دہشت گردی کا سراغ اردو کالموں میں ہے


پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے لیکن آپ فکر مند نہ ہوں کیونکہ ہم نے دہشت گردوں کا پکا سراغ لگا لیا ہے۔ اطمینان اور تسلی کی دوسری بات یہ ہے کہ ہمشہ کی طرح اس دفعہ بھی کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ حملہ آور ہمارا ازلی اور روائیتی دشمن ہی ہے۔ اور جیسا آپ کو علم ہے کہ دشمن بزدل اور بہت ہی بخیل ہے۔ ہماری ترقی سے جلتا ہے اس لئے اس نے یہ حملہ ہمارے سی پیک اور پی ایس ایل پر کیا ہے۔ لیکن دشمن ناکام رہا ہے کیونکہ صرف بندے ہی مرے ہیں۔ سی پیک اور پی ایس ایل اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ہیں۔ دہشت گردوں کو خبر رہے کہ ہمیں ان کا اور ان کے ارادوں کا بخوبی علم ہے۔

مجھے بہت الجھن تھی کہ یہ دہشت گرد آخر کون ہیں؟ لیکن پھر کسی دوست کے مشورے پر میں نے اخبارات کے اردو کالم پڑھے اور فورا ہی مجرموں کا پکا سراغ لگا لیا

خوش قسمتی سے پہلا ہی کالم حافظ محمد ادریس صاحب کا پڑھا اور دل کو سکون آ گیا۔ حافظ صاحب نے تازہ دہشت گرد حملوں کی بات کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ ”پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اپنی منحوس جڑیں پھیلا چکی ہے۔ دہشت گردی کا ایک اور افسوسناک واقعہ۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے جو شاطر بنیا کھیل کھیل رہا ہے، اسے ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کون کرے گا۔ بھارت کی بدمعاشی تمام حدود تجاوز کر چکی ہے۔ “ حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ یہ طالبان یا داعش والے جھوٹی سچی ذمہ داری بھی قبول کر چھوڑتے ہیں اور بھارت کو بدنامی سے بچا لیتے ہیں۔ اب ہم نے طالبان کو اس بات سے منع کرنا ہے کہ آئندہ وہ حملوں کی ذم داری قبول نہ کیا کریں تاکہ بھارت کی خوب بدنامی ہو۔

اس کالم کو پڑھنے کے مجھے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو حالیہ دہشت گردی کے مجرموں کا پتا چل گیا اور دوسرا سکول دور کے مطالعہ پاکستان کی یاد بھی تازہ ہو گئی۔ یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم اپنے ازلی دشمن اور سازشی ہندو بنیے سے بدلہ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے نوجوانوں میں اس کے خلاف نفرت بھریں گے تو ہم کامیاب ہوں گے۔ یہ جو ذہن ہم تیار کر رہے ہیں یہ جب بھارت کی طرف مڑیں گے تو اتنی دہشت پھیلائیں گے کہ اسے ناکوں چنے چبا دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں اتنی جو مشق کر لی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کیے گئے دھماکوں کی ان مشقوں کو برا نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ دھماکے اصل میں ازلی دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

حافظ ادریس صاحب نے مستقبل کی پیش گوئی بھی کر دی ہے۔ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ٹرمپ اور مودی دونوں شیطانوں کی دوستی کی اصلی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلم امہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کالم میں امہ کے کچھ اہم ممالک جیسے سعودی عرب میں مودی کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کرنا شاید بھول گئے ہیں۔ کیونکہ مسلم امہ تو بہرحال مسلم امہ ہے چاہے امہ کے اندر شامل مختلف ممالک پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ جیسا بھی سلوک کریں۔

حافظ ادریس صاحب ہماری مزید رہنمائی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”جماعتہ الدعوۃ، کالعدم لشکر طیبہ کا تسلسل ہے، لیکن لشکر طیبہ کب کی ختم ہو چکی ہے، اب جماعتہ الدعوۃ ایک غیر سیاسی دینی اور فلاحی تنظیم ہے۔ “ ظاہر ہے وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ ہمیں ان کا اعتبار کرنا چاہیے کیونکہ دور حاضر کی غیر سیاسی، دینی فلاحی اور ماضی کی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں ان کا علم بہت وسیع لگ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسی تنظیموں کو وہ اندر باہر سے خوب جانتے ہیں۔

حافظ صاحب کا کالم پڑھ کر اس لئے بھی مزا آیا کیونکہ اس میں انہوں نے ہندوؤں کی نفسیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہندو لاتوں کا بھوت ہے اور بہت ڈرپوک ہوتا ہے اس لئے اسے دبا کر رکھو تو ٹھیک رہتا ہے ورنہ اپنی اوقات بہت جلد بھول جاتا ہے اور سر پر چڑھنے لگتا ہے۔ آخر میں انہوں نے گورمنٹ کو تجویز پیش کی کہ وہ ملک میں موجود تمام دہشت گردوں کا بھی صفایا کر دیں۔

ایک ہی کالم پڑھ کے دہشت گردی کا سراغ مل گیا ہے۔ اگر ہمارے کالم نگار اسی حقیقت پسندی کے ساتھ کالم لکھتے رہے اور ہم اپنے بچوں کو اسی تن دہی سے مطالعہ پاکستان کا یہی سلیبس پڑھاتے رہے تو دہشت گردی کا سراغ گھر سے باہر ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 171 posts and counting.See all posts by salim-malik