سمندر پار پاکستانی قیدیوں کے لیے فوری سفارتی مدد کی ضرورت


پاکستان دنیا بھر میں افرادی قوت برآمد کرنے والے بڑے  ممالک میں شامل ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 1971 سے دسمبر 2015 تک ستاسی لاکھ پاکستانی ملازمت کے لیے بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک مختلف کام کرنے والے  پاکستانی تارکینِ وطن  پاکستانی معیشت کے لیے مرکزی اہمیت کے حامل  ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں  بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے بیس ارب ڈالر کا خطیر زرِ مبادلہ پاکستان بھجوایا تھا۔ یہ رقم زرِ مبادلہ کے پاکستانی ذخائر میں اضافے، افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور پاکستان میں ایک متمول متوسط طبقے کو برقرار رکھنے کاباعث بنتی ہے۔

ملکی معیشت میں روزگار کے کم ہوتے مواقع کے باعث گزشتہ پانچ برس کے دوران تلاش معاش کے لیے ترکِ وطن کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں  اضافہ ہوا ہے۔ 2015-16 کے معاشی سروے کے مطابق ملازمت کے حصول کے لیے پاکستان سے باہر جانے والے افراد کی تعداد جو 2011 میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ تھی 2015 میں  نو لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے۔معاشی سروے کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے پاکستانیوں میں سے  صرف 1.76فیصد  ایسے ہیں جو  اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے متقاضی پیشوں سے وابستہ ہیں ،جبکہ ایک واضح تعدادمحنت  مزدوری  یا کم اجرت ملازمتوں سے وابستہ ہے۔

پاکستان سے باہر ملازمت کرنے والے افراد میں سے 96 فیصد افراد خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے مراسم  سفارتی، معاشی، سیاسی اور دفاعی  سطوح پر دوستانہ  رہے ہیں، موجودہ وزیراعظم نواز شریف کے عرب حکمرانوں کے ساتھ گہرے ذاتی تعلقات  ہیں،  مگر ان ملکی اور ذاتی تعلقات کو خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ گہرے سفارتی مراسم کے باوجود بیرونِ ملک سزائے موت پانے والوں کی سب سے بڑی تعداد بھی سعودی سلطنت میں مقید  ہے۔ 2014 سے اب تک سعودی عرب چالیس کے لگ بھگ پاکستانیوں کے سر قلم کر چکا ہے۔ دنیا بھر کی جیلوں میں قید 8500 پاکستانیوں میں سے 2393 افراد مختلف جرائم کے تحت سعودی جیلوں میں بند ہیں۔  بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کی دستیابی بھی ایم اہم مسئلہ ہے، وزارت خارجہ کی جانب سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں 2013 میں جمع کرائے گئے اعدادوشمار کے مطابق آسٹریلیا کی مختلف جیلوں میں 274، بنگلہ دیش اور ایران میں 252، چین میں 206، ہندوستانی جیلوں میں 306، عمان میں 629، متحدہ عرب امارات میں 1800 اور امریکہ میں 102 پاکستانی قید ہیں۔ ان پاکستانیوں کی بڑی تعداد معاشی طور پر کم حیثیت افراد پر مشتمل ہے جو اپنے لیے قانونی دفاع کی خدمات حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ ایک جانب یہ افراد اپنے تئیں قانونی مدد حاصل نہیں کر پا رہے اور دوسری جانب پاکستانی حکام ان افراد کو قانونی دفاع اور امداد فراہم کرنے کے لیے کوئی نظام وضع نہیں کر سکی۔

بدقسمتی سے پاکستان تاحال بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کو سفارتی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی منضبط پالیسی تشکیل نہیں دے سکا۔قونصلر پالیسی کی ضرورت اس لیے بھی ہے تاکہ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے تمام پاکستانی قیدیوں کو یکساں نمائندگی، امداد اور سہولیات فراہم کر سکیں۔ سعودی جیلوں میں قید دس پاکستانیوں کے لیے دائر کی گئی جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی پٹیشن  پر حکومتی جواب اس مسئلے کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پٹیشن کی سماعت کے دوران  حکومت کی جانب سے وہ ‘رہنما اصول’ مہیا کیے گئے جو پاکستانی حکومت بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کو قانونی امداد مہیا کرنے کے لیے برتتی ہے۔  یہ رہنما اصول عوامی دسترس میں بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک قید پاکستانی  ان سے ناواقف ہیں جبکہ متعلقہ پاکستانی  اہلکار ان اصولوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہیں۔

اس سنگین مسئلے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت جن پاکستانی قیدیوں کو اہم خیال کرتی ہے انہیں واپس پاکستان لانے اور سزا سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔تجزیہ کار  زید حامد کو سزا کے بعد  سعودی عرب سے واپس پاکستان لانے اور عافیہ صدیقی کے معاملے میں قانونی دفاع مہیا کرنے کے لیے بیس لاکھ ڈالر خرچ کیے جانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت  اگر چاہے تو اپنے شہریوں کے تحفط کے لیے خاطرخواہ سفارتی کوششیں کرتی ہے تاہم تمام پاکستانی ایسی سہولیات سے مستفید نہیں ہو پاتے۔ اندونیشیا میں سزائے موت کے قیدی ذوالفقار علی کا شمار ان خوش قسمت پاکستانیوں میں کیا جا سکتا ہے جنہیں بچانے کے لیے حکومتی سطح پر کوشش کی گئی۔ دیگر ممالک کی جیلوں میں قید زیادہ تر پاکستانی قیدیوں کو پاکستانی  قونصل خانے اور سفارت خانے  کسی قسم کی مدد مہیا نہیں کرتے۔ اس تکلیف دہ صورت حال کی بنیادی وجہ سمند پار پاکستانیوں کے لیے ایک واضح، منضبط اور سب کے لیے یکساں سرکاری پالیسی کی عدم موجودگی اوربیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا حکومتی ترجیحات میں شامل نہ ہونا ہے۔

ایک ایسی پالیسی کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے جو سمندر پار پاکستانی قیدیوں کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملنے والی سفارتی اور قانونی مدد کے لیے ایک واضح طریق کار وضع کرے۔ پاکستانی حکومت نہ صرف ملکی قانون کے تحت بلکہ بین الاقوامی کنونشنز کا دستخط کنندہ ہونے  کی وجہ سے بھی ان پاکستانیوں کی مدد کرنے کا پابند ہے۔ ویانا کنونشن آن قونصلر ریلیشنز کے آرٹیکل 36 کے مطابق  ہر ملک اپنی جیلوں میں قید غیر ملکی قیدیوں سے متعلق معلومات   ان قیدیوں کے ممالک کی حکومتوں کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔  یو این باڈی آف پرنسپلز فار دی پروٹیکشن آف آل پریزنرز کے مطابق  ہر ملک کے لیے لازمی ہے کہ وہ حراست غیر ملکی افراد کو ان کے ملک کے سفارت خانے سے رابطے کی سہولت فراہم کرے۔ تاہم غیر ملکی پاکستانی قیدیوں کے معاملے میں پاکستانی سفارت خانوں کا کردار مایوس کن ہے۔ سفارت خانے دیگر ممالک میں قید پاکستانیوں سے رابطہ کرنے اور ان کی معاونت میں سست رفتار اور غیر ذمہ دار ہیں جو ایک تشویشناک امر ہے۔

بیرونِ ملک قید زیادہ تر پاکستانی قیدیوں کو نہ صرف رابطے اور قانونی دفاع کی معقول سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان ان کا معاملہ نہیں اٹھا رہا۔ دنیا بھر میں قید آٹھ ہزار سے زائد پاکستانیوں کی مشکلات میں کمی کے لیے ضروری ہے ایک یکساں اور منضبط پالیسی تشکیل دی جائے، خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید  پاکستانی افراد کو ہنگامی بنیادوں پر قانونی نمائندگی فراہم کی جائے اور ان کے مقدمات میں قانون اور انصاف کے تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت فراہم کرنے والے غیر سرکاری اداروں کی نگرانی کا موثر انتظام کیا جائے تاکہ منشیات کی ٹریفکنگ کی روک تھام کی جا سکے۔  اس مقصد کے لیے دیگر ممالک کی قونصلر پالیسیوں اور اقدامات سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایسی پالیسی کی تشکیل میں مزید تاخیر کئی پاکستانیوں کی زندگیاں زندان اور پھانسی گھاٹ کے سپرد کرنے کے مترادف ہے، یہ تمام پاکستانیوں کا بنیادی، آئینی اور انسانی حق ہے کہ انہیں ان کا ملک اپنے قونصل خانوں کی مدد سے سفارتی اور قانونی مدد مہیا کرے۔ سوال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کب تک اپنے ہی شہریوں کو اس حق سے محروم رکھے گی؟

مصنف کا تعارف: مصنف ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان سے وابستہ ہیں۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان سزائے موت پانے والے غریب اور نادار پاکستانی قیدیوں کو قانونی مشاورت، نمائندگی اور تحقیق کی خدمات بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ ان قیدیوں میں بیرونِ ملک قید پاکستانی بھی شامل ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔