فیس بک: مہرباں کیسے کیسے


Muhammad-Ishfaq

جس طرح ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایک تو وہ دنیا ہے جس میں ہم چلتے پھرتے، کام کرتے، ملتے جلتے ہیں، اور دوسری وہ جو زیرزمین دنیا کہلاتی ہے۔ اگر آپ کا اپنا تعلق اس تاریک دنیا سے نہیں ہے تو آپ کو اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ آپ کے اردگرد ایسا کیا کچھ ہورہا ہے جو آپ کی نظروں سے اوجھل ہے۔

بالکل اسی طرح فیس بک پہ ایک دنیا تو وہ جو ہم سب کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ سٹیٹس جہاں لکھے جارہے، تبصرے ہورہے ہیں، جنگیں چھڑ رہی ہیں، داد و تحسین سمیٹی جا رہی ہے۔ اور دوسری دنیا ہے انباکس کی، یعنی فیس بک کی زیرزمین دنیا۔

آپ کا مزاج بالفرض ایسا ہے کہ کسی کے ان باکس میں داخلے کو آپ ان کے گھر میں داخلے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر چند ذاتی دوستوں کے علاوہ کسی سے چیٹنگ سے بالعموم گریز کرتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ اس انڈر ورلڈ کے مختلف دلچسپ و عجیب کردار آپ کی، اور آپ ان کی، نگاہوں سے اوجھل رہیں گے۔ مگر اب آپ نے مختلف موضوعات پہ لکھنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کے قارئین کا ایک چھوٹا سا حلقہ پیدا ہو چکا جو آپ سے رابطے میں رہنا پسند کرتا ہے تو اب رفتہ رفتہ آپ ان کرداروں سے متعارف ہونے لگیں گے۔ چند ایسے کردار جو بار بار آپ کے کھوپچے پہ دستک دیں گے وہ درجِ زیل ہیں۔

مداح

یہ وہ سادہ دل لوگ ہیں جو آپ کو سچ مچ ایک عظیم لکھاری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ آپ سے گاہے بگاہے ہم کلام ہونے کو اعزاز تصور کرتے ہیں۔ ان باکس میں آپ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ آپ مدہوش ہو کر سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے کی بجائے چائے کی پیالی میں پھینکتے رہتے ہیں، پھر باجی کی ڈانٹ کے ڈر سے وہی چائے آپ کو نوشِ جاں کرنا پڑتی ہے۔ مجموعی طور پر بے ضرر، محبت کرنے والے لوگ۔ بس آپ سے یہ اس قدر توقعات منسوب کر لیتے ہیں کہ کبھی ڈر لگتا ہے کہ آپ کیا ہیں اور یہ آپ کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔

مخبر

بعد از سلام دعا یہ آپ کی حالیہ پوسٹ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، اس کے بعد آپ سے پوچھتے ہیں کہ آیا آپ فلاں صاحب کو جانتے ہیں؟ آپ جانتے ہیں کیونکہ وہ فیس بک کی جانی مانی شخصیت ہیں اور آپ ان کے مداحین میں شامل ہیں۔ یہ تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ تو ان کی محبت کا دم بھر رہے ہیں جبکہ وہ صاحب۔۔۔۔ بس جانے دیجئے۔ آپ تجسس سے مجبور ہو کر پوچھتے ہیں آخر ہوا کیا؟ یہ آپ کو ایک سکرین شاٹ دکھاتے ہیں جس میں مذکورہ شخصیت آپ کے بارے میں کوئی ہلکا پھلکا مزاحیہ یا طنزیہ تبصرہ کر رہی ہے جیسا کہ ہم عام طور پر دوستوں کی عدم موجودگی میں کر ہی لیا کرتے ہیں۔ آپ ہنس کر بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ مصر رہتے ہیں کہ آپ بھی ان صاحب کے بارے میں کچھ فرمائیے۔ جواباً آپ انہیں کہتے ہیں کہ بھائی مجھے اپنے سکرین شاٹس بنوانے کا کوئی شوق نہیں۔ اس پہ یہ ایک طویل کھسیانا سا ہاہاہاہاہاہا کرتے ہیں اور اگلے لکھاری کے کھوپچے میں جا گھستے ہیں۔

گھسیٹو

خواہ آپ نے انہیں سی فرسٹ پہ ہی کیوں نہ رکھا ہو، یہ اپنے ہر تازہ سٹیٹس کا لنک آپ کو میسج میں بھیجنا فرض سمجھتے ہیں۔ بعض حضرات تو ساتھ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ کمنٹ کس قسم کا کرنا ہے۔ اگر آپ سے تاخیر ہوجائے تو ایک اداس سمائلی آپ کی جانب لڑھکا دی جاتی ہے۔ ایموشنل بلیک میلنگ۔

اشتہاری

یہ وہ خواتین و حضرات ہیں جنہیں کسی کی تحریر پسند آجائے، کوئی اچھی وڈیو کلپ دیکھ لیں، کوئی لطیفہ ان کے من کو بنا جائے، پہلی فرصت میں یہ آپ کو اس کا لنک ان باکس کردیں گے۔ اور داد کے طالب بھی ہوں گے۔ بظاہر یہ بے ضرر مشغلہ ہے اور بہت سی کام کی چیزیں بھی آپ کو دیکھنے کو مل جاتی ہیں، مگر آج کل جس طرح لنکس کے ذریعے وائرس پھیلائے جارہے ہیں۔ ایسا کوئی پیغام آتے ہی بے ساختہ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔

مصلح

ان میں سے اکثر تو آپ کی فرینڈز لسٹ میں ہوتے ہی نہیں، مگر ان مہربانوں نے کہیں آپ کی پوسٹ پڑھ لی ہے اور اس میں کوئی بات ان کو مروجہ مذہبی و اخلاقی اقدار کے منافی لگی ہے۔ اس لئے یہ لوٹا اٹھائے آپ کے کھوپچے میں آن گھستے ہیں اور آپ کی دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔

دہشت گرد

یہ مصلحین کا بازوئے شمشیر زن ہیں، جب آپ تیمم کا عذر کر کے استنجے سے انکاری ہوتے ہیں تو یہ آپ کے کھوپچے میں خودکش حملہ کرنے آن پہنچتے ہیں۔ مشین گن سے ایک منٹ میں اتنی گولیاں نہیں نکلتی ہیں جتنی ان حضرات کے منہ سے گالیاں۔ آپ کی ماں بہن کی خاطرخواہ عزت افزائی فرمانے کے بعد یہ آپ کو کفریہ عقائد سے باز آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔۔۔۔ورنہ؟ بدقسمتی سے فیس بک پہ ریموٹ کنٹرول آپ کے ہاتھ ہے اس لئے انہیں پھٹ کر بھی حور ہاتھ نہیں لگتی۔

حوریں

اب حوروں کا ذکر آ ہی گیا تو ان کی بھی سنتے جائیے۔ یہ سلام دعا کے بعد توقع رکھتی ہیں کہ آپ ہی بات آگے چلائیں گے مگر آپ چونکہ گرگِ باراں دیدہ ہیں، اس پالیسی کے مضمرات کا اندازہ رکھتے ہیں، اس لئے مجبوراً سلسلہ جنبانی کا آغاز انہیں ہی کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی پروفائل پکچر انہیں بہت پسند آئی ہے۔ آپ انہیں بتاتے ہیں کہ کلر بڑھا کر منہ کی نحوست کم کی ہے تو یہ قہقہہ لگا کر کہتی ہیں۔ آپ بہت جَولی ہیں۔ جولی اور میں؟ آپ سوچنے لگتے ہیں مگر آپ کو سوچنے کی مہلت یہ کم ہی دیتی ہیں۔ اپنے ان باکس میں آنے والے پروپوزلز، اپنی پوسٹس پر لوگوں کے تبصرے، کون کون کلموہی ان سے جلتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک آپ بھی مزے سے سنتے ہیں مگر جب بات بات پہ آپ کو دل والی سمائلی آنا شروع ہو جاتی ہیں تو آپ کھٹک سے جاتے ہیں۔ سینے میں دل تو آپ بھی رکھتے ہیں مگر وہی۔۔۔۔ سکرین شاٹس سے ڈر لگتا ہے صاحب۔ چنانچہ آپ انہیں بہن ڈیکلئر کر دیتے ہیں۔ جواباً یہ دل ہی دل میں آپ کو بدھو ڈیکلئر کرتی ہیں یا پنجابی میں جو بدھو کی سپرلیٹو ڈگری ہے وہ، اور سلام دعا کرکے آگے بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان کا اور آپ کا آمنا سامنا کم ہی ہوتا ہے۔

چھپے رستم

یہ آپ کے طویل عرصے سے فیس بک پہ دوست ہیں، آپ سے خوب بے تکلف بھی اور آپ کے مداح بھی۔ کبھی ان باکس میں مگر آپ کی ان سے بات چیت نہیں ہوئی، اس لئے سوائے نام کے آپ ان کے متعلق اور کچھ نہیں جانتے۔ آپ خود بھی کھوپچے میں راہ و رسم بڑھانے کے زیادہ قائل نہیں لہٰذا دل ہی دل میں انہیں اپنا ہم خیال سمجھ کر اور زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک خاتون آپ نے کل ہی ایڈ کی ہیں وہ ان باکس میں آپ سے متعارف ہوتی ہیں، باتوں ہی باتوں میں ان صاحب کا بھی ذکرِ خیر ہوتا ہے۔ آپ بتاتے ہیں کہ آپ اور وہ بہت اچھے دوست ہیں، خاتون حقارت سے انہیں ٹھرکی کا لقب دیتی ہیں۔ ٹھرکی۔۔۔۔۔ نہیں بھئی وہ تو ایسے نہیں، اور پھر آپ دنگ رہ جاتے ہیں جب یہ خاتون آپ کو آپ ہی کے دوست کے بچپن، جوانی، سابقہ محبت، حالیہ منگیتر، گھر کے پتے اور واٹس ایپ کے گروپ سے آگاہ فرماتی ہیں۔ آپ ایک بار پھر اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آپ کے اعلانیہ ٹھرکی دوست ان شریف وارداتیوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔

منڈے شرارتی

پورا دن فیس بک پہ ہر جاننے والے کی وال پہ اودھم مچائے رکھنا، ٹرولنگ کرنا، لڑکیوں کو چھیڑنا، بزرگوں پہ فقرے کسنا، الغرض یوں سمجھیں کہ یہ حضرات فیس بک کی شاہراہ پہ ون ویلنگ کے شوقین ہیں۔ شام کو یہ اپنے پورے دن کی کارگزاری آپ کو سنانے پہنچ جاتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو آپ کو بھی انتظار رہنے لگتا ہے ان کی آمد کا، کیونکہ جو قیمتی معلومات آپ کو ان سے ملتی ہیں وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔ مگر ان سے ذرا بنا کے رکھئے گا اور ہاں کبھی بھول کر بھی اپنا راز انہیں مت دیجئے گا۔ ورنہ اگلے دو تین دن ان کی ٹرولنگ کا نشانہ آپ بھی بن سکتے ہیں۔

یہ ہیں آپ کے انباکس کے بن بلائے اور ناچاہے مہمانوں کی چند چیدہ چیدہ اقسام۔ اپنے تبصروں میں آپ مزید اقسام کو متعارف کروا سکیں تو عین نوازش ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “فیس بک: مہرباں کیسے کیسے

  • 12-02-2016 at 10:27 pm
    Permalink

    نہیں جناب جب تک آپ فیس بک کی ”ٹیگ مافیا“ کا ذکر نہیں کریں گے آپ کا تجزیہ ادھورا رہے گا، لوگ فیس بک کھولنے کے بعد پوسٹ کرتے ہیں، شئیر کرتے ہیں، لائک کرتے ہیں، ٹیگ مافیا کے شکار لوگ خود کو ان ٹیگ کرنے کے عذاب سے گذر رہے ہوتے ہیں، اسی ٹیگ مافیا کے بارے میں کسی سیانے نے کہا ہے کہ:
    ”ذلت کے 48 ٹیگز سے عزت کے دو لائکس بہتر ہیں۔

    • 12-02-2016 at 11:31 pm
      Permalink

      ہاہا جی یہ تو بالکل درست فرمایا آپ نے ٹیگ مافیا سے اللہ کی پناہ- اور دوسرا انہی کے بھائی جو آپ کو نت نئے گروپس میں شامل کرنے کا شوق رکھتے ہیں

  • 13-02-2016 at 5:43 pm
    Permalink

    سارے ٹیگرز،گروپ میں ایڈ کرنے والوں، مینشن کرنے والوں اور گیم کی ریکوسٹ بھیجنے والوں کو شہید کردو

    • 14-02-2016 at 7:55 pm
      Permalink

      ہاہاہا اسفندیار درست فرمایا ان کا علاج یہی ہے ???

Comments are closed.