کشمیر میں اسلام، خواتین اور تشدد: تاریخ کشمیر


ریاست جموں کشمیر کے ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام حصوں کے بارے میں متضاد عبارتیں لکھی گئی ہیں اور پڑھی جارہی ہیں۔ 1947 ء سے پہلے کی تاریخِ کشمیر چار مرحلوں میں منقسم ہے۔ ہندوؤں اور بودھوں کا راج، مسلمانوں کی حکمرانی، سکھوں کی کامرانی اور ڈوگرہ شاہی۔ 1200 عیسوی کے آس پاس شاعر اور مورخ کلہن نے 1182 ق م سے کشمیر کی تاریخ کو راج ترنگنی نام سے تفصیلاً بیان کیا ہے۔ اِس رمزیہ مثنوی میں کلہن نے کشمیر کے ناگ قبیلے کے بارے میں لکھا ہے، جنہوں نے کاشتکاری کے پیشے کو اختیار کیا تھا اور بُت پرست تھے۔ سال 1486 میں تاریخ کشمیر کو پنڈت جونا راجا نے مرتب کیا۔ سری وارا اور پرجایا بھٹا نے اِس میں 1586 تک کے حالات جوڑ دیئے اور مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں کشمیر کو فتح کرنے کا حال بھی بیان کیا۔ (صوفی 1:1979)
ابتدائی مرحلے میں ہندومت کشمیری تہذیب اور سماج میں رچ بس گیا۔ لیکن موریہ مہاراجہ اشوک، جس نے اب بدھ مت اختیار کیا تھا، کے دور میں ہندو مت کو زبردست خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ ذات پات کا آرایشی نظام، ظاہری رسومات اور دیوی دیوتاؤں کے بیشمار روپ بدھ مت کی سادگی پسندی کے آگے ٹک نہ سکے۔ اور وادی میں بدھ مت کو ہی عروج ملا۔ اشوک کی حکومت کے دوران کشمیر میں تعمیر ہوئی بودھ خانقاہیں علم وفضل سیکھنے کے مراکز بن گئیں۔ اور وادی کو مذہبی اور تہذیبی مدار کی اہمیت حاصل ہوئی۔ 711 میں فوجی طاقت، سیاسی بالادستی اور مذہبی تعلیم پھیلانے کے نتیجے میں اسلام کو بدھ مت پر غلبہ حاصل ہوا۔ مسلمانوں کی فتوحات نے 1339 تک وادی میں ہندومت اور بودھ مت کے نشانات کا صفایا کردیا۔ اِس سے قبل کشمیر پر تاتاروں کے امکانی حملے کی وجہ سے لوگوں میں خوف ودہشت پھیل گیا تھا۔

راجہ سہہ دیوا کشمیر کے کمانڈران چیف نے وادی پر منڈلاتے جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے سوات (اب پاکستان میں شامل) کے شاہ میر اور تبت کے رینچن شاہ سے مدد کی درخواست کی۔ رینچن شاہ کے فوری اور مثبت جوابی اقدام سے تاتاریوں کے حملے کا خطرہ ٹل گیا۔ اِس کے ساتھ ہی رینچن شاہ نے شاطرانہ حکمت اپنا کر کمانڈران چیف کو قتل کر دیا اور اس کی بیٹی کوٹہ رانی سے شادی رچائی۔ اِس طرح سے رینچن شاہ نے کشمیر کا تخت حاصل کیا۔ اُس نے ساتھ ہی اسلام میں اپنی شمولیت کا بھی اعلان کر کے اپنا نام صدر الدین رکھا)لارنِس (179:200-2005 چودھویں صدی میں وادی میں اسلام کی بالادستی کو استحکام بخشنے کے لئے سلسلہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانیؒ شاہ ہمدان وارد کشمیر ہوئے۔ شاہ ہمدانؒ کشمیر کے سلطان شاہ میر کے دور میں پہلی بار یہاں تشریف لائے۔ شاہ میر نے سلطان صدر الدین کی وفات کے بعد کشمیر کا تخت سنبھالا تھا۔

سلطان سکندر نے وادی میں سب سے پہلے اسلامی قوانین نافذ کردیئے۔ وہ 1394 میں تخت کا ورث ہوا۔ سکندری دور کے تعمیراتی عجوبے تاریخی نوعیت کے ہیں اور آج بھی واجب الاحترام ہیں۔ سکندر نے سکندر پورہ شہر بسایا، جواب سرینگر کا نوہٹہ علاقہ ہے، اور یہاں خوبصورت جامع مسجد بھی تعمیر کی۔ دریائے جہلم کے کنارے پر خانقاہ معلی کی شاندار تعمیرات بھی اِسی دور کی نشانی ہے۔ میر سید علی ہمدانیؒ نے اِسلامی عقیدے کو اِسی خانقاہ کے سائے میں بیٹھ کر پھیلایا۔ سکندر کے بعد زین العابدین (1420-70) کا دورہ آیا۔ بڈشاہ نام سے مشہور زین العابدین نے ہُنر پیشوں کو پھیلانے کی سرپرستی کی۔ انہوں نے مذہبی رواداری کو استحکام بخشا اور ناروا امتیازی قوانین کا خاتمہ کردیا۔ زین العابدین کے دور کو تا ایں دم امن، اخوت اور دانشوری کو فروغ دینے کے لئے یاد کیا جارہا ہے۔ اور اِس پر فخر کیا جاتا ہے۔ بڈشاہ کے یہ اوصاف ایک طرف، زین العابدین اپنے بیٹے حیدرشاہ کو وارث بنانے کے لئے ضروری تربیت نہ دے سکا۔ 1561 میں چک قبیلے کے ہاتھوں حیدر شاہ کی شکست سے کشمیر کے پہلے مسلمان خاندان کا راج ختم ہوا۔ (لانِس 200-179:2005،رحمان ۔1996، رائے ۔ 27:2004)
اِس کے ساتھ ہی 1589 میں مغل شہنشاہ اکبر کی مضبوط فوج نے گھیرا ڈال کر کشمیر کو فتح کیا۔ اکبر کے پوتے شاہجہان نے لداخ، بلتستان اور کشتواڑ پر چڑھائی کرکے اِن علاقوں کو 1634 میں کشمیر میں ضم کیا۔ 1753 میں مغل دور کا اختتام کرنے کے لئے افغان فوجی کمانڈر احمد شاہ درانی نے کشمیر میں ظلم وستم اور فوجی دست درازی سے کام لیا۔ افغان فوجی کمانڈر احمد شاہ درانی نے کشمیر میں ظلم وستم اور فوجی دست درازی سے کام لیا۔ افغانوں کے اِس اقتدار کو بے پناہ استبداد، تہذیبی جارحیت، مذہبی بے اعتدالی، ہنرمندی کا خاتمہ اور انسانیت کا جنازہ نکالنے کے لئے تاریخ کا سیاہ ترین دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ افغان دور 1819 تک جاری رہا اور بے اعتدالی کے اِس عرصے کے دوران کشمیری عوام بیرونی امداد کے لئے جستجو کرتے رہے۔

بیر بل کی سرکردگی میں پنڈت سماج کے لوگ سکھوں کو کشمیر فتح کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ بیر بل نے حملہ کے لئے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پیش کش کی۔ رنجیت سنگھ نے 30ہزار سکھوں پر مشتمل فوج کی مدد سے کشمیر پر حملہ کیا اور 15 جون 1819 کو وادی فتح کی۔ مسلمانوں کے پانچ سو سالہ اقتدار میں نوے فیصدی کشمیریوں نے حملے کو گلے لگالیا اور اب کشمیر پھر سے غیر مسلموں کی قلمرو میں آگیا۔ (رحمان 12-1996)
افغانوں کی شکست کو کشمیریوں کی فتح تو کہا جاسکتا ہے، پر 27 سالہ سِکھ دور حکومت افغانوں سے بھی بدتر ثابت ہوا۔ سکھوں نے بربریت اور ظلم وستم میں سابق دور کا ریکارڈ مات کیا۔ بنیادی سطح کے لوگوں کو بھی امتیازی پالیسیوں کا شکار بنایا گیا۔ مسلمانوں کو خاص طور سے ظلم وجبر سے بچ نکلنے کی مہلت نہ دی گئی۔ (ملک 2002، ینگ ہسبنڈ 1970)
1820 کے آس پاس کشمیر وادی کے ہمسایہ میدانی علاقوں پر راجہ گلاب سنگھ کی حکومت تھی۔ گلاب سنگھ سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کا باج گزار تھا۔ رنجیت سنگھ نے 1822 میں گلاب سنگھ کو جموں ریاست کے تخت پر بٹھا دیا۔ رنجیت سنگھ کی طاقت اور سربراہی میں گلاب سنگھ نے 1834 میں سکھ سلطنت کے نام پر اپنے علاقے کو چین کی سرحد لداخ تک وسعت دی۔ 1840 میں بلتستان کو بھی فتح کیا۔ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد سکھوں کے انگریزوں کے ساتھ تب تک کے ہمدردانہ تعلقات زوال پزیر ہونے لگے۔ انگریز ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے لبادے میں اپنے کنٹرول کو وسعت دے رہے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نام کے لئے تجارتی ادارہ تھا، اور اصل میں ہندوستان اور دیگر نو آبادیاتی ریاستوں پر اٹھارویں صدی کے وسط سے معاون فوجی اور سرکاری اختیارات حاصل کرنے میں بھی لگی ہوئی تھی۔ اِسی دوران سکھ دربار میں انقلابی اُتھل پتھل سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں تشویش پیدا ہوگئی۔ کمپنی کو ہندوستان کی شمال مغربی سرحدوں پر رُوسی حملے کا خدشہ محسوس ہوا۔ برطانیہ کی جانب سے 1845 میں سکھ سلطنت کے معاملات میں مداخلت کرنے کے نتیجے میں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان پہلی لڑائی کے لئے میدان ہموار ہوا۔ اِس لڑائی کے دوران گلاب سنگھ کی غیر جانبدارانہ حکمت عملی کی وجہ سے انگریزوں کا پلہ بھاری رہا۔ گلاب سنگھ کی فوجی طاقت، سیاسی بصیرت اور مہم پسندی رائیگان نہیں ہوئی۔ (لارنس 200-03:2005، رائے 20-07:2004، خان 1978)۔
برطانوی حکومت کے لئے خدمات کے عوض کشمیر، لداخ، گلگت اور چناب کے علاقہ جات کو پچھتر لاکھ روپے کی حقیر رقم کے عوض گلاب سنگھ کے حوالے کیا گیا۔ گلاب سنگھ کو کشمیر حاصل کرنے پر خرچ رقم انگریزوں کو ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ معاہدے کے مطابق ایک کروڑ روپے کا تاوان ادا ہونا تھا۔ بعد میں انگریزوں کو دریائے بیاس کے ساتھ کلو اور منڈی کے علاقے اپنے ساتھ رکھنے کے عوض گلاب سنگھ کو 25 لاکھ روپے کی چھوٹ دی گئی۔ (سکو فیلڈ 56-2002 )۔ 1845 میں اچانک جنگ ہوجانے سے قبل انگریزوں اور سکھوں کے درمیان سیاسی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوگیا تھا۔ اِن تناؤ پُر حالات کے دوران گلاب سنگھ نے اہم رول ادا کیا، جو بہت بڑے تضاد کا باعث بن گیا۔ کیا اُس نے انگریزوں کے ساتھ چوری چھپے ساز گانٹھ کیا تھا اور دوسری جانب سکھوں کو اعتماد میں لے رکھا تھا؟ کیا اُس نے دونوں کے درمیان گفت وشنید کا ایسا طریقہ اختیار کیا تھا، جس کا منفی نتیجہ نکلا؟ انگریزوں نے سکھوں سے کشمیر حاصل کرنے کے بعد اِس کو معمولی رقم کے عوض کیونکر گلاب سنگھ کو فروخت کیا؟

جاری ہے

___________

یہ مضمون نائلہ علی خان کی کتاب Islam, Women, and Violence in Kashmir: Between India, and Pakistan سے لیا گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 20 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan