اپنی شخصیت کا ’ریویو‘


کسی زمانے میں گمشدہ جڑواں بچوں کی کہانی ہر فلم کا موضوع ہوا کرتی تھی۔ ہسپتال میں ماں دو بچوں کو جنم دیتی جن میں سے ایک کو ولن اٹھا کر لے جاتا اور وہ ڈاکو بن جاتا جبکہ دوسرا ماں کی گود میں پرورش پا کر پولیس انسپکٹر بن جاتا، پھر پچیس برس بعد اُن کا ٹاکرا کہیں ہوتا، ماں اپنے گمشدہ بچے کو کسی نشانی سے پہچا ن لیتی، پولیس انسپکٹر اپنے ڈاکو بھائی کو گلے لگا کر راہ راست پر لے آتا اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگتے یا پھر ڈاکو اپنے بھائی کی گولی کا نشانہ بن جاتا اور یوں ایک لازوال ٹریجیڈی پردہ سیمیں پر تخلیق ہوتی۔ اس کہانی سے پیارے بچے یہ سبق سیکھتے کہ کسی نیک شخص کے گھر پیدا ہونے والی اولاد ضروری نہیں کہ نیکی کے راستے پر ہی چلے کیونکہ نیک آدمی کے بچے کی پرورش اگر کسی جرائم پیشہ شخص کے گھر ہوگی تو لا محالہ وہ اسی ماحول کے مطابق ڈھل جائے گا۔ پیارے بچوں کا تو پتہ نہیں میں نے البتہ ان فلموں سے یہ جانا کہ کہ پیدائش کے وقت ہر بچہ فطرت صحیح پر ہوتا ہے، بعد میں اُس کا ماحول، ماں باپ کی تربیت، سکول کالج کی تعلیم، ارد گرد کے حالات، میل ملاپ، دوست احباب، اساتذہ، درسی کتب وغیرہ اُس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور پھر وہ ایک خاص قسم کی شخصیت میں ڈھل جاتا ہے، کچھ مخصوص نظریات اُس کی سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں اور تیس پینتیس برس تک کی عمر تک اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ جو کچھ سوچتا ہے بالکل ٹھیک اور اٹل حقیقت ہے۔

اصل کہانی اِس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ عمر کا کچھ حصہ گذارنے کے بعد ہم اپنی شخصیت، خیالات، تجربات اور نظریات کا تجزیہ کرنے کی بجائے نہایت فخر سے اپنے تجربات اور مشاہدات زندگی دوسروں کو سناتے ہیں اور اِس تیقّن کے ساتھ سناتے ہیں جیسے یہی آفاقی سچائی ہو۔ دراصل ہم اُن تمام تعصبات سے جان ہی نہیں چھڑا پاتے جنہوں نے بچپن سے ہی ہمارے ذہن میں جگہ بنا لی ہوتی ہے، اُن میں سے کچھ ہمیں درسی کتب میں رٹائے جاتے ہیں، کچھ معاشرے جبرا ً ہم پر مسلط کر دیتا، بعض خیالات والدین کی طرف سے ذہنوں میں ڈالے جاتے ہیں جو اُن کی اپنی سوچ کا مظہر ہوتے ہیں اور حدّ ادب کی وجہ سے اُن پر بات کی اجازت نہیں ہوتی اور رہی سہی کثر ہمارے کالج اور یونیورسٹیاں پوری کر دیتی ہیں جہاں آزاد فکر کو کچلنے کا پورا بندوبست کیا جاتا ہے۔ مگر یہ معاملہ محض آزاد فکر کو پروان چڑھانے کا نہیں، یہ معاملہ اپنی شخصیت کے خلاف جنگ کرنے کا ہے، تمام عمر ہم تعصب پر مبنی سوچ کے تحت اپنی زندگی گذارتے ہیں، اکثر فیصلے اسی متعصبانہ سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں، اپنے بچوں کی زندگیاں اسی سوچ کے مطابق پلان کرتے ہیں۔ کبھی ہمیں یہ خیال بھی چھو کر نہیں گذرتا کہ ہم غلط بھی ہو سکتے ہیں، جو کچھ ہماری سوچ کا حصہ اور شخصیت کا خاصہ بن چکا ہے اُس کو تطہیر کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے، ہم نے جو افکار اپنا لئے ہیں اُن میں کہیں درستگی بھی درکار ہو سکتی ہے! خوش قسمتی سے اگر کسی کو یہ احساس ہو جائے کہ اُسے اپنے خیالات کا تجزیہ کر لینا چاہیے تو یہ عمل بذات خود انتھک محنت مانگتا ہے، شخصیت کی تطہیر بہرحال ایک بے حد مشکل کا کام ہے جس کے لئے انتہائی ذہنی مشقت درکار ہے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ میں اپنے نظریات کی خاطر جان قربان نہیں کرسکتا کیونکہ عین ممکن ہے میرے نظریات ہی غلط ہوں! وہ برٹرینڈ رسل تھا، ہوتا کوئی پاکستانی دانشور تو پہلے برٹرینڈ رسل کے کندھوں سے اوپر چھلانگ لگا کر خود کو مسند پر بٹھاتا ا اور اُس کے بعد اپنے افکار کی حقانیت کے معاملے میں ایسی دو ٹوک رائے دیتا کہ اختلاف کرنے والے کو یہ خوف لاحق ہوجاتا کہ کہیں اختلاف کی صورت میں اس پر کوئی فرد جرم ہی نہ عائد ہو جائے۔

یہی اس قوم کا المیہ ہے۔ ہم میں سے شاید ہی کسی نے زندگی کے کسی موڑ پر رُک کر یہ سوچنے کی زحمت کی ہوکہ آج تک میں اپنے ذہن میں جن باتوں کو درست مانتا آیا ہوں، جن افکار کو اپناتا آیا ہوں، جن نظریا ت کی بنیاد پر زندگی کے فیصلے کرتا آیا ہوں کیا وہ درست بھی تھیں؟ اوّ ل تو یہ احساس ہی کبھی نہیں ہو پاتا اوراگر ہو جائے تو اِس بات کو ماننے میں ہمیں سبکی محسوس ہوتی ہے کہ پہلے ہم غلط تھے، یہ تو نا ممکن ہے، ہم تو عقل کل تھے، مجسم دانش تھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں علم و فضل کے جو موتی میں ہم بکھیرتے رہے اُن کی حیثیت ہی کچھ نہیں تھی، یہ اعتراف کرنا تو اپنے خود اپنی توہین کرنے کے مترادف ہوگا! بس یہی احساس ہمیں اپنی شخصیت کا ریویو نہیں کرنے دیتا، اکثر محفلوں میں ہماری کج بحثی کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ طاقتور دلیل کے آگے ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا مگر چونکہ ہماری زبان سےبے وزن بات نکل چکی ہوتی ہے اس لئے ہم اُس پر ڈٹ جاتےہیں کہ خود کو غلط مان لیا تو ’’بزتی ‘ ‘ ہو جائے گی۔ اِس خاکسار کی رائے تو انسان کو ہر پانچ دس سال بعد اپنے شخصیت کا ریویو کرنا چاہیے اور بے رحمانہ طریقے سے اپنے افکار کا جائزہ لینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کہاں کہاں اُن میں تعصب ہے اور کیسے اُن کی تطہیر کی جائے۔ اگر اس عمل کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچیں کہ آپ کے خیالات کو کسی قسم کی ٹیوننگ کی ضرورت نہیں تو سمجھ لیں کہ آپ نے اپنی شخصیت کا ایماندارانہ ریویو نہیں کیا۔

کالم کی دُم : آج کل میں بھی اپنے تطہیری عمل میں مصروف ہوں اور فی الحال اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زندگی میں آج تک جھک ہی ماری۔ عین ممکن ہے کہ دس سال بعد جب میں دوبارہ اپنی شخصیت کا ریویو کرنے بیٹھوں تو معلوم ہو کہ میں پہلے ٹھیک تھا اب غلط ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 140 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada