سی پیک منصوبہ: مخالفت اور سازش میں فرق کرنے کی ضرورت


وزیر اعظم نواز شریف نے ترکی کے دورہ کے دوران پاکستانی صحافیوں سے ناشتہ کی میزپر غیر رسمی باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور مغربی دنیا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے خلاف نہیں تاہم بعض علاقائی ممالک اس منصوبے کو اچھا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اس منصوبہ کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے ان سازشوں کی تفصیل بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ وزیر اعظم کو پاکستانی صحافیوں سے دل کی باتیں کرنے کے لئے بیرون ملک دورہ پر جانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے وہ نہ تو انٹرویو دیتے ہیں اور نہ ہی صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں اکثریتی پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم کے طور پر وہ قومی اسمبلی میں بھی شاذ و نادر تشریف لاتے ہیں۔ اس لئے ان کے اور ان کی رائے کے بارے میں ان کی کابینہ کے گنے چنے وزیر ہی صحافیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ملک کے میڈیا سے یہ دوری صرف بیرون ملک قیام کے دوران کم ہوتی ہے، جب وہ ہمراہ جانے والے صحافیوں کے ساتھ گفتگو بھی کرتے ہیں اور ان معاملات کے بارے میں بھی خیالات کا اظہار کرتے ہیں ، جن کا ملک و قوم کے مستقبل سے گہرا تعلق ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عام طور سے وزیر اعظم کے ہمراہ ’ہم خیال و ہمدرد‘ صحافیوں کو جانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس لئے وہ ایسے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے تردد نہیں کرتے۔ اگر وہ اسی قسم کا تبادلہ خیال پاکستان میں کریں تو اس بات کا اندیشہ ہو سکتا ہے کہ کوئی منہ پھٹ صحافی کوئی سخت سوال پوچھ بیٹھے جو وزیر اعظم کے شایان شان نہ ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اہم معاملات پر گفتگو کے لئے بھی انہیں انقرہ زیادہ محفوظ جگہ محسوس ہوئی ہوگی۔ ورنہ ملک میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا معاملہ ہو ، ترقی کے منصوبے ہوں یا سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کے بارے میں گلے شکوے ، ان پر بات کرنے کے لئے پاکستان کے اندر ہی کوئی فورم بہترین مقام ہو سکتا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں مخالفین کی سازشوں کا ذکر کافی عرصہ سے کیا جا رہا ہے۔ حتی کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کا تعلق بھی اسی منصوبہ کی تکمیل سے جوڑا جاتا ہے۔ پاکستان کی مختصر تاریخ میں اپنی ناکامیوں اور ناقص منصوبہ بندی یا سیاسی کم فہمی پر پردہ ڈالنے کے لئے دشمن کی سازش کی اصطلاح اس قدر زیادہ استعمال کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ اپنے معانی کھو چکا ہے۔ ہمارے لیڈروں اور بعض مبصرین کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ ملک کو درپیش کسی بھی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے اس میں درپیش مشکلات کا سرا دشمنوں کی سازشوں سے جوڑنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کو پاکستان کے بارے میں غور کرنے اور اسے ناکام بنانے کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔ اس لئے وہ ہمہ وقت اس ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ سیاست دانوں نے اس تسلسل سے یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ ملک میں باقاعدہ ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو یہ یقین کرنے لگا ہے کہ پاکستان میں پیش آنے والے واقعات اور حادثات دراصل اس ملک کے دشمنوں کی سازش ہوتے ہیں۔ ارباب بست و کشاد چونکہ ان دشمنوں کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں اس لئے ملک کو اسلام کا قلعہ قرار دینے والے عناصر دھڑلے سے یہ اعلان کرنے لگتے ہیں کہ اسلام کے دشمن پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اسی لئے ہر جمعہ کی نماز کے بعد ملک کی مساجد کے آئمہ کوئی دوسری دعا چاہے بھول جائیں لیکن وہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں کی تباہی و بربادی کی دعا کرنا نہیں بھولتے۔ یہ رجحان ہر زمانے میں ملک کے حکمرانوں کے فائدے میں رہا ہے کیونکہ اس طرح انہیں اپنے ناکام منصوبوں کی جوابدہی کی بجائے یہ کہنا آسان لگتا ہے کہ وہ دشمن کی سازشوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اس لئے گلی محلے میں ابھرنے والے اس رجحان کی ہر سطح پر سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور اس کے خلاف دشمنان اسلام کی سازشوں کی دیو مالائی کہانیوں کی وجہ سے ملک کے عوام ایک غیر محسوس عدم تحفظ کا شکار بنے رہے ہیں۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انتہا پسند گروہوں نے لوگوں کو یہ باور کروانا شروع کیا ہے کہ صرف ان کا بتایا ہؤا راستہ درست ہے اور انہیں دشمن کے خلاف ’جہاد‘ کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ اسی ناقص تصور جہاد کے بطن سے ان دہشت گرد گروہوں کا جنم ہؤا ہے جو اس وقت مسلمانوں اور عالم اسلام کی شہرت اور وجود کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں نے گزشتہ پندرہ بیس برس کے دوران مسلمانوں کا ہی خون بہایا ہے اور مسلمان ملکوں کو ہی کمزور ان کی حکومتوں کو ناکام بنایا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور عراق و شام میں ابھرنے والی بعض عسکری تحریکیں فرقہ واریت کو ہو ا دے کر اور مختلف مسلک کے لوگوں کو واجب القتل قرار دے کر بلکہ ان کو باقاعدہ ہلاک کرنے کے لئے مسلح جتھے تیار کرکے مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کاسبب بھی بنی ہیں۔ پاکستان میں ایسے لکھنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں جو سازش کے ان نظریات کو فروغ دے کر اس ملک کے عوام کو کمزور، خوفزدہ اور ناکارہ بناتے رہے ہیں۔ حکومتیں چونکہ اس نظریہ کی آڑ میں من مانی کرنے اور اپنی غلط کاریوں کو جائز قرار دینے کا دھندا کرتی ہیں، اس لئے وہ بھی ان سازشی نظریات کی سرپرست رہی ہیں۔

پاکستان کے حکمرانوں اور دانشوروں کو اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سازش اور مخالفت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سازش ہمیشہ کسی بڑی طاقت کے خلاف کی جاتی ہے۔ پاکستان ایک کمزور ملک ہے جس کے وسائل اس کی آبادی کی کفالت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور پے در پے نااہل حکومتوں کی وجہ سے الزامات اور سازشوں کے قصے سنا کر پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوئی مؤثر اور کامیاب کوشش نہیں کی جا سکی۔ اسی لئے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ ہے اور وہ مستقبل میں امید کی کوئی بھی کرن دیکھنے کے لئے بیرونی قرضوں اور امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ بنیادی طور پر اسی لئے پاکستانی حکومت کو سی پیک معاہدہ سونے کی چڑیا لگتا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی کثیر سرمایہ داری کی وجہ سے ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ حالانکہ یہ تصور بھی غلط سیاسی بیانیہ کا حصہ ہے۔ ملک میں پیداوار کی صلاحیت بڑھانے اور لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے صرف بیرونی سرمایہ کاری کافی نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے معاشرے میں انصاف ، مساوات اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تاکہ ملک کے ہر فرد کو یہ یقین ہو سکے کہ اسے اس کی محنت کا صلہ ملے گا اور اس کی حق تلفی نہیں ہوگی۔

یہ احساس افراد کے علاوہ خطوں اور صوبوں کے درمیان پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ بھارت اور امریکہ چین کے تعاون سے پاکستان کے راستے بننے والی شاہراہ سے خوش نہیں ہیں۔ اس منصوبہ کی مخالفت کے لئے ان کے اپنے دلائل ، سیاسی اور اسٹریجک ضرورتیں ہیں۔ امریکہ چین کو اپنی معیشت کے علاوہ دنیا میں اثر ورسوخ کے حوالے سے بڑا خطرہ سمجھ رہا ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات اور سمجھوتوں کے ذریعے بحر ہند کے علاوہ بحر جنوبی چین میں چین کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لئے سی پیک کے تحت گوادر اور کاشغر کے درمیان بننے والی شاہراہ چین کے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح یورپ، مشرق وسطی اور افریقہ کو چین کی برآمدات مختصر روٹ سے کم خرچ پر فراہم کی جا سکیں گی اور چین کی مقابلہ کرنے کی سکت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسی طرح چین کو تیل و دیگر خام مال کی درآمدات اپنے ملک تک پہنچانے کے لئے کم سرمایہ صرف کرنا پڑے گا۔ کاشغر سے گوادر تک شاہراہ اور ریل ٹریک کے ذریعے رابطہ اور گوادر کی بندرگاہ سے نصف دنیا تک رسائی چین کی معیشت اور سیاسی ضرورتوں کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اسے پاکستان کی ضرورت تھی ۔ اسی لئے سی پیک کو صرف گوادر کی ترقی اور مواصلاتی روٹ کی تکمیل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ پاکستانی عوام کو اس منصوبے پر آمادہ کرنے کے لئے چینی کمپنیوں کے ذریعے چالیس پچاس ارب ڈالر سرمایہ کی پیش کش کی گئی ہے۔ یہ سرمایہ ملک میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور صنعتی ترقی کے لئے بے حد اہم ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے عوام کو طویل المدت منصوبوں کی تکمیل میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنا ضروری ہے۔ اس تناظر میں یہ بے حد ضروری ہے کہ سی پیک کے حوالے سے دنیا کے مختلف ملکوں کی مخالفت کو سازش قرار دے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کی بجائے ، اس منصوبہ کے بارے میں مباحث عام کئے جائیں، معلومات فراہم کی جائیں اور ملک کی دیگر پالیسیوں کو ترقی کے خواہشمند معاشرہ کی ضرورتوں کے مطابق استوار کیا جائے۔ اسی طرح مخالفت کے باوجود پاکستان اس منصوبہ کو کامیاب بنا سکے گا۔

سی پیک منصوبہ کے تحت سرمایہ کاری اور ترقی کے منصوبوں کا فطری تقاضہ ہے کہ ملک میں امن بحال ہو، جنگ کا ماحول ختم کیا جائے۔ ہمسایہ ملکوں کے تحفظات اگر دور نہیں ہو سکتے تو بھی انہیں یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ پاکستان کے عزائم پر امن ہیں اور وہ صرف اپنے عوام کی بہبود اور خوشحالی کے لئے چین کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ وہ کسی قسم کی عالمی تجارتی جنگ یا بڑے ملکوں کی عسکری مسابقت میں حصہ دار نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ماحول ختم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ملک کے اداروں نے ماضی میں جن انتہا پسند گروہوں کو قومی اثاثے کے طور پر تحفظ دیا تھا، ان کا خاتمہ کیا جائے ۔ اسی طرح افغانستان میں سیاسی اثر و رسوخ کے مقصد سے ایسے گروہوں کے ساتھ روابط ختم کئے جائیں جو کابل حکومت کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ سی پیک کو کامیاب بنانے کے لئے پورے خطے میں تنازعات کو ختم کرنا اور تعاون کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہوگا۔ یہ کام صرف سازش کا الزام لگا کر پورا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے لئے حکومت کو اپنی تین دہائیوں سے مسلسل ناکام ہونے والی سیکورٹی اور خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ یہ کام جس قدر جلد شروع ہوگا، سی پیک کے لئے اسی قدر ماحول بہتر ہو سکے گا اور چینی کمپنیاں بھی کسی حجت کے بغیر سرمایہ فراہم کریں گی۔ اس کے برعکس پاکستان کی طرف سے مسلسل جنگ کی باتیں کی جاتی ہیں، ان عوامل کو ختم کرنے کے لئے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتے جن سے ہمارے دو ہمسایہ ملکوں کو احساس ہو کہ پاکستان اب صرف اپنی معاشی ترقی پر توجہ مبذول کرنا چاہتا ۔ اس کے کوئی جنگی عزائم نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملک کے خلاف پراکسی وار کا حامی ہے۔ جنگ اور تصادم کا ماحول ختم کئے بغیر پاکستان کے لئے سی پیک کے ثمرات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اس منصوبہ اور چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے مرکز اور صوبوں کے درمیان اختلافات دوسری بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس بارے میں اعتراضات سامنے آنے کے باوجود وفاقی حکومت کوئی قابل عمل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ یہ صورت حال ملک میں سیاسی کشیدگی اور بد اعتمادی کے ماحول کو جنم دے رہی ہے۔ سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ ایسے ماحول میں کامیابی سے پروان نہیں چڑھ سکتا۔ بنصیبی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت سی پیک کا سارا کریڈٹ تو خود سمیٹنا چاہتی ہے لیکن اسے کامیاب بنانے کے لئے جو اقدام کرنے اور مخالفین کو اعتماد میں لینے کے لئے جس حکمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا مظاہرہ نہ تو سفارتی محاذ پر دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر اس میں پیش رفت نظر آتی ہے۔

ان حالات میں تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ چین گوادر کو استعمال کرنے کے قابل بنالے اور کاشغر تک مواصلاتی ذرائع تعمیر کرلے۔ اس طرح وہ متبادل تجارتی راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس راستے کی حفاظت کے لئے وہ پاکستانی فوج کی مدد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے گا۔ لیکن پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے جو وسائل دینے کا وعدہ کیا گیا ہے ، وہ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور کم فہمی کی بنا پر پورا نہ ہوسکے۔ اس طرح پاکستان سی پیک کے عظیم منصوبہ کو راہداری فراہم کرنے والا خطہ بن کر رہ جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali