’ینگ ڈاکٹرز‘


ان دنوں ڈاکٹرز کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے۔ یہ ڈاکٹرز کا ایک گروہ ہے جو خود کو ‘ینگ ڈاکٹرز‘ کہتے ہیں۔
اس سے پہلے توہم یہ جانتے تھے کہ ڈاکٹر ڈاکٹرہوتا ہے، اس میں عمر کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یوں بھی ڈاکٹر کے ساتھ کسی صفت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ مثال کے طور پرکسی ڈاکٹر کو انسان دوست کہنا ایسے ہی لگتا تھا جیسے کسی مومن کو صاحبِ ایمان کہنا۔کوئی صاحب ِایمان ہے تب ہی مومن ہوگا۔ اسی طرح کوئی انسان دوست ہوگا تب ہی ڈاکٹر ہوگا۔ بعض جزوی مماثلتوں کے باجود، ڈاکٹر کو کوئی قصاب نہیں کہتا تھا۔ لیکن یہ سب پرانی باتیں ہیں۔ اب ڈاکٹرز کا ایک گروہ وجود میں آگیا ہے جوخود کو ‘ینگ ڈاکٹرز‘کہتا ہے۔ اپنی بعض صفات کے ساتھ ، یہ ڈاکٹرز کے معلوم قبیلے سے مختلف کوئی گروہ ہے۔
‘ینگ ڈاکٹرز‘ کی وہ کیا خصوصیات ہیں جو انہیں ڈاکٹرز کے قبیلے سے ممتاز کرتی ہیں۔گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے واقعات پر نظر دوڑائیں تو انہیں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جیسے یہ وہ گروہ ہے جو جب چاہے مریضوں کا علاج کرنے سے انکارکر دے۔ لوگ مر رہے ہیں تو مرتے رہیں۔ رل رہے ہیں تو رلتے رہیں۔ اس گروہ کو کسی کی پروا نہیں۔ یا جو جب چاہے مریض کے تیمارداروںکو پھینٹی لگا دے۔ چونکہ’ینگ‘ ہیں اس لیے جسمانی طاقت اور جذبات کی افراط ہے۔ اگر اللہ نے یہ قوت بخشی ہے تو اس کو استعمال نہ کرنا کفرانِ ِنعمت ہو سکتا ہے۔ اس گناہ سے بچنے کا اس سے سہل طریقہ کیا ہے کہ وہ مجبور جو اپنے عزیزوں کی صحت کے لیے پریشان آپ کے پاس آتے ہیں، ان کی ٹھکائی کر دی جائے۔ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ ہے کہ ہسپتال کا ماحول پرامن رہتا ہے۔ ایک تیر میں دوشکار۔ شکرانِ نعمت کے ساتھ سماجی خدمت بھی۔ ‘بوڑھے‘ ڈاکٹروں کو یہ توفیق کہاں نصیب ہوئی تھی!
ان کی ایک خصوصیت اور بھی ہے۔ یہ ہے دھرنا دینا۔ اِن کا سیاسی شعور بھی پختہ ہو رہا ہے۔ معترضین شکوہ کرتے ہیں کہ مریض ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہوتے ہیں اور یہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی دینے کے بجائے، سڑکوں پہ دھرنے دیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ کچھ کم نظر ہیں جن کی بات توجہ کی مستحق نہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ‘ینگ‘ ڈاکٹرز کا سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ان میں اپنے حقوق کے لیے لڑ مرنے کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔ اتنی بڑی کامیابی(achievement) کے بدلے میں اگر چند انسانی جانیں چلی جاتی ہیں تو یہ خسارے کا سودا نہیں۔کیا دنیا میں کوئی انقلاب انسانی جانوں کی قربانی کے بغیر نہیں آیا۔ ڈاکٹرز کو داد دیجیے کہ انہوں نے احتجاجی سیاست کو ایک نیا انقلابی رنگ دیا ہے۔ ماضی میں انقلاب کے لیے انقلابی اپنی جان دیتے تھے۔ ‘ینگ‘ ڈاکٹرز دوسروں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں۔ یوں ایک طرف انقلاب کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور دوسری طرف ینگ ڈاکٹرزکی جان بھی محفوظ رہتی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز قوم کا اثاثہ ہیں۔ اس اثاثے کو محفوظ رکھنا کیا کم خدمت ہے؟ جو خادمِ اعلیٰ یہ سادہ بات نہ سمجھ سکے، وہ کہاں کاخادم!
‘ینگ ڈاکٹرز‘ نے ایک اور قومی خدمت بھی سرانجام دی ہے جس کا کم فہم لوگ ادراک نہیں کر سکے۔ انہوں نے ڈاکٹر کی تعریف ہی بدل ڈالی ہے۔ یہ طب کی دنیا میں کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ مغرب میں ڈاکٹرز نے بڑی بڑی دریافتیں کی ہیں۔ ان امراض کا علاج ڈھونڈ نکالا ہے جو صدیوں تک لاعلاج سمجھی جا تی رہی ہیں۔ ایسی ایسی ادویات ایجاد کی ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو خطرات سے نکال دیا ہے۔ یہ صبح سے شام، اپنی ضرویات سے بے نیاز، صرف اس کام میں جتے رہتے ہیں کہ کس طرح انسانوں کو امراض کے دکھوں سے نجات دلا سکیں۔
ہم ان کی خدمات کے معترف ہیں لیکن ان میں سے کوئی یہ انقلاب آفریں کام نہیں کر سکا کہ ڈاکٹر کی تعریف ہی بدل ڈالے۔ یہ سارے کام اس تعریف کے تحت ہوتے ہیں کہ ‘ڈاکٹرز کا کام انسانوں کی خدمت ہے۔ جو آدمی اس شعبے کا انتخاب کرے، اس پر واضح ہونا چاہیے کہ اس کی پہلی ترجیح،اس کی ذات نہیں، وہ مریض ہے جو صحت کی امید لیے اس کے پاس آتا ہے۔ ڈاکٹر وہی ہے جو مریض کے لیے اپنی خوہشات اور بھوک پیاس جیسے فطری مطالبات کو تج کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ‘ینگ ڈاکٹرز‘ نے اس تعریف کو بدل ڈالا ہے۔ انہوں نے طب کی تاریخ کو ڈاکٹر کی ایک نئی تعریف سے روشناس کرایا ہے۔
انہوں نے زبانِ حال سے بتایا ہے کہ ”ڈاکٹر بھی ایسا ہی ایک پیشہ ہے جیسے مثال کے طور پر آئی ٹی۔ لوگ طب کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ اپنا کیریئر بنائیں۔ انسان دوستی، مریض کی خدمت یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں جو بوڑھے ڈاکٹرز کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہیں۔ ڈاکٹری مریض کے لیے اپنی ذات کو بھلانا نہیں، یاد رکھنا ہے۔ مریض ڈاکٹر کے لیے ایک ‘کلائنٹ‘ ہے جیسے وکیل کے لیے اس کا موکل۔ یہ اپنی زندگی کو پرآسائش بنانے کا ایک ‘موقع‘ ہے۔ ایسے موقعے کو ضائع کرنا حماقت ہے۔ ڈاکٹرز کو اپنی مراعات پر ساری توجہ مرتکز رکھنی چاہیے۔ اس کے لیے ہڑتال کرنی چاہیے۔ اگرکوئی اینٹی کرپشن کا اہلکار آجائے تو سب کو مل کر اس کی مرمت کرنی چاہیے تاکہ کوئی سرکاری کارندہ دوبارہ اس طرف کارخ نہ کرے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹرز کی ایک تنظیم ہونی چاہیے جیسے کوئی ٹریڈ یونین ہوتی ہے۔ اس تنظیم کو دھرنوں، ہڑتالوں وغیرہ کے ذریعے ‘ینگ ڈاکٹرز‘ کی تربیت کرنی چاہیے کہ کس طرح اپنے حقوق حاصل کیے جاتے ہیں‘‘۔
کیا آپ ڈاکٹر کی اس تعریف سے پہلے واقف تھے؟ اگر نہیں تو ینگ ڈاکٹرز نے آپ کے علم میں اضافہ کیا ہے۔ اب آپ اقوام ِعالم میں اپنا سر فخر کے ساتھ بلند کر سکتے ہیں۔ اگر کسی مجلس میں کوئی امریکی، برطانوی یا کسی اور لادین ملک کا شہری اپنے ڈاکٹرز کے ایثار، جاں فشانی اور انسانیت دوستی کا ذکر کرے تو آپ بھی اسے منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ آپ اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں کہ خود کو ماڈرن کہتے ہیں اور ابھی تک ڈاکٹر کی صدیوں پرانی تعریف پر اڑے ہوئے ہیں۔ آپ انہیں بتا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں طب کا علم کتنا آگے جا چکا ہے۔ ہمارے ینگ ڈاکٹرز نے اس علم کی ہیت ہی تبدیل کر دی ہے۔ بڑے آئے خود کو ماڈرن سمجھنے والے! یقیناً اس دندان شکن جواب پر امریکی اور ترقی یافتہ کہلوانے والے اپنا منہ چھپاتے پھریں گے۔
‘ینگ ڈاکٹرز‘ کی دریافت کے بعد،کیا آپ اب بھی اپنے بچے کوڈاکٹر بنانا چاہیں گے؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو آپ مطمئن رہیے۔ آپ کے بچے کا مستقبل روشن ہے۔’ینگ ڈاکٹرز‘ نے جینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے جان لیا ہے کہ سب پیشے ایک جیسے ہوتے ہیں۔کسی کے ساتھ کوئی تقدس وابستہ نہیں۔ انسانیت دوستی جیسے الفاظ اب متروک ہو چکے۔ اب ہر علم کی منزل ایک ہے: ‘اچھا کیریئر‘۔ جب سے تعلیم کاروبار بنا ہے،اس میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ آپ تعلیم خریدتے ہیں تاکہ کل اسے مہنگے داموں بیچ سکیں۔
ایک بات البتہ پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ جو ڈاکٹر سرکاری میڈیکل کالجوں میںپڑھا ہے، جس پر عوام کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے ہیں، وہ جب ہڑتال کرتا ہے اور اس کی نتیجے میں ایک عام شہری جان سے جاتا ہے جس کے ٹیکس پر وہ ڈاکٹر بنا ہے تو اس کا ضمیر اسے کچوکے لگا سکتا ہے۔ اُسے کسی خلش میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ضمیر تو اس دن مر گیا تھا جب ہم نے ڈاکٹر کی نئی تعریف ایجادکی تھی۔ ایک مردے سے کیسا خوف؟

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “’ینگ ڈاکٹرز‘

  • 27-02-2017 at 1:11 pm
    Permalink

    حقیقت امر یہ ہے کہ ہماری اسکول کی کلاس کا ٹاپر جو اب ڈاکٹر ہے ، اکثر دوسرے ہم جماعتوں سے ( جو ڈاکٹر نہیں بن سکے ) کم پیسے کما رہا ہے . ٣٣ سال کی عمر میں ایک شادی شدہ ڈاکٹر اگر ستر ہزار تنخواہ لے رہا ہے تو گزارا مشکل ہو جاتا ہے . ڈاکٹروں کا سروس اسٹرکچر کا مطالبہ جائز ہے .

Comments are closed.