سوشل میڈیا اور صوبائی عصبیت


سوشل میڈیا کے فتنے سے ہمیں خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی وحدت کو اس سے خطرات لاحق ہیں۔
چند روز پہلے ایک ویڈیو کو بہت پھیلایا گیا۔ عنوان یہ دیا گیا کہ پختونوں کے ساتھ سندھ پولیس تشدد کر رہی ہے۔ تاثر یہ تھا کہ پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ایک مہم کے تحت ‘پنجابی پختون‘ جھگڑا کھڑا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے جو سالوں سے جاری ہے۔ مضمون باندھا گیا ”پختونوں کے ساتھ زیادتی نے زور پکڑ لیا۔ پنجاب کا ہر تھانہ پختونوں سے بھرا تھا۔ اب سندھ نے بھی ( یہی ) شروع کر دیا‘‘۔
ایک آدھ دن میں واضح ہو گیا کہ یہ سکھر کی ایک ویڈیو ہے جہاں کھوسہ قبیلے کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور پولیس حسبِ عادت و روایت انہیں روک رہی ہے۔ پولیس کی عادت اور روایت پہ روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ اس واقعے میں پولیس سندھ کی ہے، متاثرین بھی سندھی ہیں اور شکایت بھی سندھ سے متعلق ہے، پختونوں کا کہیں دور دور تک ذکر نہیں۔ یہ تو اﷲ کا شکر ہوا کہ عینی شاہدین نے اس کی تردید کی، ورنہ فتنہ گروں نے تو اسے فساد بنانے میںکوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ‘رد الفساد‘ کے اصل مخاطب تو یہ کردار ہیں، انہیں سزا دینے کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا۔ پاکستان میں بھی اگر کوئی علاقہ سب سے زیادہ شکار ہوا تو وہ فاٹا ہے، جہاں سب پختون بستے ہیں۔ دہشت گردوں کی کارروائی ہو یا ریاست کا جوابی اقدام، دونوں صورتوں میں یہاں کے لوگ نشانہ بنے۔ یہاں کے مکین مارے گئے اور ساتھ ہی نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے۔کے پی کا صوبہ ہمسایہ ہونے کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوا؛ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو سب سے زیادہ افرادی قوت یہیں سے میسر آئی۔ یہیں دہشت گردی کا فتنہ پھلا پھولا اور یہیں وہ نرسریاں آباد ہوئیں جہاں دہشت گرد تیار ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ملک بھر میں لوگوں کو رائے قائم کرنے میں مشکل پیش آئی۔ کچھ نے ایک مہم کے تحت پختونوںکو ہدف بنا لیا۔ دہشت گردی کا اگر کوئی مذہب نہیں تو اس کی قومیت کیسے ہو سکتی ہے؟
‘پنجابی طالبان‘ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی خیالی وجود کا نام نہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو منوایا اور اب تو پنجاب حکومت بھی بالفعل ان کے وجود کو تسلیم کر چکی۔ پنجاب کا ایک بڑا علاقہ ان کی پناہ گاہ ہے۔ یہ ایک مقامی گروہ ہے اور اس کی جڑیں صوبے بھر میں ہیں۔ اگر پنجابی طالبان کا مطلب پورا پنجاب نہیں ہے تو ٹی ٹی پی کو بھی پختونوں سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔ دہشت گرد کو دہشت گرد ہی سمجھنا چاہیے۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ معاشی وسائل واسباب کے پھیلائو نے صوبائی حدوںکو ختم کر دیا ہے۔ کراچی کو پختونوں کا سب سے بڑا شہر کہا جاتا ہے۔ کراچی جب معیشت کا مرکز تھا تو لوگوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کی اور یہاں آ کر آباد ہو گئے۔ پنجاب میں معاشی ترقی ہوئی تو پنجاب پختونوں کا صوبہ بن گیا۔ اس وقت راولپنڈی شہر کی تجارت پر پختونوں کی گرفت ہے۔ لاہور میں بھی یہی دکھائی دیتا ہے۔ جب پختونخوا میں معاشی ترقی کے اسباب اور عوامل پیدا ہوں گے تو نقل مکانی کا یہ عمل رک جائے گا۔ یہ معیشت کا سادہ سا اصول ہے ، جس کو سمجھ لیا جائے تو پختونوں کے اس پھیلائو کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ نقل مکانی کا عمل حکومتوں کی کارکردگی کو پرکھنے کا بھی ایک پیمانہ ہے۔
یہ بھی امر واقعہ ہے کہ تاریخی طور پر کسی صوبے نے پختونوں کے لیے کسی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایسا ہوتا تو کراچی پختونوں کا سب سے بڑا شہر نہ بنتا۔ ایوب خان کے دور میں ان کے پسران ایک حادثے کا باعث بنے ورنہ وہاں حالات پر سکون ہی رہے۔ نقل مکانی اور وحدت (Integration) کا عمل معاشی عوامل کے تحت آگے بڑھا۔ پنجاب میں بھی یہی ہوا۔ مجھے یہاں بھی کبھی کوئی تعصب دکھائی نہیں دیا۔ جدید معاشی عوامل نے ‘ قومیت‘ کی اس سیاست کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر ماضی میں سیاسی دکانیں آباد کی گئیں۔کے پی کا پختون افغانستان سے نہیں، پاکستان سے تعلق رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ کابل اور قندھار پر اسلام آباد اور لاہورکو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے مفادات یہاں زیادہ محفوظ ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ ‘شناخت‘ بہرحال ایک سماجی عمل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ پختون یا سندھی شناخت کا احساس، اس معاشی تعامل کے باوجود کم نہیں ہوا۔ پنجاب ملک کا کم و بیش ساٹھ فیصد ہے۔ پنجاب اگرچہ کئی ثقافتی اکائیوںکا مجموعہ ہے لیکن خارج سے اسے ایک وحدت ہی سمجھا گیا۔ آبادی کی وجہ سے ظاہر ہے کہ اقتدار میں پنجاب کا حصہ زیادہ ہے لیکن اگر پنجاب کو انتظامی طور پر تقسیم کر دیا جائے تو یہ تاثر ختم ہو جائے گا۔ ‘شناخت‘ کا عمل البتہ اپنے طور پر باقی رہے گا جسے ایک سماجی عمل کے طور پر سمجھنا ہو گا۔
تہذیبی یا ثقافتی شناخت صدیوں کے تعامل کا نتیجہ ہو تی ہے، اسے بآسانی ختم نہیں کیا جا سکتا۔اس پر اصرار میں بھی کوئی حرج نہیں تاہم اگر یہ دوسروں کے خلاف کسی تعصب یا احساس ِ برتری پر قائم ہو تو دوسری شناختوں کے ساتھ نباہ مشکل ہو جاتا ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ پختون نو جوانوں میں شناخت کا احساس گہرا ہوا اور کہیں کہیں یہ تعصب میں بھی ڈھل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض عناصر سرگرم ہیں جو اس تاثر کو گہرا کر رہے ہیں کہ پختون عصبیت کو پنجاب یا سندھ سے کوئی خطرہ ہے۔اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام خود پختون حلقوں کو کرنا ہوگا۔ اس وقت لازم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایسے کسی تاثر سے محفوظ رکھا جائے۔
دہشت گردی پاکستان کا مسئلہ ہے۔ سماجی اور معاشی تعامل کی وجہ سے، سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر لاہور میں خدا نخواستہ کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو پختون یہاں بھی موجود ہیں۔ یہی معاملہ پشاور کاہے۔ سی پیک کے نتیجے میں یہ تعامل مزید بڑھے گا۔ لوگوں کی ایک دوسرے کے علاقوں میں آمد ورفت میں اضافہ ہو گا۔ اگر ہم نے شناخت کے اس عمل کو فطری دائرے میں نہ رکھا تو اس کے مضر اثرات سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ دہشت گردی پختون بھی ہو سکتا ہے اور پنجابی بھی۔ ہمیں اس معاملے کو اسی نظر سے دیکھنا ہوگا۔
سوشل میڈیا ایک فتنہ بن چکا ہے۔ اس سے جس طرح مذہبی جذبات کاا ستحصال ہوتا ہے، وہ بھی امرِ واقعہ ہے۔ ایک تصویر کو بلا تحقیق کسی خاص علاقے سے منسوب کر کے نفرتوں کو ہوا دی جا تی ہے۔ اس طرح اب صوبائی عصبیتوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ بطور قوم ہمیں اس سے متنبہ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو امن کی ضرورت ہے۔ یہ پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دہشت گردی کے خلاف وحدتِ فکر وعمل ناگزیر ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہندُستان کے ایک سہمے ہوئے ناگرک کا نریندر مودی کو کھلا خط

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔