﺅں تھی۔ ایک ایسا گاﺅں جہاں زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں اور جلوہ سامانیوں کے ساتھ رواں دواں تھی۔ صبح دم چڑیوں کی چہچہاہٹ، مرغی کی آواز پر دروازے کی چٹخنی کھولتی ماں، مندر کی گھنٹیاں، مو¿ذن کی اذاں، کنویں سے پانی بھرتی جوانیاں، پیپل کا پیڑ اس پر تھرکتی گلہریاں، آنگن کا وہی پیڑ جو دن میں دوست ہوتا پر رات وہی ایک بھوت کا بسیرا لگتا، سرگوشیاں کرتی ہوا، لہلہاتی کھیتیاں، امرائیاں، اپنے ہی گھر کی وسعت کا احساس دلاتی گلیاں، غرض بے شمار مناظر تھے اور یہ سارے مناظر اسی گاﺅں کے ہیں جو ندا کے اندر بستا تھا۔ وہ اسی گاﺅں کو اپنے اندر بسائے شہر میں آ بسے۔ شہر میں گاﺅں۔
لیکن ندا تو صرف آنکھوں سے دنیا دیکھنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ تو دل کی دھڑکن کو بینائی بنا کر دیکھنے میں یقین رکھتے تھے۔
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی
دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھ
ندا نے اپنی آنکھ اور دل کی دھڑکن دونوں سے بیک وقت بینائی کا کام لیا اسی لئے تو ان کی ہر تصویر مکمل لگتی ہے۔ بقول ندا ” لفظوں کا پل میں شامل غزلیں، نظمیں، گیت اور قطعات اس معاشرے کی دین ہیں جو فاصلوں اور دوریوں میں ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہو¿ا تھا۔ ایک گھر کا دکھ پورے محلے کا غم ہوتا تھا۔ ایک حادثے میں پورا شہر روتا تھا۔ اس ماتم میں انسانوں کے ساتھ درخت، تالاب، راستوں میں گھومتے پھرتے جانور، اڑتے ہوئے پرندے، مکانوں کے چھجے سب شریک ہوتے تھے“۔
ندا نے اپنی شاعری میں دورازکار تشبیہات، علائم اور استعارات کا استعمال کم کم ہی کیا ہے۔ انہوں نے سارے تلازمے، لفظیات اور اسلوب اپنے اطراف کے ماحول ہی سے اٹھایا ہے۔ چاہے نثر ہو چاہے نظم، ندا نے سارے کردار بھی اپنے اطراف ہی سے اٹھائے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کرداروں میں سب سے اہم کردار وہ خود ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ہر کہانی کے مرکز میں رکھنے اور اپنی ذات کی تشبیہہ کے ہنر سے خوب واقف تھے۔ اپنی کسی نظریاتی وابستگی کا کبھی کھل کر اظہار کیا نہ کسی نظریے کی کھل کر مخالفت۔ لیکن لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے سورج کو مرغے کی چونج میں دے کر کھڑا ضرور کر دیا۔
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہوگئی
کسی قسم کی نظریاتی شدت پسندی کے بغیر ندا کی شاعری انسانی فطرت، اس کے مثبت و منفی پہلو، فرد کی تنہائی، ارباب سیاست کی عیاری، مذہب کے نام پر تجارت، فرقہ واریت اور فسادات کی تباہ کاری اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کا نوحہ ہے۔ ان موضوعات کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنے لئے ایک حساس فنکار کی امیج کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کی یہ امیج کسی فلسفیانہ گہرائی یا فکری عمق کی نہ تو متقاضی تھی اور نہ ہی متحمل۔ یہ تو لے کر ہاتھ میں اک تارا، گاتا جائے بنجارا، والی امیج ہے۔ جس کا راست رشتہ کبیر کے پنتھ سے ملتا ہے۔ ندا بھی کبیر پنتھی تھے۔ اسی لئے ان کے دوہوں سے ہٹ کر بھی ان کے گیتوں، نظموں، غزلوں حتیٰ کہ ان کی نثر پر بھی اس کی چھاپ نمایاں ہے۔
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے، محفل محفل گائیں گے
جب تک آنسو پاس رہیں گے، تب تک گیت سنائیں گے

من بیراگی، تن انوراگی، قدم قدم دشواری ہے
جیون جینا سہل نہ جانو، بہت بڑی فن کاری ہے
داناﺅں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی
سنا ہوا کو، پڑھا ندی کو، موسم کو استاد کیا
سادھوﺅں اور سنتوں کا مزاج رکھنے والا شاعر ندا، آدمی اور آدمیت پر یقین رکھتا تھا۔ اس کے نزدیک آدمی دنیا کے ہر ازم، ہر مذہب، ہر فرقے اور ہر مسلک سے افضل ہے۔
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
nida fazliجس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ہجرت کا دکھ ندا نے بنا ہجرت کئے جھیلا ہے۔ اسی لئے تو اسے کراچی ماں اور ممبئی بچھڑا ہوا بیٹا لگتا ہے۔ لیکن اپنے خاندان سے بچھڑنے سے زیادہ دکھ اسے اگر کوئی ہے تو وہ ہے تقسیم وطن کا دکھ۔
انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
اللہ نگہبان یہاں بھی ہے وہاں بھی
ہندو بھی مزے میں ہیں، مسلماں بھی مزے میں
انسان پریشان یہاں بھی ہے وہاں بھی

چاہے افراد ہوں کہ نظام حکومت ندا کی جرات و بے باکی کا مزہ بہتوں نے چکھا ہے۔
سوانحی ناول ” دیواروں کے بیچ “ میں اپنے والدین کی ازدواجی زندگی کا نقشہ ہو کہ خود اپنی بے راہ رویوں کا تذکرہ، خاکوں کے مجموعوں میں اپنے بزرگوں سے لے کر دوستوں تک کا خاکہ اڑایا بھی ہے اور اس میں رنگ بھی بھرے۔ ایک سیاسی رہنما کے نام نظم اسی کی موجودگی میں سنا کر انجام کی پرواہ نہ کرنے والے کو بھی دنیا ندا فاضلی ہی کے نام سے جانتی ہے۔ مذہب کے نام پر ٹھیکے داری کے خلاف ندا کے قلم نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
نظم اور نثر دونوں پر قدرت اور دونوں ہی میں اپنا اسلوب پا لینا ندا ہی کا کمال ہے۔ بقول وارث علوی ندا کسی اسلوب کا اسیر نہیں اور وہ ایک نئی زمین میں اپنی جڑیں تلاش کرنے کے عمل میں کامیاب ہے۔ جبکہ بشر نواز کے مطابق گھر، خدا اور شہر ندا فاضلی کی شہری رامائن کے تین اہم کردار ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ گھرو ندا کی شاعری کا ایک اہم استعارہ ہے۔ خدا آسمان دھندلکوں کی بجائے زمین پر سانس لیتے رشتوں میں موجود ہے۔ جب بھی کوئی رشتہ ٹوٹتا ہے، جب بھی کوئی سہارا چھوٹتا ہے اور جب بھی کوئی فکری خلا نمودار ہوتا ہے۔ ندا اپنے آپ کو خدا سے مزید قریب پاتا ہے جبکہ شہر ندا کے لئے اس معاشرے، اس سماج اور اس ماحول کا استعارہ ہے جس سے ہزار عدم اتفاق کے باوجود وہ متفق ہے۔
انسان اور انسانی زندگی کی بے شمار خرابیوں، ناچاقیوں اور عدم رواداریوں کے باوجود انسان اور زندگی کے تئیں اس کا رویہ ہمیشہ مثبت رہا اور وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے پھول جیسے چہرے اور چہرے جیسے پھول اچھے لگتے ہیں۔ بقول ندا ”چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں“۔ ندا کی زندگی میں ایسے بے شمار لمحے آئے اور اس نے بے شمار تصویریں اپنی تحریروں کی شکل میں ہمارے لئے چھوڑی ہیں۔
چند لمحوں کی ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں
زندگی روز نئی تصویر بنانے سے رہی


Comments

FB Login Required - comments