انسداد دہشت گردی کا بیانیہ (آخری قسط)


imageمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دوسال پہلے اٹلی کے شہر میلان میں ایک اٹالین صحافی کی پاکستان، ہندوستان اور افغانستان پر لکھی کتاب کی تقریب رونمائی میں اپنے وطن اور اس کے سماج کے بارے میں ایسے جملے سننے کو ملے، جو مجھے اپنے ہم وطن صحافیوں اور مبصروں کے ہاں نہیں ملتے۔شاید اس کی وجہ ایک غیر پاکستانی کی زبان سے اپنا گریبان چاک ہونے کا دکھ تھا یا اپنی کم نظری کا ملال۔ بہرحال میرے لیے یہ سب کچھ حیران کن تھا۔یہاں اس دریدہ دہن اٹالین کے دو جملے ہی نقل کرسکتا ہوں کیوں کہ باقی باتوں میں نہ صرف سچائی کی شدت اور کاٹ اتنی زیادہ ہے کہ بھائی لوگ تاب نہیں لاسکیں گے بلکہ میں خود حب الوطنی کے رائج الوقت تقاضوں کے زیر اثردشنام طرازی پر اُتر آوں گا۔ اس قابل نفرت اٹالین(گوری چمڑی والے) نے کہا” پاکستان کے سماج میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا اندازہ لگانے کے لیے دس منٹ درکار ہیں۔ آپ اپنے موبائل فون سے کسی کو کال کریں اُس کی رنگ ٹون آپ کو بتادے گی کہ آپ نے جس کو فون کیا ہے اُس کا مسلک کیا ہے۔دوسری دریدہ دہنی اس کافر کی یہ تھی” کراچی سے پشاور تک سڑک کے سفر میں آپ جان جائیں گے کہ اس قوم میں لڑمرنے کی طلب کتنی زیادہ ہے کیوں کہ ہر نمایاں چوک میں جنگی طیارے،توپیں،میزائل اور حتی کہ اسلام آباد کے داخلی دروازے پر ایٹمی دھماکوں کی یاد میں چاغی کا تابکاری شدہ پہاڑ نصب ہے“ بلاشبہ اِس پاکستان دشمن گورے نے گہرے مشاہدے کی مدد سے وطن عزیز میں انسان دوستی اوربھائی چارے کی قابل قدر مثالیں بھی دیکھی ہیں جو اِس کی کتاب میں شامل ہیں لیکن ایسی باتوں کی نہ صرف تعداد زیادہ ہے بلکہ اِن میں شدت کا عنصر بہت نمایاں ہے جو پاکستان کی تاریخی معاشرت،ثقافتی تنوع،تہذیبی رنگارنگی اورصلح جوئی کے قدیم تصور کو چاٹ رہی ہیں اور پاکستانی سماج عدم برداشت کا ایک منہ بولتا شاہکار بن کر رہ گیا ہے۔
اگر ہم اپنی تازہ ترین یادداشتوں کو تھوڑا سا کریدیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج ہماری اجتماعی نمایاں ترین اداسیوں میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ غازی ممتاز قادری کو پاکستان کے دین فروش اعلی عہدیداران بالآخر پھانسی دینا چاہتے ہیں۔اس کے لیے کئی سابق اعلی منصفین اور لاتعداد مذہبی مبلغین تڑپ رہے ہیں اور اِن کو یقین ہے کہ اگر ایک بے گناہ شخص کے جذباتی قاتل کو پھانسی دیدی گئی تو پاکستان پر عذاب الٰہی نازل ہوکر رہے گا۔کسی ایک راسخ العقیدہ ذہن میں اِن واقعات کی ایک رمق بھی نظر نہیں آئے گی کہ کس طرح عاشقان کے ایک منہ زور ہجوم نے احمد پورشرقیہ کے بازار میں ایک باقاعدہ پاگل قرار دئیے گئے شخص کو پہلے اینٹوں ،پتھروں اور کاٹھ کباڑ کے ٹکڑے مار مار کر ادھ موا کیا اور پھر تیل چھڑک کر آگ لگادی۔قصور میں ایک غیر مسلم نوبیاہتا جوڑے کو اینٹوں کے بھٹے میں جلا کر خاکستر کر دیا، گوجرہ، لاہور اور جہلم میں ہجوم سے مختلف مذہبی عقائد کے حامل لوگوں کے جان و مال کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ کہیں کسی ایک بھی واقعے میں ملوث گروہوں یا افراد کو قرار واقعی سزا نہیں دی جا سکی۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر آج ایسے لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جائے تولاتعداد فتویٰ بردار سامنے آجاتے ہیں ۔فروغ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تمام تر چشمے اپنی پوری قوت کے ساتھ ابل رہے ہیں اورہم جیسے ہیچمدان انسداد دہشت گردی کے متذبذب بیانیوں کی ابتدائی جزیات پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے جتنی ضرورت سماجی سطح پر متحرک ہونے کی آج ہے شاید ماضی میں کبھی نہ تھی۔ یقینی طور پر ایسے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی مدد کی ضرورت ناگزیر ہے۔ موجودہ سیاسی صورت حال اور سیاسی جماعتوں کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو حوصلہ شکنی کے لیے کافی مواد موجود ہے، لیکن چاروناچار یہی ایک دروازہ ہے جس کو ہوش مندی کے ساتھ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہے جہاں سے خیر کی توقع ہے۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے بارے میں جس قدر حوصلہ شکن عقائد آج پھیل چکے ہیں اِن کا سہرا بھی ملکی مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے سر ہے، جو نہ صرف سیاسی جماعتوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں بلکہ مشکل حالات میں اِنہی سے تحفظ بھی حاصل کرتے رہے ہیں اور یہ صورت حال آج بھی جوں کی توں ہے۔اس معاملے میں ہمیشہ سے طاقت ور ہیئت مقتدرہ کے کردار کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو گاہے بگاہے اپنے مفادات کے لیے کٹھ ملاوں اور سیاسی جماعتوں کو باہم جوڑتی رہی، جس سے ریاست میں نہ صرف عدم استحکام بڑھتا رہا بلکہ عام لوگوں کا سیاسی جماعتوں سے بھی اعتماد اُٹھ گیا اور سماجی تناظر نہ صرف مزید اُلجھ کر رہ گیا بلکہ انتہا پسند گروہ زیادہ موثر اور طاقت ور نظر آنے لگے۔یہی وجہ ہے کہ آج سیاست دان نہ صرف غیر موثر نظر آتا ہے بلکہ بدعنوان بھی قرار دیا جاچکا ہے جب کہ جس کی ایما پر اس کی یہ حالت ہوئی ہے وہ نہ صرف ایمانداری کا محور ہے بلکہ نجات دہندہ کے طور پر بھی نظر آنے لگا ہے۔یہی وہ بنیادی مخمصہ ہے جو سماج کو ادھیڑنے میں کارگر ثابت ہوا ہے۔اس صور ت حال کا کراہت آمیز اثر ملک کے دانش ورقرار دئیے گئے راسخ العقیدہ ذہن پر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا راسخ العقیدہ دانش ور اے این پی کے قائد اسفند یار ولی کے نا معلوم اثاثوں کی کھوج میں بھارت تک کا افسانوی سفر کر لیتا ہے حافظ سعید کے معلوم اثاثوں کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔وہ نہایت رقت آمیز انداز میںغازی عبدالرشید اور غازی ممتاز قادری کے بارے میں داستانیں رقم کرتا ہے، جاوید غامدی کی جبری جلاوطنی سے صرف نظر کر لیتا ہے۔صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اگر مولانا فضل الرحمن خلیل،حافظ سعید،مولانا محمد احمد لدھیانوی اور اس طرح کے لاتعداد مولانا پاکستان کے مختلف شہروں میں اسٹیج سجائیں تو تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر وہاں جانے کے لیے ترستے ہیں لیکن کوئی ایک سیاسی جماعت یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے سدباب کے لیے کسی شہر میں چھوٹی سی کانفرنس کا انعقاد کر لے، یہی کام اگر لبرل فاشسٹ قرار دئیے گئے چند نفوس کرنے کی کوشش کریں تو اِنہیں جوتے پڑتے ہیں۔
جب تک ملکی سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ وہ پاکستانی سماج میں انتہا کو پہنچی ہوئی مذہبی عدم برداشت اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے سدباب کے لیے آگے بڑھیں، مسئلہ حل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ دیواریں اونچی کر لینا اورلائسنسی اسلحہ حاصل کر لینا تحفظ کی ضمانت نہیں بلکہ خطرات کی شدت میں نفسیاتی اضافے کا اعلان ہے۔یقینی طور پر ہمارے سکولوں کے معصوم بچے کلاشنکوف بردار دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن یہی بچے اس سوچ کا حتمی قلع قمع کرسکتے ہیں جو دہشت گردی کا ماخذ ہے۔جب اِنہیں یہ بتایا جائے کہ اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا اور اسلام دوسرے مذاہب کا مکمل تحفظ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ریاست مذہب کی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھتی بلکہ ریاست کی نظر میں سب انسان برابر ہیں چاہے ان کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔یہ کام سیاسی قیادت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ کام مذہبی ٹھیکیدار کر سکتے ہیں کیوں کہ ان کی ذہنی ساخت ہی رواداری کے تصورات کے برعکس تکمیل پاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کٹھ ملاں رواداری کا درس نہیں دے سکتا، اور اگر ایسا کرنے کوشش کرے گا تو دوسرے ملاں اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ایک جمہوریت پر یقین رکھنے والا عام سیاست دان ہی آسانی کے ساتھ یہ کام کرسکتا ہے کیوں کہ جمہوریت کی ابجد ہی رواداری کے تصور سے شروع ہوتی ہے اور عوام کی ساخت ہی میں راوداری کے اجزا پوری قوت کے ساتھ موجود ہوتے ہیں،شرط یہ ہے کہ انہیں سماجی اورمعاشی رواداری کے تحفظ کا احساس دلایا جائے۔ پھر دفتروں میں بیٹھ کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے بیانیے تیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی اس کام کے لیے بھاری معاوضوں کے عوض ’سیانے‘ کرایے پر حاصل کرنا پڑیں گے۔یہی وہ بنیادی ڈھال ہے جس کی حتمی تعمیر عوام ہی کرسکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “انسداد دہشت گردی کا بیانیہ (آخری قسط)

Comments are closed.