ڈھولا لمے نہ ونج او۔۔۔۔!


رات گئے اپنے گائوں جیسل کلاسرا پہنچا ہوں۔ نعیم بھائی کی برسی ہے۔ رہتا اسلام آباد میں ہوں لیکن دھیان اور دل یہاں کے قبرستان میں رہتا ہے جہاں پیارے دفن ہیں۔
لندن کے دوستوں نے کئی برس پہلے زور دیا تھا کہ اب یہاں آئے ہو تو شہریت لے لو۔ میں نے کہا ہم سرائیکی پردیس سے بہت ڈرتے ہیں کیونکہ ہمیں ”مونجھ‘‘ مار ڈالتی ہے۔ ہمارے تو لوک گیتوں میں کہا جاتا ہے ” ڈھولا لمے نہ ونج او، لما دور دا پھند اے، لمے دے لوگ گالھ نال ٹھگیندن‘‘ ( پردیس نہ جائو۔ بہت دور کا سفر ہے۔ سنا ہے وہاں کے لوگ ہمارے جیسے معصوم لوگوں کو باتوں باتوں میں ٹھگ لیتے ہیں۔)
سردیوں میں گائوں آنے کا اپنا رومانس ہے۔ یاد آتا ہے، ایک بڑے ادیب نے نوبل پرائز کی تقریب میں جا کر انعام لینے سے انکار کردیا تھا کہ جس دن تقریب ہے، اس کے بعد آنے والی شب وہ ہے جسے وہ ہر سال دور دراز مقام پر ایک ایسی جگہ گزارتا ہے جو اس کی روح کے اندر بستی ہے، وہ اس انعام کے لیے اس رات کو قربان نہیں کرسکتا۔ میرا بھی دل چاہتا ہے وقت رک جائے،کوئی نہ بلائے، کوئی نہ ملے، بس خاموشی، گہری خاموشی ہو۔۔۔ دور دور تک! پھر گائوں میں بہن کے ہاتھ کی پکی ہوئی مسورکی دال جس کے میرے بچے بھی دیوانے ہیں۔
رات کو گائوں پہنچا تو میرا بھانجا منصور جاگ رہا تھا۔ وہ کچھ دن پہلے اسلام آباد آیا تھا۔ وہی منصور جس نے برسوں پہلے پی آر سی میں نوکری کے لیے
درخواست دی تھی کہ میرے دوست ڈاکٹر ظفر الطاف اس کے چیئرمین ہیں۔ ریفرنس میں میرا نام لکھ آیا تھا اور میں نے اسے منع کیا تھا کہ جائو درخواست واپس لے لو۔ مجھے لگا وہ کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن جھجک رہا ہے۔ اصرار کیا تو بولا پتا نہیں آپ کو کیا لگے؟ حوصلہ افزائی کی تو بولا دراصل اس نے ایک انتہائی غریب علاقے میں حکومت کی پالیسی کے تحت سکول لیا ہے۔ یہ سکول اس نے پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن سے لیز پر لیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان سکولوں کو لیز پر دیا گیا تھا جن کے نتائج برے تھے۔ منصور نے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ کہنے لگا جتنی غربت ان علاقوں میں دیکھی وہ بیان سے باہر ہے۔ بچوں کے پاس کپڑے جوتے تک نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ انہی سردیوں میں کچھ ماہ پہلے ہی ایسے غریب بچوں کے لیے وہ راولپنڈی کی ایک مارکیٹ سے جیکٹیں،جوتے، جوگرز اور جرابیں لے گیا تھا۔ میں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
اب وہ میرے پاس دفتر بیٹھا تھا کہ ان بچوں کے سکول میں کوئی لائبریری نہیں، کہانیوں کی کتابیں نہیں، میں چاہتا ہوں جو ہم نے ڈاکٹر نعیم کلاسرا ٹرسٹ بنایا ہوا ہے اس کی تحت سکول کے لئے بچوں کی کہانیاں خرید کر دیں۔ میں نے کہا ایک کام کرنا کہ پرانی کتابیں نہ خریدنا۔ مجھے اپنا بچپن یاد ہے، پرانی کتاب بچے کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی۔ اگلے دن وہ نیشنل بک فائونڈیشن اور دیگر دکانوں سے کتابیں خرید کر مجھے دکھانے لایا۔ ہنس کر کہنے لگا کہ دکاندار حیران ہوتے ہیں کہ اتنے دوردراز علاقے میں کن بچوں کو کہانیوں کا شوق ہوگیا ہے۔ یہاں تو شہروں میں کوئی بچوں کی کہانیاں نہیں پڑھتا اور آپ لیہ کے پس ماندہ گائوں کے سکول کے لئے درجنوں کے حساب سے کہانیاں خرید کر لے جا رہے ہو۔ منصور بولا کہ اب پنڈی اسلام آباد کے دکاندار نہ صرف اس کی عزت کرتے ہیں بلکہ رعایت بھی کرتے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن والے بھی بہت رعایت کرتے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو داد دینی پڑے گی کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے منصور کو یہ جان کر زیادہ رعایت دی کہ وہ جنوبی پنجاب کے بچوں کے لیے کہانیوں کی کتابیں لے کر جا رہے ہیں۔
منصور اب تک بچوں کی 3500 کتابیں خرید کر تین سکولوں میں نعیم بھائی کے نام پر لائبریریاں بنا چکا ہے۔ منصور بولا اب علاقے کے دیگر سکولوں کے سربراہ بھی بچوں کی کہانیاں مانگ رہے ہیں۔ سرکاری سکول تک بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بچوں کو بھی لا کر دو۔ میں نے منصور سے کہا چلیں اس کا بندوبست کرتے ہیں لیکن ایک بات مجھے ڈسٹرب کرتی ہے۔ کیا ان بچوں کو استاد یہ کہانیاں پڑھنے کے لیے بھی دیں گے یا پھر لائبریری میں ہی انہیں دیمک کھا جائے گی؟
مجھے یاد آیا کہ اپنے جیسل کے پرائمری سکول میں بھی ایک الماری میں بچوں کی کہانیاں قید رہتی تھیں۔ ہم بچے للچائی ہوئی نظروں سے اس بند الماری کو دیکھتے۔ استاد گل محمد مجھ سے مہربانی کرتے اورکہانیوں کی ایک آدھ کتاب دے دیتے۔ لیکن زیادہ تر کتابیں بند رہتیں۔میں نے کہا منصور، ان کہانیوں کا بھی وہی انجام تو نہیں ہوگا جو ہمارے بچپن میں سکول کی کہانیوں کا ہوتا تھا۔ اگر اب بھی یہی ہونا ہے تو پھرکوئی فائدہ نہیں۔ منصور سے کہا، سب استادوں کو بتانا کہ پلیز بچوں کو کہانیوں کی کتابیں دیں۔ انہیں کہیں گھر جا کر ماں یا دادی کو روزانہ ایک کہانی پڑھ کر سنائیں، وہ اگلے دن سکول لے آئیں اور دوسری کہانی سکول سے گھر جاتے لے جائیں۔ ضائع یا کھونے کا غم نہ کریں اور نہ ہی کتاب کے خراب یا گم ہونے پر بچوں کو جرمانہ کریں یا نئی کتاب خرید کر جمع کرانے کا دبائو ڈالیں۔
مجھے یاد آیا، لندن میں کچھ عرصہ رہا تو میرے دونوں بچے سکول سے کہانیاں لاتے اور ہدایات ہوتیں کہ یہ بیڈ ٹائم اسٹوریاں انہیں رات کو سنانی ہیں۔ پاکستان لوٹا تو کسی سکول میں یہ نظام نہ پایا۔ سب کو پیسہ چاہئیں۔ بھاری فیسیں چاہیں۔ بچے بیڈ ٹائم اسٹوریز کے نام سے ہی آگاہ نہیں۔ بچوں کو کتاب پڑھنے کی عادت بچپن سے ڈالی جاتی ہے۔ لیکن افسوس سکول کے پاس وقت ہے نہ والدین کے پاس۔
منصور سے بات کر رہا ہے تھا کہ گائوں کے سکول کے نوجوان ہیڈ ماسٹر عمار کا موبائل فون پر پیغام ملا کہ اب سرکاری سکولوں میں صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے بچوں کو پڑھانا چھوڑ دیا ہے۔ وہ یہاں انگریزی کے نام پر کھلے سکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ اب سرکاری سکول محض غریب بچوں کے لیے رہ گئے ہیں جن کے پاس قلم خریدنے تک کے بھی پیسے نہیں، وردی خریدنا دور کی بات ہے۔ تن بدن پر مناسب کپڑے نہیں، جوتے نہیں۔ عمار اچھا استاد ہے، نوجوان ہے، مقابلے کے امتحان کے بعد سلیکٹ ہو کر آیا ہے، لہٰذا اس میں جوش اور جذبہ ہے۔ گائوں کے سکول میں محنت کرتا ہے۔ وہ میری بھائی یوسف کے بعد وہاں آکر لگا ہے۔ یوسف بھائی دو سال پہلے ریٹائرمنٹ سے دس دن پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یوسف بھائی بھی جنونی استاد تھے۔ سارا دن بچوں کو پڑھانا اور شام کو ان بچوں کے والدین کو ڈھونڈنا جو سکول نہیں بھیج سکتے تھے۔ عمار بتا رہا تھا کہ ان غریب بچوں کے لیے کچھ کریں۔ انہیں اسٹیشنری لے کر دیں۔ انہیں سکول کا یونیفارم لے کر دیں۔ عمار نے ایک estimate دیا۔ میں نے کہا حاضر سائیں لے کر دیتے ہیں۔ مجھے اپنے گائوں کے سکول کے اس نوجوان پڑھے لکھے ہیڈ ماسٹر عمار کا یہ جوش اور جذبہ اچھا لگا۔ کہاں رہے اب ایسے استاد جو غریب بچوں کے لیے وردیاں، جوتے اور اسٹشنری مانگ مانگ کر اکھٹی کرتے پھرتے ہوں۔
منصور بیٹھا بتا رہا تھا کہ اب وہ ہر ہفتے سکول میں بیٹھ کر ان کہانیوں کا پیریڈ خود لیتا ہے۔ میں نے کہا، منصور ایسا پیریڈ تو روز ہونا چاہیے، ہفتے بعد کیوں؟ میں نے کہا منصور ایسا کروکہ پورا ہفتہ ان بچوں کو کہانیاں دے کر گھر بھیجا کرو۔ ہفتے بعد سب بچوں سے کہا کرو اب جس کو کہانی یاد ہے وہ کھڑے ہو کر سب کو سنائے۔ منصور حسب عادت بولا جی ماما جی۔ بھارتی اداکار سنجے دت کا انٹرویو یاد آیا۔ جب پوچھا گیا بیٹی کا کیا نام ہے۔ بولے اقرا۔ پوچھا گیا نام کا مطلب تو جواب دیا تھا کہ قرآن پاک کا پہلا لفظ اقرا ہے یعنی پڑھو۔۔۔!
میں نے چار سُو پھیلی دھوپ میں چارپائی پر لیٹے لیٹے آنکھیں موند لیں اور بچپن کا وہ لوک گیت گنگنانے لگا۔۔۔ ڈھولا لمے نہ ونج او۔
 

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔