زرداری صاحب کے خلاف آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو کی بغاوت


بڑی حیران کن صورت حال ہے۔ بڑے لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ پارٹی میں شامل ہونے والے سب بڑے لوگ ہی ہیں۔ کوئی عوام دوست سیاسی ورکر زرداری صاحب کی مسکراہٹ پہ ابھی تک فدا نہیں ہوا۔

پہر بھی سوال یہ ہے کہ زرداری کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی ہے جس کو سونگہ کر سندھ کا کوئی نہ کوئی وڈیرہ ہر روز پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہا ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ سندھی وڈیرہ اقتدار سے باہر اس طرح تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی سے باہر۔ ورنہ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں اس مرتبہ جو کرپشن آئی ہے اس کے بعد اس کی مقبولیت ایسی نہیں کہ ہر کوئی اس کی طرف دوڑا چلا جائے۔ الیکشن جیتنا اور کس طرح جیتنا یہ ایک الگ قصہ ہے جس کا آج کے دور میں مقبولیت سے کوئی تعلق نھیں رہا۔

اور زرداری صاحب کو بھلا کیا پڑی ہے کہ ہر کسی کو آن بورڈ لیتا جا رہا ہے حالانکہ امتیاز شیخ، جام مدد، عرفان اللہ مروت تو ایسے لوگ ہیں جو سندھ کے سابق وزیر اعلٰی جام صادق علی کے دور میں پیپلز پارٹی پر مظالم توڑنے کے سب ریکارڈ توڑ چکے۔

عرفان اللہ مروت تو پیپلز پارٹی کے لئے ایک فرد ممنوعہ رہے ہیں۔ شہلا رضا کے قید و بند سے لے کر وینا حیات تک کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ایف آئی آرز تک کٹی تھی۔ مگر سابق صدر غلام اسحٰاق خان سے لے کر جنرل علی قلی خان تک اور کلثوم سیف اللہ کے بیٹوں سلیم سیف اللہ اور انور سیف اللہ جیسے با اثر لوگوں کے رشتے دار کو بھلا یہاں کیا ہونا تھا حالانکہ مبینہ طور پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی وینا حیات خود ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے والد سردار شوکت حیات مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے اور وینا حیات نے عرفان اللہ مروت پر اس مبینہ گینگ ریپ کے پیچھے ہونے کا الزام لگایا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  یار من فرنود عالم کی جناب میں

زراری صاحب ہر کسی کو اپنے آگے جھکاتے جا رھے ہیں، کل جو لوگ ان کے سخت خلاف تھے، دشمن تھے آج وہ اِن کی حاضریاں بھر رھے ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ لالچ، عہدہ، ڈر یا دبائو جیسے بھی ہو، سندھ میں کسی بھی ایسے شخص کو پیپلز پارٹی سے باہر نہ رہنے دیا جائے جس میں الیکشن لڑنے کی تھوڑی سی بھی طاقت ہو۔ یہ بذاتِ خود خوفزدگی کی ایک علامت ہے۔

اس صورت حال پہ سب سے اچھا تبصرہ پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کیا ہے کہ، کشتی میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار ہوں تو کشتی ڈوب جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے بیان کو ابھی چند گھنٹے ہی گذرے ہیں کہ کشتی ڈوبی تو نہیں مگر اس کو ایک بڑا جھٹکا ضرورلگا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی صاحبزادیاں اپنے والد کے فیصلے کے خلاف کھل کر سامنے آئی ہیں۔ بختاور اور آصفہ زرداری نے دو گھنٹے پہلے اپنے تازہ ٹویٹ میں عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بیمار ذہن فرد کو جیل میں سڑنا چاہیے اور ایک عورت رہنما کی سربراہی میں چلنے والے جماعت ایسے لوگوں کو بلکل برداشت نہیں کرے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔