سیہون شریف اور جنگل پہاڑ


بچپن کے دن تھے۔ جب عمر بہت کم ہو تو واقعات بالکل دھندلے سے یاد رہ جاتے ہیں اور افراد خاکوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خاکہ اس ملنگ کا تھا جسے دادی جنگل پہاڑ کہتی تھیں۔ وہ ہر جمعرات کو آتا تھا۔ اونچا لمبا تاڑ سا قد، کالی دھوتی، کالا کرتہ، کالا صافہ لپیٹے، بہت سے کڑے دونوں ہاتھوں میں پہنے، انگلیاں انگوٹھیوں سے بھرے، پیروں میں بھی دو تین کڑے ڈالے وہ پہنچ جاتا تھا۔ دورازے کے باہر کھڑا ہوتا اور کافی لمبی سی کوئی منقبت نما چیز پڑھتا تھا، اس میں “جنگل پہاڑ کہتے ہیں ناد علی علی” قسم کا مصرعہ بھی کوئی ہوتا تھا۔ اسے دادی کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی تھیں۔ پھر ایک روز وہ نہیں آیا۔ دو تین جمعراتیں گزر گئیں، تب بھی نہیں آیا۔ ایک دن خبر آئی کہ وہ مر گیا۔ کسی انجان آدمی کی موت پر دکھ ہونے کا یہ پہلا احساس تھا۔ لیکن وہ ملنگ اپنی طبعی موت مرا تھا۔

اس دن دفتر سے واپسی پر ایک دوست کا میسج آیا جس میں صرف یہ لکھا تھا۔ ایک اور بلاسٹ۔ پوچھا کہاں ہوا۔ سیہون شریف۔ یہ نام سنتے ہی سب سے پہلے وہی جنگل پہاڑ یاد آ گیا۔ بے ضرر سا آدمی تھا۔ جس دروازے سے کچھ نہ ملتا، وہاں بھی کھڑے رہ کر گاتا رہتا تھا، پانچ دس منٹ بعد اگلے دروازے پر چلا جاتا۔ جنگل پہاڑ زندہ ہوتا تو شاید اپنی موت نہ مر پاتا۔ کسی عرس پر، کسی جلوس میں، کسی دربار پر بہت سے خود کش اس کے منتظر ہوتے۔

مزاروں پر کبھی جانے کا اتفاق ہو اور ان دنوں سیکیورٹی تھریٹ بھی نہ ہو تو وہاں ایک الگ دنیا بسی ہوئی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ساری دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگ، جنہیں کوئی گلے لگانے کو تیار نہیں ہوتا، وہ مستقل وہاں ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں سے لنگر کی دیگ ہر کھانے کے وقت پہنچ جاتی ہے، کھائیں گے پئیں گے، پھر مزے سے وہیں بیٹھ جائیں گے۔ کوئی فقیر بن جائے گا، کوئی دھمال ڈالتا بے خود ملنگ ہو جائے گا، دو تین ٹولیاں قوالی کر رہی ہوں گی، کوئی نشہ کیے ہوئے ایک کونے میں پڑا ہو گا، کوئی کبوتروں کا دانہ بیچ رہا ہو گا، کوئی دربار پر جھاڑو لگا رہا ہو گا، کوئی مزار پر ڈلنے والی چادریں اور پھول دوبارہ باہر جا کر بیچ رہا ہو گا، کوئی اگربتیاں لیے ایک کونے میں بیٹھا ہو گا، کسی کے پاس شکر کا ٹھیکہ ہو گا، لیکن یار، یہ سب کیا ایسے برے ہیں کہ انہیں بھی دھماکے کر کر کے مارا جائے گا؟

مزار کے تقدس کی تو بات ہی چھوڑئیے، جو نہیں مانتے ان کے لیے یہ بات بے معنی ہے۔ لیکن ایک انسانی جان کا احترام تو بہرحال بنیادی اخلاقی تقاضا ہے۔ پھر مارنے کو چنے بھی وہ جو بے چارے پہلے ہی حالات کے ہاتھوں مر چکے ہوتے ہیں۔ ان سب میں اگر کوئی باہر کے بندے ہوں گے تو ایک ماں ہو گی جو بیٹے کے پاس ہونے کی دعا مانگنے آئی ہو گی، ایک بیوی ہو گی جو بیٹا چاہتی ہو گی، ایک محبوبہ ہو گی جو محبوب کے سر کی خیر مانگتی ہو گی، ایک بہن ہو گی جو بھائی کی نوکری کی دعا مانگنے آئی ہو گی، ایک دیوانہ ہو گا جو پہاڑوں سے اتر کر سندھ دھرتی گیا ہو گا کہ سائیں شہباز کی زیارت ہو جائے، ایک بیٹا ہو گا جو باپ کی صحت مندی کی دعا مانگنے گیا ہو گا، ایک دوست ہو گا جو دوسرے دوست کو زبردستی لے گیا ہو گا، کہ چلو یار دونوں چلتے ہیں، اکیلے کیا جانا، اور دونوں پھر اکٹھے ہی چلے گئے ہوں گے۔

سیہون شریف ایک واضح ٹارگٹ تھا۔ عین اتنا ہی شفاف جتنا کہ مزار قائد، شاہ رکن عالم یا عبداللہ شاہ غازی کا مزار ہو سکتا ہے۔ دہشت گرد جب لاہوت لامکاں کے جیسے دور دراز علاقے تک کو نہیں چھوڑتے تو مزاروں کی سیکیورٹی اور اہم ترین مزار کی حفاظت میں یہ کمزوری کیوں دکھائی دی، یہ بات سمجھ سے بالا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے پہلے بہت سے ایسے دعوے نظر سے گزرے جن کے مطابق دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا تھا، اگر جڑیں نہیں ہیں، تو یہ فصلیں کہاں تیار کی جا رہی ہیں؟ فتح انگلش کی ہوتی ہے، قدم جرمن کے بڑھتے ہیں۔ اوپر تلے ہونے والے منظم دھماکے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ دہشت گرد ایک دوسرے سے مکمل رابطے میں ہیں اور نیٹ ورک بھی ویسے کا ویسا موجود ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کا رونا ہر دھماکے پر رویا جاتا ہے، اسے اگر دفن کر بھی دیا تھا تو ایسے مواقع پر جھاڑ پونچھ کر نکالا جا سکتا ہے۔

ایک کام جو سب سے زیادہ ضروری سمجھیے، وہ بے معنی بیان بازی ختم کرنا ہے۔ دھماکے اب اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ مذمتی بیانات عوام کو زبانی یاد ہیں۔ ہر دھماکہ ہونے کے بعد انہیں کو اوپر نیچے کر کے الفاظ کی بے مقصد جگالی سے بہت بہتر وہ چند سادہ الفاظ ہوں گے جو مرنے والوں کا درد محسوس کر کے دل سے کہہ دئیے جائیں۔

دھماکہ کرنے والے نہ ہی بزدل ہیں اور نہ ہی بیانات میں چھپی مذمت کو محسوس کر کے وہ آنکھیں بند کیے کھڑے ہوں گے کہ صاحب آئیے اور موم ٹپکا دیجیے ان پر اور پکڑ لیجیے ہمیں، وہ چن چن کر تمام صوبوں میں اہم ترین مقامات پر وار کر رہے ہیں۔ اس وقت کسی بھی ایسی فوری حکمت عملی کی ضرورت تھی جس کے تحت جنگی بنیادوں پر دہشت پسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے چاہے وہ ملک بھر میں کہیں بھی موجود ہوں۔ وہ مرحلہ ابھی بہت دور ہے جہاں ہم فکری تربیت کی بات کریں اور کوشش شروع ہو کہ برائی جڑ سے ہی مٹا دی جائے۔ فی الوقت جڑوں سمیت دہشت گردوں کی مکمل فصلیں تیار ہیں اور کٹ مرنے کی جستجو میں ہیں، انہیں بلا تخصیص ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا کرے آپریشن رد الفساد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو۔

وہ دشمن جو معصوم لوگوں کی موت کو اپنی زندگی سے افضل سمجھتا ہو، اس پر اپنی ناگہانی وفات سے پہلے قابو پانا ضروری ہو جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 282 posts and counting.See all posts by husnain