آپریشن ضرب عضب سے ردالفساد تک : کیا کھویا کیا پایا؟


دی اوریجن آف Totalitarianism ایک بہت اہم کتاب ہے جسے Hannah Arendt نے لکھا ہے۔ مطلق العنانیت کے موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اس کتاب میں حانہ مطلق العنانیت کی نفسیات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ آمرانہ قوتیں صرف اس وقت کامیاب ہیں جب وہ عوام کو یہ دکھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ نازک صورتحال کے اس دور میں عوامی خدمت میں بے چین بھی ہیں اور مصروف بھی، وہ ناگزیر ہیں، اگر وہ نہ رہیں تو قوم بھی نہیں رہے گی اور معاشرہ بھی نہیں بچے گا۔ جرمن نژاد حانہ لکھتی ہیں کہ مطلق العنانیت کے دن اس وقت اختتام پزیر ہوتے ہیں جب عوام یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اس مطلق العنانیت کے بغیر بھی جی سکتے ہیں۔ حانہ کے بقول انقلاب فرانس کا بڑا سبب نئے وجود میں آنے والے بورژوا طبقہ (جنہیں وہ Gentleman طبقہ بھی کہتی ہیں ) کا یہ یقین تھا کہ وہ روایتی اشرافیہ کے بغیر بھی معاشی اور سماجی طور پر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک دوست کے والد محترم نے بتایا (جسے میں کچھ اور معمر افراد سے بھی سن چکا ہوں) کہ جب ضیاء الحق کی وفات ہوئی تو وہ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے کہ آخر اب یہ ملک کیسے چلے گا؟

اعلان کیا جا چکا ہے کہ پنجاب میں رینجرز کو ساٹھ دنوں کے لئے خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے۔ ملک میں آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی جگالی چھوڑ کر اب آپریشن رد الفساد کا بیانیہ سامنے لایا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ایمرجنسی کے خصوصی اختیارات کے باوجود آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان سے اب تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ یہ بات میرے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں رینجرز اور سیکورٹی اداروں کے خصوصی اختیارات کے حق میں سول سوسائٹی کے حقوق کی دہائیاں دینے والے بھی پیش پیش رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں اب تک کوئی مؤثر آواز سامنے نہیں آئی جو دہشت گردی کے اسباب کا زہین تجزیہ کر سکے اور ہمیں بتا سکے کہ آیا یہ ممکن بھی ہے کہ ایک نجی گروہ بغیر طاقت کے ہیبت ناک ستونوں کی مدد کے محض نجی بنیادوں پر اس قابل بھی ہو سکتے ہیں کہ ایک ریاست کو اس طرح چیلنج کر سکیں؟ دو ہزار ایک سے ہم ان شدت پسند دہشتگردوں سے برسر پیکار ہیں، ہمارے سیکورٹی ادارے ایمرجنسی کے خصوصی اختیارات رکھنے کے باوجود آخر اب تک کیوں ناکام ہیں کہ دہشتگردی کے اس عفریت کا خاتمہ کر سکیں جو گھات لگا لگا کر ہمارے شہریوں کا شکار کرتی ہے؟ کیا ان شدت پسندوں کی طاقت کا مرکز ریاستی طاقت سے بھی زیادہ طاقت ور ہے؟ اگر ہاں تو اس کا سورس (source) کیا ہے، وہ یہ طاقت کی سپلائی کہاں سے لیتے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  خیبرایجنسی میں چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں فوجی جوان شہید، آئی ایس پی آر

پہلے کہا گیا کہ دہشتگردی کا سبب غربت ہے۔ پھر کہا گیا کہ ناخواندگی ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ نظریہ اس کا سبب ہے اگر نظریہ کو توڑ دیا جائے تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ محض نجی بنیادوں پر پر کوئی تشدد پسند گروہ اتنا منظم اور طاقتور ہو ہی نہیں سکتا جتنا طالبان ہیں۔ دنیا میں نظریہ محض نجی طاقت سے چند لوگوں کو ایک دو چار بار قتل تو کر سکتا ہے مگر اتنے وسیع پیمانے کی بربریت نہیں پھیلا سکتا۔ نازی جب نجی حیثیت میں تھے بے اثر تھے، ریاست و اقتدار پاس آیا تو انسانی ہلاکت کے ایسے مناظر سامنے آئے کہ الحفیظ الامان۔ ایوسف واسیریویچ جب تک نجی حیثیت میں تھا بے اثر تھا جب وہ اقتدار میں آیا تب وہ سٹالن بن کر سامنے آیا۔ بقول فوکو یاما تاریخ میں ہٹلر اور سٹالن جیسی بربریت کسی نے نہیں دیکھی۔ تشدد پر اکسانے والا مذہبی نظریہ ہو یا نسلی، لسانی ہو یا جغرافیائی۔ ، جب تک اسے طاقت کے بڑے مراکز (جو عہد حاضر میں صرف ریاستوں کے پاس ہیں ) سے سرپرستی نہ ملے وہ محض چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں اپنی بقا کی ہی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ صرف قومی تحریکوں کو جو اپنا جواز اور تعاون براہ راست عوام سے حاصل کرتے ہیں ایسی کسی (اندرون ملک یا بیرون ملک ) ریاستی سرپرستی کی ناگزیر ضرورت نہیں ہوتی اور پاکستان میں کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ طالبان ایک قومی تحریک ہیں۔

پاکستان میں دہشتگردی یا طالبان ازم تین بڑے اسباب سے ہے۔

۔ سرحد پار مہم جوئی

۔ سرحد کے اندر شدت پسند گروہ، جن کی نمائندگی دفاع پاکستان کونسل اور ان جیسے کردار کرتے ہیں۔

ان دونوں اسباب کو ریاستی سرپرستی و مدد حاصل ہے اور یہی پاکستان میں دہشتگرد گروہوں کی طاقت کا اصل سورس ہیں۔ بدقسمتی سے 2001 سے یہ دونوں پالیسیاں ریاست کی طرف سے مسلسل قائم ہیں۔ اچھے طالبان اور برے طالبان کی تفریق بھی انہی دو اسباب سے ہے اور ہیئت مقتدرہ بار بار یہ بتاتی رہی ہے کہ یہ گروہ اس کی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

۔ تیسرا بڑا سبب انتظامی خرابیاں ہیں جن کا حل فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کو معطل کرنے والے قوانین میں نہیں بلکہ انتظامی بندوبست قائم کرنے والے سول اداروں کی مضبوطی اور انہیں سیاسی مداخلت سے پاک کرنے میں ہے۔ سول اداروں کی تباہی میں سیاسی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں رکاوٹ ہیں اور دونوں نہیں چاہتے کہ یہ ادارے مضبوط ہو کر کل ان کے اجارہ دارانہ مفادات کو چیلنج کریں۔ اگر پہلے دو اسباب کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے تو دہشتگردی کے سہولت کاروں کے لئے یہ سول انتظامی ادارے ہی کافی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  محبت کرنے والے حوصلہ رکھیں

اخباری ذرائع کے مطابق، سیہون شریف حملے کے بعد جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر ایک سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا۔ بدقسمتی سے ان کے خلاف نہ عدالتی کارروائی ہوئی اور نہ ہی ان کی شناخت و جرم ظاہر کیا گیا۔ دیکھئے جرائم پیشہ گروہوں بشمول دہشتگردوں اور ریاست میں ایک جوہری فرق ہے۔ ریاست پابند ہے کہ وہ آئین کی ہر صورت میں پاسداری کرے گی چاہے ملزم کوئی بھی ہو۔ ریاست اندھا دھند جوابی کارروائی کا حق و اختیار نہیں رکھتی۔ پاکستان کا آئین فری ٹرائل کا حق تمام شہریوں کو دیتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک کی بقا انصاف میں ہے۔ آزادی مساوات اور انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں میں ہے۔ آئین واضح ہے کہ بغیر فری ٹرائل کے اگر کوئی سیکورٹی ادارہ کسی فرد کے خلاف بے جا سختی سے کام لیتا ہے یا قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کارروائی کرتا ہے تو یہ سنگین جرم ہے۔

جب تک آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں ہوتی۔ ، ریاست نظریاتی امور میں غیر جابندار اور سرحد پار مہم جوئیانہ پالیسیوں سے تائب نہیں ہوتی اور ملک میں ہیئت مقتدرہ کے چند عناصر کی طرف سے شدت پسند گروہوں کی سرپرستی نہیں چھوڑی جاتی ۔ اور انتظامی بندوبست قائم کرنے والے سول اداروں کو مظبوط نہیں کیا جاتا۔ ، اس وقت تک کوئی بھی آپریشن کسی بھی بنیاد پر بے نتیجہ ہے جس کا مقصد وہی ہے جو حانہ نے لکھا کہ عوام کو یہ دکھایا جائے کہ ہم بہت مصروف ہیں پریشان ہیں محنت کر رہے ہیں، ہماری سرگرمیاں ناگزیر ہیں اور جلد ہی یہ تاریک رات چھٹ جائے گی اور صبح کا اجالا ہمیں امن، خوشحالی اور دنیا کی امامت سے نواز دے گا۔ یہ سراب پائیدار بھی نہیں ہوتے مگر ظلم یہ ہے کہ جب ایک دھوکے کا فریب کھل کر سامنے آتا ہے تو ایک نیا دھوکہ نئی طاقت توانائی اور پروپیگنڈے کے ساتھ ایسے سامنے لایا جاتا ہے کہ صرف وہی سچ لگنے لگتا ہے اور باقی سب جھوٹ و فریب۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 134 posts and counting.See all posts by zeeshan