خیبر پار کے حملہ آوروں کے احسانات


آج کل تو بس فیشن سا چل گیا ہے کہ خیبر پار کے حملہ آوروں کی برائی کی جائے اور ان کے احسانات کو جھٹلایا جائے۔ کسی نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ لوگ حملہ نہ کرتے تو کیا ہوتا؟

محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، چنگیز خانی منگول، امیر تیمور، مغل، نادر شاہ درانی اور احمد شاہ ابدالی اگر برصغیر پر حملہ آور نہ ہوتے تو آج ہم اپنے میزائلوں کے نام کس پر رکھتے؟ ان حملہ آوروں کی ہی برکت ہے کہ ہمارا میزائل پروگرام اتنا زیادہ کامیاب ہے کہ بھارت اس کا نام سن کر ہی غش کھا جاتا ہے۔ اب آئے دن افغانوں سے بھی جھڑپیں ہونے لگی ہیں۔ جب یہ غوری یا ابدالی میزائل درہ خیبر کے اِس پار سے ان پر حملہ کرے گا تو ان کے کیا جذبات ہوں گے اپنے بزرگوں کی پھیلائی ہوئی ایسی تباہی دیکھ کر؟

ان حملہ آوروں کی وجہ سے اس خطے کی مالی پالیسی کو بھی استحکام نصیب ہوا۔ جب بھی افراط زر زیادہ ہونے لگتی تھی اور دو چار صدیوں کی دولت جمع ہو جاتی تھی تو خیبر پار سے کوئی حملہ آور آ کر ساری کی ساری دولت سمیٹ کر لے جاتا تھا اور ماورا النہر کے غریبوں میں بانٹ دیتا تھا یا ایران میں دان کر دیتا تھا۔ اس طرح کنیا کماری سے لے کر سمرقند اور تبریز تک ساری امت ایک جتنی بدحال رہی اور مساوات کا قابل رشک نمونہ پیش کرتی رہی۔

برصغیر میں اسلام بھی انہیں حملہ آوروں کی برکت سے پھیلا۔ کچھ عرصے پہلے کی درسی کتابیں غلط بات بتایا کرتی تھیں کہ برصغیر میں صوفیوں کی تبلیغ سے اسلام پھِیلا تھا۔ جدید علما جو کہ صوفیت کو شرک قرار دینے لگے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ اسلام ان حملہ آوروں کی برکت سے پھیلا تھا جو آتے تو محض تبلیغ کی نیت سے تھے مگر جاتے ہوئے مال و دولت کے علاوہ ہندوستانیوں کو لونڈی غلام بنا کر بھی لے جاتے تھے تاکہ ان کو ماورا النہر یا مشرق وسطی کے کسی اسلامی ملک میں بیچ کر ان کی مسلم گھرانے میں مفت رہائش اور تربیت کا بندوبست کیا جا سکے۔

اسی بارے میں: ۔  ولی خان اور میاں طفیل کے پیروکار اور پاکستان کا مستقبل

یہ حملہ آور برصغیر کی تہذیبی ترقی کے لئے نہایت اہم کردار ادا کرتے رہے۔ بابر یہاں توپ اور بندوق لایا تو ہمایوں ایرانی لے آیا جن میں سب سے اہم نور جہاں رہی جو کہ ایک توپ قسم کی ملکہ ثابت ہوئی۔

پھر نادر شاہ افشار آیا۔ اس نے سلاطین دہلی کا سب سے بڑا مسئلہ حل کر دیا۔ شہر بھر میں آبادی کا ہجوم ایسا تھا کہ بازار میں تھالی پھینکو تو سروں سر جاتی تھی۔ نادر شاہ نے تین دن کے پیہم قتل عام کے بعد یہ تمام سر قلم کر دیے جو تھالی کے لئے ایسی مشکل پیدا کر رہے تھے۔ ان دنوں دہلی پر محمد شاہ رنگیلا حکمران تھا۔ وہ سارا دن تخت طاؤس پر بیٹھا رہتا اور لاٹ صاحب کی طرح حکم چلایا کرتا۔ نادر شاہ نے اس کی اخلاقی اصلاح کا فیصلہ کیا اور جاتے ہوئے تخت طاؤس اپنے سامان میں بندھوا لیا کہ نہ تخت ہو گا اور نہ رنگیلا ایسی حرکت کرے گا۔ جاتے ہوئے وہ شہر سے تمام خزانہ بھی لوٹ کر لے گیا تاکہ ہندوستانی دولت کی وجہ سے عیش و عشرت میں پڑ کر خدا کو نہ بھول جائیں اور غربت میں توبہ استغفار پر وقت صرف کیا کریں۔

اسی اثنا میں مرہٹے طاقت پکڑ چکے تھے اور دہلی کا بادشاہ ان کے زیر اثر تھا۔ روایت پسند بزرگوں کے لئے یہ خلاف روایت حرکت ناقابل برداشت تھی کہ دہلی پر مغرب کی بجائے مشرق سے کوئی اثر انداز ہو۔ اس پر مقامی شرفا نے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھے کہ دہلی کو فتح کر کے روایت کو درست کر دے۔ احمد شاہ ابدالی اس حملے سے پہلے بھی لاہور کو متعدد بار اور دہلی کو ایک مرتبہ لوٹ چکا تھا اور برصغیر کے لاکھوں جاہل خواتین و حضرات کو وسطی ایشیا کی اعلی تہذیب سکھانے کے لئے لونڈی غلام بنا کر لے جا چکا تھا۔ احمد شاہ ابدالی آیا۔ مرہٹوں کو بھی مارا اور اس ملک میں جو بھی رہتا تھا اسے بھی خوب سبق سکھایا کہ بلاوجہ کی سپیمنگ اچھی نہیں ہوتی اور ایسے خط نہیں لکھتے۔

اسی بارے میں: ۔  شفیق الرحمن کی ’’تُزک نادری‘‘

یہ سارے خیبر پار والے حملہ آور اچھے لوگ تھے۔ سکندر سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک سب کے احسان مانتے ہوئے مقامی لوگوں نے ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھے۔ بلکہ بہت سے مقامی لوگوں نے تو اپنے بزرگوں کو بھی بعد از مرگ ان حملہ آوروں کے ملکوں سے امپورٹ کروا کر اپنا شجرہ معتبر کر لیا۔

لیکن ایک چیز ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اگر پرانے وقتوں کے بزرگ ملکی معاملات درست کرنے کے لئے خط لکھ کر خیبر پار سے حملہ آور منگوائیں تو وہ درست کیوں ہے اور اگر لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز خیبر پار والوں کو یہاں حکمرانی کرنے کی دعوت دیں تو وہ غلط کیوں ہیں؟ خیبر تو آج بھی ویسا ہی ہے جیسا دو سو سال پہلے ہوا کرتا تھا اور تخت سلطنت پر بیٹھے رنگیلے حکمران بھی ویسے ہی ہیں۔ آج بھی خیبر پار سے آنے والے حملہ آور ویسے ہی قتل و غارت کر رہے ہیں جیسے چند صدیاں قبل کیا کرتے تھے تو آج وہ برے کیوں ٹھہرے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar